پروٹوکول کی سیاست — قائم مقام صدر کی آمد اور عوامی اذیت
پروٹوکول کی سیاست — قائم مقام صدر کی آمد اور عوامی اذیت
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
ملتان ایک بار پھر وی وی آئی پی کلچر کی لپیٹ میں آ گیا، مگر
اس بار معاملہ مزید دلچسپ بھی ہے اور تشویشناک بھی۔ یوسف رضا گیلانی جو بطور چیئرمین سینیٹ قائم مقام صدر کے فرائض انجام دے رہے ہیں، کی ملتان آمد نے ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ آخر پروٹوکول کس کیلئے ہوتا ہے—ریاست کیلئے یا عوام کی قیمت پر؟
قائم مقام صدر کی آمد پر ملتان کینٹ اور دیگر اہم شاہراہوں کو گھنٹوں کیلئے بند کر دیا گیا۔ سیکیورٹی کے نام پر پورا شہر مفلوج ہو کر رہ گیا۔ ٹریفک پولیس، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر وی وی آئی پی پروٹوکول میں مصروف دکھائی دیے، جبکہ عام شہری سڑکوں پر خوار ہوتے رہے۔ یہ وہی شہری ہیں جن کے ٹیکسوں سے یہ نظام چلتا ہے، مگر انہی کو سب سے آخر میں رکھا جاتا ہے۔
سب سے افسوسناک پہلو وہ مناظر تھے جہاں ایمبولینسز ٹریفک میں پھنسی رہیں۔ مریضوں کی زندگی خطرے میں پڑی رہی، مگر پروٹوکول کے آگے سب کچھ بے معنی دکھائی دیا۔ ایک طرف ریاست انسانی جان کے تحفظ کی بات کرتی ہے، دوسری طرف اسی ریاست کے اقدامات انسانی جانوں کیلئے خطرہ بن جاتے ہیں۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟
یہ صورتحال صرف ایک دن یا ایک شخصیت تک محدود نہیں۔ پاکستان میں وی وی آئی پی کلچر ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔ جب بھی کوئی بڑی شخصیت کسی شہر کا دورہ کرتی ہے، پورا نظام عوام کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔ سڑکیں بند، کاروبار متاثر، طلبہ پریشان، اور مزدور بے روزگار—یہ سب ایک “پروٹوکول” کی قیمت ہے جو عوام ادا کرتی ہے۔
قائم مقام صدر کی حیثیت سے یوسف رضا گیلانی کی آمد یقینا ایک آئینی عمل ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا آئین عوام کو تکلیف دینے کی اجازت دیتا ہے؟ کیا سیکیورٹی کے نام پر پورے شہر کو مفلوج کرنا ضروری ہے؟ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی سربراہانِ مملکت کی سیکیورٹی یقینی بنائی جاتی ہے، مگر وہاں عوام کو اس طرح اذیت میں مبتلا نہیں کیا جاتا۔
اصل مسئلہ سوچ کا ہے۔ ہمارے ہاں پروٹوکول کو عزت اور طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ عوام اور حکمران کے درمیان فاصلے کو بڑھاتا ہے۔ جب ایک حکمران کی آمد کیلئے ہزاروں افراد کو تکلیف دی جائے، تو یہ واضح پیغام ہوتا ہے کہ عوام کی اہمیت کم ہے۔
ملتان جیسے شہر میں جہاں ٹریفک کا نظام پہلے ہی مسائل کا شکار ہے، ایسے اقدامات جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہیں۔ گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہنے والے افراد نہ صرف ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں بلکہ ان کی روزمرہ زندگی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ایک مزدور جو روزانہ کی بنیاد پر کماتا ہے، اس کیلئے چند گھنٹوں کی بندش بھی نقصان کا باعث بنتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ متعلقہ ادارے اس صورتحال کو “کامیاب پروٹوکول” قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک سب کچھ ٹھیک ہوتا ہے کیونکہ وی وی آئی پی محفوظ رہا، مگر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اس دوران عوام پر کیا گزری۔ کوئی اعداد و شمار نہیں کہ کتنے مریض متاثر ہوئے، کتنے افراد کو نقصان اٹھانا پڑا، اور کتنی پریشانیاں پیدا ہوئیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس فرسودہ پروٹوکول کلچر پر نظرثانی کی جائے۔ جدید دور میں ایسے کئی طریقے موجود ہیں جن کے ذریعے سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے عوام کو مشکلات سے بچایا جا سکتا ہے۔ ٹریفک کو مکمل بند کرنے کے بجائے جزوی کنٹرول، متبادل راستوں کی فراہمی، اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔
قائم مقام صدر اور دیگر اعلیٰ حکام کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ عوامی خدمت ہی اصل طاقت ہے۔ اگر عوام ہی پریشان ہوں گے تو پروٹوکول کی یہ چمک دمک بے معنی ہو جائے گی۔ ایک سادہ سفر، کم پروٹوکول، اور عوام کے درمیان رہنا ہی اصل قیادت کی نشانی ہے۔
میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی اس مسئلے پر آواز بلند کرنی ہوگی۔ جب تک عوامی دباؤ نہیں بڑھے گا، اس نظام میں تبدیلی مشکل ہے۔ ہر بار چند گھنٹوں کی تکلیف کو معمول سمجھ کر نظرانداز کرنا دراصل ایک بڑے مسئلے کو تقویت دینا ہے۔
آخر میں یہی کہنا مناسب ہوگا کہ ریاست کی اصل طاقت عوام ہوتی ہے، نہ کہ پروٹوکول۔ اگر حکمران واقعی عوام کے نمائندے ہیں تو انہیں عوام کی سہولت کو ترجیح دینی چاہیے، نہ کہ اپنی آمد و رفت کیلئے پورے شہر کو بند کرنا چاہیے۔
یہ وقت ہے سوچ بدلنے کا۔ ورنہ پروٹوکول کا یہ بوجھ عوام کو مزید دباتا رہے گا، اور حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھتے رہیں گے۔





































Visit Today : 255
Visit Yesterday : 0
This Month : 255
This Year : 63974
Total Visit : 168962
Hits Today : 1101
Total Hits : 872915
Who's Online : 4



















