بورے والا کے شہری پٹوارخانہ پر پرائیویٹ منشیوں کا راج
بورےوالا : بورے والا کے شہری پٹوارخانہ پر پرائیویٹ منشیوں کا راج آج بھی قائم ہے۔ایک پٹواری کے پاس3 سے 4 منشی موجیں کرتے دکھائی دیتے ہیں,جنہوں نے حلقہ پٹوار کے مختلف علاقوں میں دفاترکھول کر معاملات طے کرنے شروع کر رکھے ہیں,سائلین کا پٹواری طاہر نزیربھٹی سے ملنا مشکل ہو کر رہ گیاہے،پٹواری اپنے مخصوص افراد سے ملتے ہیں اور سائلین کو ٹیلیفون پر ہی بات کرکے ٹال دیتے ہیں،جبکہ بعض پٹواریوں نے فون سننے کے لئے بھی ملازم بھرتی کررکھے ہیں،قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں جہاں ایک سرکاری ملازم کو اپنی تنخواہ سے گھر کا گزارہ مشکل ہوگیا ہے وہاں ان پٹواریوں نے 3سے4 پرائیویٹ منشی رکھے ہوئے ہیں۔جن کی تنخواہ بھی حلقہ پٹواری ہی ادا کرتا ہے جو کہ یقیناٙٙغریب شہریوں کی ہی جیب سے دئیے جاتے ہیں جس کو عام الفاظ میں رشوت کہتے ہیں اور میرے خیال سے یہ رقم کرپشن کے زمرے میں آتی ہے۔ذرائع کے مطابق ان کے منشی بھی بااختیار ہیں جو پٹواری کے دستخط کرکے فرد،جعلی انتقال اور سکنی رقبہ جات کو زرعی میں رجسٹریاں و انتقالات وغیرہ جاری کر دیتے ہیں،جبکہ مختلف حلقوں میں تعینات پٹواریوں نے پٹوار خانے مختلف مُحلوں اور گلیوں میں بنا رکھے ہیں،جو عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں،شہری تحصیل آفس جاتے ہیں تو ان کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے حلقے کے پٹواری کا دفتر یہاں نہیں ہے اور یہ شہری ٹاؤٹ مافیاکے ہتھے چڑھ جاتا ہے،کیا لاکھوں روپے کی رشوت وصول کرنے والے پٹواری افسران سے بالا تر ہیں, بڑے سے بڑے افسران پٹواریوں کو تبدیل نہیں کرسکتے۔ ہائیکورٹ کی طرف سے حکم نامہ جاری کیا گیا کہ پٹواریوں کو غیر سرکاری عمارتوں میں دفتر اور پرائیویٹ منشی رکھنے پر سخت پابندی ہے,جبکہ بااثر پٹواریوں نے ہائیکورٹ کے حکم کو ہوا میں اڑاتے ہوئے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ہر ایک پٹواری نے 2 سے 3 ملازم رکھے ہوئے ہیں اور دفاتربھی نجی عمارتوں میں قائم کررکھے ہیں ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو بھی ہدایت جاری کی گئیں کہ پٹوار خانے سرکاری عمارتوں میں منتقل کئے جائیں۔ہائیکورٹ کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن کو بھی ہدایت جاری کی جاچکی ہیں مگر ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرواناحکومت کے بس میں نہیں،بااثر پٹواری دیدہ دلیری سے دفاتر اور پرائیویٹ منشی رکھ کر کام کروارہے ہیں اور بھاری رشوت وصول کر رہے ہیں.ذرائع کے مطابق ان پرائیویٹ منشیوں نے بڑی بڑی کوٹھیاں،لگژری گاڑیاں،بے نامی جائیداریں بنارکھی ہیں،ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ہر نئی بننے والی ہاؤسنگ سوسائٹی میں حلقہ پٹواری اور متعلقہ ادارے کو تحفے میں دس مرلے سے ایک کنال تک کا پلاٹ گفٹ کیا جاتا ہےجو کہ ظاہری طور پر ہاؤسنگ سوسائٹی کے ہی نام رہتا ہے،ساہیوال میں مختلف حلقوں کے پٹواریوں کے خلاف کرپشن کرنے،جعلی رجسٹری و انتقال کرنے اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے خلاف انکوائریاں چل رہی ہیں مگر یہ پٹواریاں پھر بھی کرپشن سے باز نہیں آرہیے،وزیر اعلیٰ پنجاب ،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو،ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب،کمشنرملتان ڈویژن،ڈپٹی کمشنر وہاڑی سے شہریوں کی اپیل ہے کہ ان کرپٹ پٹواریوں اور پرائیویٹ منشیوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے،سرکاری خزانے کی تمام رقم خزانے میں دوبارہ جمع کروائی جائے




































Visit Today : 390
Visit Yesterday : 563
This Month : 3117
This Year : 66836
Total Visit : 171824
Hits Today : 2187
Total Hits : 903762
Who's Online : 9






















