مرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے رات 8 بجے دکانیں بند کرنے کے حکومتی فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ، مرکزی قیادت کا اسلام آباد میں ہنگامی اجلاس طلب
ملتان : مرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے رات 8 بجے دکانیں بند کرنے کے حکومتی فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور آ ئندہ چند روز میں مرکزی قیادت کا اسلام آباد میں ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے جس میں آ ئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی اس سلسلے میں مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی، مرکزی سنیئر وائس چیئرمین شیخ اکرم حکیم، مرکزی سنیئر نائب صدر حاجی بابر علی قریشی،جنوبی پنجاب کے صدر شیخ جاوید اختر نے کہا کہ سٹیک ہولڈرزکو اعتماد میں لئے بغیر مارکیٹیں اور ریسٹورینٹ رات ساڑھے 8 بجے اور شادی ہالز رات 10 بجے بند کرنے کے وفاقی کابینہ کے فیصلے کوایک بار پھر مستر د کرتے ہوئے اتحادی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ وطن عزیز کے معاشی حالات پہلے ہی حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے خطرناک ہو چکے ہیں اور حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ایسے اقدامات کررہی ہے، ملکی معاشی حالات ایسے اقدامات کے متحمل نہیں ہیں کہ مارکیٹ ساڑھے آٹھ بجے بند کی جائیں، ہم نے تاجروں کے حقوق کے تحفظ کا عہد کر رکھا ہے اور اپنے تاجروں کے حقوق پر کسی کو ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے،حکومت کو الٹی میٹم دیتے ہیں کہ ان تاجر دشمن فیصلوں کو واپس لیں وگرنہ ملک بھر کے تاجر پہیہ جام کر دیں گے اور اگر اس دوران تاجروں کو ڈرانے کی کوشش کی گئی یا طاقت کے زور پر کاروبار بند کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم چپ نہیں بیٹھیں گے منگل کو وفاقی کابینہ اجلاس میں مارکیٹیں رات ساڑھے آٹھ بجے اور شادی ہالز رات دس بجے بند کرنے کے فیصلے پر اپنے شدید ردعمل میں خواجہ سلیمان صدیقی ے کہا کہ ہم نے پہلے بھی حکومت کو خبر دار کیا تھا کہ ایسے اقدامات نہ کیے جائیں جس سے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچے لیکن حکومت نے پھر ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جو ملکی معیشت کیلئے زہر قتل کے مترادف ہیں،ماضی میں بھی توانائی بچت کے ایسے نمائشی اقدامات کیے گئے لیکن ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوا البتہ ایسے فیصلوں سے تاجروں کے ساتھ معیشت کو نقصان پہنچایا گیا۔حکومتیں اپنی ناکامیاں چھپانے کیلئے اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں اور معیشت کی زوال پذیرائی کا باعث بنتی ہیں،حکومت کو توانائی بچت کیلئے اپنے شاہانہ طرز حکومت کو تبدل چاہئے،سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کو محدود کرنا چاہئے ناکہ تاجروں کا گلہ کاٹنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بدترین معاشی حالات میں کاروبار جلد بند کرنا کروڑوں خاندانوں کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔حکومت اپنے من مانے فیصلے تاجروں اور عوام پر تھوپنے کے بجائے سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیکر فیصلے کرتی تو درمیانی راستہ نکل سکتا تھا دو ہفتے قبل بھی وفاقی کابینہ میں یہ معاملہ اٹھایا گیا تو ہم نے بطور سٹیک ہو لڈر پہلے بھی متنبہ کیا تھا اور اب بھی کہہ رہے ہیں کہ حکومت معاشی بحالی کیلئے تاجر تنظیمات سے مشاورت کرے اور وفاق، صوبوں کی لڑائی میں تاجروں کو تختہ مشق بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے ضلعی صدر سیدجعفر علی شاہ، ملتان کے صدر خالد محمود قریشی،ملتان کے جنرل سیکرٹری مرزا نعیم بیگ،جنوبی پنجاب کے سنیئر نائب صدر حاجی ندیم قریشی، جنوبی پنجاب کے جنرل سیکرٹری ذیشان صدیقی، گلشن مارکیٹ نیو ملتان کے صدر راؤ لیاقت علی نے کہاکہ حکومت کی جانب سے رات 8 بجے دکانیں بند کرنے کے فیصلے کے اعلان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملتان سمیت ملک بھر کے لاکھوں چھوٹے تاجر 6۔6 گھنٹے سے زائد تک بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ اور بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی نے تجارتی و کاروباری مراکز میں ویرانی کا سماں پیدا کردیا ہے اوپر سے یہ ستم کہ کمرشل بجلی یونٹ 80 روپے تک میسر ہو رہا ہے لیکن دوسری جانب میپکو ملازمین بھاری بھرکم تنخواہیں لیتے ہیں لیکن لاکھوں بجلی کے یونٹس فری حاصل کرتے ہیں اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی نہیں کرتے ایسے دہرے معیار کو ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ فی الفور ازخود نوٹس لے بجلی کے بھاری بھرکم بلز غریب عوام تو ادا کرے لیکن میپکو ملازمین مفت بجلی حاصل کریں خواجہ سلیمان صدیقی نے کہا کہ سارا سارا دن بجلی نہ ہونے کی وجہ سے تجارتی و صنعتی مراکز میں کاروبار زندگی معطل ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے ملک بھر کے 60 لاکھ سے زائد چھوٹے تاجروں کے لیے دکانوں اور گھریلو اخراجات پورے کرنا انتہائی محال ہو گیا ہے حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور رات 8 بجے دکانیں بند کرنے کا فیصلہ واپس لے بصورت دیگر تاجر برادری راست اقدام پر مجبور ہو جائے گی انہوں نے کہا کہ تاریخ ساز معاشی بدحالی کے باوجود تاجر آ ئے روز نت نئے ٹیکسز بھریں یا بجلی کے بھاری بھرکم بلز بھریں تو گھریلو اخراجات کہاں سے پورے کریں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت غریب عوام کا معاشی قتل کرنے کی بجائے معاشی بدحالی اور آ ئی ایم ایف،ورلڈ بنک کے بھاری بھرکم قرضوں سے نجات کے لیے تمام محب وطن جمہوری قوتوں اور تجارتی تنظیموں کے نمائندگان کا مشترکہ اجلاس طلب کرے تاکہ وطن عزیز پاکستان معاشی طور پر ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو ایسا نہ ہو کہ ماضی کی طرح ایک بار پھر تاجر اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو جائیں



































Visit Today : 465
Visit Yesterday : 563
This Month : 3192
This Year : 66911
Total Visit : 171899
Hits Today : 2935
Total Hits : 904510
Who's Online : 5






















