سردار عمار خان لغاری کی تقریب ولیمہ
مسیح اللہ خان جام پوری
سال 2022ء کا آخری مہینہ دسمبر کی 28 تاریخ اس لحاظ سے مبارک ثابت ہوئی کہ اسی روز سردار فاروق احمد خان لغاری سابق صدر پاکستان کے صاحبزادے سردار اویس احمد خان لغاری لیڈر مسلم لیگ (ن) کے لخت جگر سردار عمار خان لغاری کی دعوت ولیمہ تھی ۔ رقم کافی دنوں سے علیل ہے، پی ٹی سی ایل کے افسر اطلاعات عامہ سید عمران گردیزی نے دس روز پہلے فون کیا، اطلاع دی آپ کا دعوت نامہ کہاں پیش کروں ، کافی گفتگو کے بعد طے پایا کہ ٹی ہائوس میں تشریف لائیں۔ دعوت نامہ حوالے کر دیا گیا، جب میں ٹی ہائوس پہنچا تو ٹی ہائوس کے معاون خصوصی کاشف صاحب نے پہنچتے ہی لفافہ تھما دیا،کھولا تو سردار اویس خان لغاری کی طرف سے عمار خان لغاری صاحب کی شادی کے موقع پر ولیمہ کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔ بڑی خوشی ہوئی عمران گردیزی سے عرض کیا میں تو سفر کے قابل نہیں ہوں ، کہنے لگے فون پر مبارکباد دیں اور اپنی معذرت بیان کریں۔ میں نے لغاری ہائوس چوٹی زیریں فون کیا، آپریٹر سے بات چیت ہوئی اور ان سے کہا سردار اویس خان لغاری صاحب کی خدمت میں ان کے صاحبزادے کی شادی کی مبارکباد پیش کریں، اس مسرت کے موقع پر اپنی حالت کے بارے میں بتایا ، فون کے بعد خیال دامن گیر رہا کہ مجھے شادی میں شرکت کرنی چاہئے، عزیز محترم خواجہ حبیب الرحمن ، میرے مہربان ظہور احمد دھریجہ صاحب دے ذکر کیا انہیں میری طبعی صورتحال اور حالات کا اندازہ تھا لہٰذا انہوں نے میرا حوصلہ بڑھایا اور کہا کہ آپ کا ان سے گہرا تعلق ہے ، آپ خود ضرور جائیں۔ پھر میں گھر لوٹا اپنے بیٹے عبداللہ خان کو راضی کیا بیٹے نے توجہ کی کارڈ کے مطابق صرف مدعو کو ہی دعوت ولیمہ میں شمولیت کی اجازت دی گئی تھی پھر فکر دامن گیر ہوئی کہ اچھا نہیں لگے گا کہ بیٹا باہر بیٹھا رہے اور میں تقریب میں شرکت کروں۔
عمران گردیزی سے بات کی ، انہیں اس صورتحال کے بارے میں بتایا تو گردیزی صاحب نے مجھے جمشید رضوانی کا راستہ دکھایا اور بتایا وہ بھی جائیں گے۔ میں نے جمشید رضوانی سے فون پر بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ابھی پروگرام حتمی نہیں ہوا جب ہوگا آپ سے بات کروں گا، میں اسی شش و پنج میں دو چار رہا کہ کیا کروں۔ پھر بیٹے عبداللہ خان کو تیار کیا ، اسی دوران جمشید رضوانی کا فون آ گیا ، کہنے لگے ہم جا رہے ہیں آپ کا کیا پروگرام ہے ، انہوں نے فرمایا ہماری گاڑی میں جگہ ہے آپ ہمارے ساتھ چلیں ، ادھر میں اپنے بیٹے کو تیار کر چکا تھا، میں نے ان سے معذرت کی ، دعا گو رہا اور رب کریم سے التجا کرتا رہا کہ صبح دھند نہ ہو، خوش اسلوبی سے سفر طے ہو۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا مبارک دعوت پر دعا قبول ہوئی ، صبح اُٹھے تو دیکھا سورج آنکھیں نکالے میدان میں ہے ، بیٹے کو بیدار کیا ، ساڑھے دس بجے چوٹی زیریں کیلئے روانہ ہوئے۔ فون پر پتہ چلا کہ جمشید رضوانی ، افتخار الحسن اور عمران گردیزی صاحبان بھی راستے میں ہیں ، کافی عرصہ بعد چوٹی زیریں جانا ہوا تھا، راستے بھول چکا تھا، بہرحال لوگوں کی رہنمائی میں چوٹی زیریں کا راستہ معلوم کیا، اسی پر عبداللہ خان نے گاڑی دوڑا دی ۔ بوسیدہ حال سڑک سے سفر کرتے رہے، جس راستے پر ہم جا رہے تھے اس پر گاڑیوں کا رش تھا ، ریڑھیوں، بیل گاڑیوں اور پیدل لوگوں کا الگ سلسلہ رواں دواں تھا۔ عبداللہ خان نے بتایا ہم درست سڑک پر سفر کر رہے ہیں، دیگر گاڑیاں بھی اسی دعوت میں شرکت کیلئے رواں دواں ہیں۔ اللہ کے فضل و کرم سے پونے دو بجے چوٹی زیریں پہنچے، وہاں گاڑیوں کا جم غفیر تھا ، چلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا، لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ تقریب کا مرکزی دروازہ سامنے ہے۔ چوک میں فاروق احمد خان لغاری کی قد آدم تصویر آویزاں تھی، ہم نے گاڑی پارک کی، عبداللہ خان نے میرا ہاتھ تھاما اور مرکزی دروازے کی طرف چل پڑے، تقریب میں پہنچے تو لوگوں کا جم غفیر تھا، گیٹ پر کارڈ چیک کئے جا رہے تھے ، میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ میرا بیٹا ہے میں ملتان سے آیا ہوں ، ان میں سے دو چار لوگوں نے پہچان لیا ، مجھے راستے دیا ،وہاں کوئی دھکم پیل نہیں تھی، میرا بیٹا میرا ہاتھ تھام کے مجھے اندر لے گیا، اندر ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی ۔
سردار اویس خان لغاری صاحب کا پتہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ سامنے لوگوں سے مبارکیں اور دعائیں وصول کر رہے ہیں، میں وہاں جا پہنچا ، سردار اویس خان لغاری صاحب نے انتہائی محبت اور احترام کے ساتھ گلے لگایا۔ میں نے اپنے بیٹے کا بھی تعارف کرایا ، انہوں نے پوچھا کیا کر رہے ہیں میرے بیٹے نے کہا کہ میں نے ایم سی سی اے کیا ہے، تو سردار صاحب نے فرمایا کہ آپ ملا کرو ، میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا کہ میں اجرکوں کا تحفہ اور سردار فاروق احمد خان لغاری جنت مکانی کی مزار پوشی کیلئے غلاف لایا ہوں ، انہوں نے میرا شکریہ ادا کیا کہ میں علالت کے باجود پہنچ گیا، بار بار اظہار محبت کرتے رہے ، کیونکہ لوگوں کا کافی رش تھا ، سردار اویس خان لغاری کے چہرے پر مسکراہٹ اور خوشیاں دھمال کھیل رہی تھیں، میں نے دولہے سردار عمار خان لغاری کے بارے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ سٹیج پر موجود ہیں ، آپ چلیں میں آ رہا ہوں۔ آگے بڑھا تو ملتان کی شان ناصر محمود شیخ صاحب کے چھوٹے بھائی اطہر محمود شیخ اپنے دوست کے ساتھ بغل گیر ہوئے، اپنے دوست سے میرا تعارف کرایا، بڑی خوشی ہوئی، ابھی ادھر سے فارغ ہوا تھا کہ لغاری خانوادے کے دوست محمد افضل خان ڈاہا اپنے صاحبزادے کے ہمراہ ملے اور بتایا کہ میرا بیٹا سردار عمار خان لغاری کا دوست ہے اور انہی کی زبانی معلوم ہوا میرے چچا زاد بھائی محبوب عالم صاحب بھی سامنے کرسی پر تشریف فرما ہیں۔
میں اُدھر جا رہا تھا تو جام پور کے معروف اخبار نویس ملک آصف حبیب جکھڑ سامنے آئے اور بغل گیر ہو لئے،ان کے ساتھ دوست قیوم ڈاہا بھی تھے، اسی دوران ایک اور اخبار نویس محمد حسین فریدی سے ملاقات ہو گی ، ڈیرہ غازی خان کے سردار محمود خان کے صاحبزادے سینئر اخبار نویس محمد اشرف بزدار بھی پہنچ گئے۔ سامنے میری نظر پڑی تو ملتان سے سابق گورنر رفیق رجوانہ ، سابق وزیر اعلیٰ سردار ذوالفقار خان کھوسہ، خواجہ عامر کوریجہ، سردار جمال خان چیف آف لغاری، سردار فاروق احمد خان چنگوانی، سخی سرور کے مصطفی دلبرانی، سردار اویس خان گورچانی، سردار اختر خان گورچانی سابق آئی جی ، مرزا میر تالپوراور درجنوں شخصیات سے ملاقات ہوئی۔ تقریب میں انتہائی نظم و ضبط کا مظاہرہ تھا، کسی کے منصب کا تو خیال رکھا جا رہا تھا لیکن یہ پروپیگنڈا جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوا کہ دعوت ولیمہ میں عام لوگوں کو مدعو نہیں کیا گیا۔ سینکڑوں لوگ ، عزیز و اقارب اپنے تعلق کی بنیاد پر موجود تھے، وافر مقدار میں کھانا سرو تھا۔ کھانے کی تقریب سے پہلے دعائے خیر کی گئی ، سردار جعفر خان لغاری کی صحت اور ملک و قوم کی خیر و برکت ، سردار اویس خان ، سردار عمار خان اور سردار جمال خان چیف آف لغاری کی صحت سلامتی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں، اسی دوران میں نے سردار اویس خان، سردار جمال خان ، سردار عمار خان ، سابق گورنر رفیق رجوانہ اور چیف آف گورچانی کو سرائیکی اجرک پہنائی۔ ایک خوبصورت اور خوشگوار تقریب کے اختتام پر روح پرور اور خوبصورت تاثر لے کر شرکاء اپنی اپنی منزل کو واپس روانہ ہوئے۔