مزدور کے دن کب بدلیں گے؟
مزدور کے دن کب بدلیں گے؟
تحریر:ایس پیرزادہ
ہر سال یکم مئی کو دنیا بھر میں یومِ مزدور منایا جاتا ہے پاکستان میں بھی گزشتہ78 برسوں سے اس دن کی اہمیت پر زور دیا جاتا رہا ہے جلسے ہوتے ہیں ریلیاں نکالی جاتی ہیں اور حکومتی سطح پر یہ بیانات دہرائے جاتے ہیں کہ مزدور ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا کبھی اس ریڑھ کی ہڈی کو سہارا دینے کی سنجیدہ کوشش بھی کی گئی؟ یا یہ دن صرف اخباری بیانات اور سرکاری فائلوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے؟ یومِ مزدور ہمیں اُن محنت کشوں کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنے حقوق کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کیے یہی مزدور ہیں جو صبح سے شام تک مشقت کرتے ہیں کھیتوں کو سرسبز بناتے ہیں، عمارتیں تعمیر کرتے ہیں صنعتوں کا پہیہ چلاتے ہیں مگر ان کے اپنے گھروں میں بھوک محرومی اور بے بسی بسیرا کیے رکھتی ہے ان کے بچے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور وہ خود چھت صحت اور تحفظ جیسی ضروریات کے لیے ترستے ہیں ان کی زندگی سراپا جدوجہد ہے اور یہی جدوجہد ان کا اصل حسن ہے کیا ہم نے واقعی کبھی ان کی عظمت کو تسلیم کیا؟ حکومتیں کم از کم اجرت مقرر کرنے اور لیبر قوانین بنانے کے دعوے تو کرتی ہیں مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے نجی اداروں اسکولوں اور کارخانوں میں ہزاروں مزدور آج بھی اُس اجرت سے محروم ہیں جس کا اعلان کیا جاتا ہے بے شمار مزدور ایسے ہیں جنہیں نہ قانونی تحفظ حاصل ہے اور نہ ہی کوئی ایسا پلیٹ فارم جہاں وہ اپنی شکایت درج کرا سکیں یہ مسائل صرف معاشی نہیں بلکہ ایک گہری سماجی اور قانونی ناکامی کی عکاسی بھی کرتے ہیں
بطور ایک خاتون میں خود کئی برسوں سے ورک پلیس ہراسمنٹ کا سامنا کر رہی ہوں میں نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا ہر فورم پر آواز اٹھائی یہ ایک اذیت ناک سفر ہے مگر میں نے ہمت نہیں ہاری یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب کوئی خاتون لڑکی یا بچی ورک پلیس ہراسمنٹ کے خلاف آواز بلند کرتی ہے تو انصاف دینے کے بجائے اُسے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے انکوائریوں سے بچنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں جھوٹے الزامات کردار کشی کراس ریلیشن کے بے بنیاد دعوے جھوٹی ایف آئی آرز اور مسلسل ذہنی دباؤ اداروں میں انصاف کا نہ ہونا ایک المیہ بن چکا ہے انکوائریاں منظرِ عام پر نہیں آتیں کیسز کو دبا دیا جاتا ہے اور متاثرہ خواتین کو ہی قصوروار ٹھہرانے کی کوشش کی جاتی ہے اس سے بھی بڑھ کر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایسے مجرموں کو بچانے کے لیے ایک سیاسی اور مفاد پرست ٹولہ ان کا ساتھ دیتا ہے جو انصاف کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے میں ہر اُس عورت کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں
تم اکیلی نہیں ہو آواز بلند کرو سچ کے ساتھ کھڑی ہو جاؤ ظلم کے آگے جھکنا مت سیکھو
اور ہمیں یہ یقین رکھنا چاہیے کہ
سچ کی جیت ہو کر رہتی ہے اسے ہرایا نہیں جا سکتا ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پاس پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن (PUWF) جیسا ادارہ موجود ہے جو مزدوروں کے حقوق کے لیے عملی جدوجہد کر رہا ہے یہ ادارہ نہ صرف مزدوروں بلکہ خواتین محنت کشوں گھریلو ملازماؤں بھٹہ مزدوروں اور ہوم بیسڈ ورکرز کے مسائل کو بھی اجاگر کر رہا ہے وہ بھی بغیر کسی ذاتی یا سیاسی مفاد کے
لیکن سوال آج بھی وہی ہے مزدور کے دن کب بدلیں گے؟ کیا یہ دن صرف تقاریر نعروں اور علامتی واکس تک محدود رہے گا؟ یا ہم اسے ایک حقیقی تحریک میں بدل سکیں گے؟ وقت آ چکا ہے کہ محنت کش طبقے کو وہ مقام دیا جائے جس کے وہ حقیقی حقدار ہیں صرف کاغذوں میں نہیں بلکہ عملی طور پر
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ
کم از کم اجرت موجودہ مہنگائی کے مطابق بڑھا کر 80 ہزار روپے مقرر کی جائے سوشل سیکیورٹی اور ای او بی آئی کے نظام کو مؤثر بنایا جائے کنٹریکٹ اور تھرڈ پارٹی ملازمت کا خاتمہ کیا جائے چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کا مکمل خاتمہ کیا جائے گھریلو زرعی تعمیراتی اور ہوم بیسڈ ورکرز کو قانونی تحفظ دیا جائے
ٹریڈ یونینز کی آزادی اور مزدوروں کے حقِ تنظیم سازی کو یقینی بنایا جائے یومِ مئی ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ حقوق مانگنے سے نہیں بلکہ جدوجہد سے حاصل کیے جاتے ہیں سرخ پرچم آج بھی ہمیں اتحاد استقامت اور مزاحمت کی دعوت دیتا ہے کہ ہم ظلم استحصال اور ناانصافی کے خلاف متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں
خون پسینے کی قیمت نہ پوچھی کبھی کسی نے یہ مزدور ہر دور میں صرف وعدے سنتا آیا
ہم نے مزدور کے پسینے میں خواب دیکھے ہیں
یہ وہ چراغ ہے جو خود جل کے روشنی دیتا ہے
یہ تحریر ایک سوال بھی ہےںایک فریاد بھی اور ایک امید بھی کہ شاید وہ دن ضرور آئے گا جب مزدور کا دن واقعی بدلے گا اور وہ دن تب بدلے گا جب ہم سب مل کر اٹھ کھڑے ہوں گے





































Visit Today : 243
Visit Yesterday : 0
This Month : 243
This Year : 63962
Total Visit : 168950
Hits Today : 1031
Total Hits : 872845
Who's Online : 5



















