ملتان :  انجمن تاجران خان پلازہ کینٹ کے سینئر تاجر و سماجی رہنما اور متاثرہ شہری ملک گل نوید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے 12 کروڑ روپے مالیت کی قیمتی زرعی اراضی کے مبینہ فراڈ کیس میں انصاف کے لئے دربدر ہیں،انہوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے تین مرکزی ملزمان کی ضمانتیں منسوخ ہونا انصاف کی فراہمی کی جانب اہم پیش رفت ہے، تاہم ابھی تک ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہ آنا تشویشناک ہے،انہوں نے اربابِ اختیار، وزیراعلیٰ پنجاب اور ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن سے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ انہیں انصاف مل سکے اور مبینہ طور پر جعلسازی کے ذریعے منتقل کی گئی اراضی واپس دلائی جا سکے،متاثرہ شہری ملک گل نوید کے مطابق انہوں نے سال 2020-2021 کے دوران موضع چک ماہنی، تحصیل و ضلع ملتان میں واقع تقریباً 108 کنال زرعی اراضی محمد صالح خان خاکوانی اور محمد طیب خان خاکوانی سے اقرار نامہ و بیع نامہ کے ذریعے خرید کی تھی، جس کی مالیت تقریباً 12 کروڑ روپے بنتی ہے،انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعد ازاں مبینہ طور پر وثیقہ نویس خرم شہزاد، دفتر سب رجسٹرار سٹی ملتان کے بعض اہلکاروں، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ سٹی اور دیگر افراد نے ملی بھگت سے جعلی بیع نامے، پنچ نامے اور انتقالات تیار کر کے مذکورہ اراضی دیگر افراد کے نام منتقل کر دی، اینٹی کرپشن کی انکوائری میں متعلقہ رجسٹریوں کے چالان جعلی پائے گئے جبکہ سرکاری ریکارڈ اور دستخط بھی مشکوک قرار دیئےگئے،بعد ازاں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب ملتان نے مقدمہ نمبر 04/2026 بجرائم دفعات 420، 468، 471 تعزیراتِ پاکستان اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت درج کر لیا۔کیس کی سماعت کرتے ہوئے سپیشل جج اینٹی کرپشن کورٹ ملتان نے حالیہ سماعت کے دوران تین مرکزی ملزمان آصف نواز کلاسرہ، عاشق حسین بھٹی اور عبد الکلام کی ضمانتیں منسوخ کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کے احکامات جاری کئے ہیں،استدعا ہے کہ انہیں فوری گرفتار کرکے انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ان کی دادرسی کی جائے ۔اینٹی کرپشن حکام کے مطابق کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور شواہد کی بنیاد پر مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔