ہائی کورٹ کے سامنے وکلاء کا احتجاج، بایومیٹرک ویری فیکیشن کے خلاف تحریک تیز کرنے کا اعلا ن
ملتان: عدالتوں میں سائلین کی بائیومیٹرک ویری فکیشن کے خلاف
وکلاءنےہائی کورٹ ملتان بنچ میں عدالتوں کے باہر احتجاجی مظاہرہ ودھرنا دیا، قیادت ہائی کورٹ بار ملتان کے سابق صدر و ایڈووکیٹ سپریم کورٹ سید ریاض الحسن گیلانی نے کی ،مظاہرے و دھرنے میں سابق صدور ہائی کورٹ بار سید اطہر حسن بخاری،عرفان وائیں اور چوہدری طاہر محمود،سابق صدر ڈسٹرکٹ بار وسیم ممتاز ،سابق صدر ڈسٹرکٹ بار ملک محبوب علی سندیلہ،محمدیوسف زبیر،سید ذاکر حسین نقوی،سید اقبال مہدی زیدی ،خالد فاروق خان ،سجاد حسین ٹانگرہ ،رانا عمردراز خان ، عابدبودلہ ،چوہدری اشرف ، بابر محمود افضل ،میڈم کوثر پروین ، میڈم میمونہ نقوی ، اعتزاز لطیف کھوکھر ،منورثاقب ،شیخ ارشد ، چوہدری عرفان سندھو، میڈم ثمینہ چغتائی،شمیم ہنجرا ،ثوبیہ اسلم ، ثوبیہ چوہان ،کنول اشرف ، طوبیٰ حمید ، شہزاد چغتائی،محمد اسلم راؤ،رانا خلیق ، اورنگزیت خان ،نعیم اللہ خان ڈومرا ، سرفرازخان ملیزئی سمیت ملتان بار کے وکلا کی بڑی تعداد نےشرکت کی ،وکلاء نے بائیومیٹرک تصدیق کے عمل کے خلاف نعرے بازی کی،وکلاء کے احتجاج و نعرہ بازی کے باعث عدالتی کام رک گیا ،وکلاکا کہنا تھا کہ عدالتوں میں سائلین کے لیے بائیومیٹرک ویری فکیشن کا نظام غیر ضروری مشکلات پیدا کر رہا ہے اور انصاف کے حصول کے عمل کو سست بنا رہا ہے، ہائی کورٹ بار ملتان کے سابق صدر و ایڈووکیٹ سپریم کورٹ سید ریاض الحسن گیلانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عدالتی پالیسیوں نے انصاف کے حصول کو مشکل بنا دیا ہے، جب سے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے عہدہ سنبھالا ہے، انصاف کے راستے میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پہلے جی آر سی (GRC) کے ذریعے ایک نئی رکاوٹ پیدا کی گئی اور اب بایومیٹرک ویریفکیشن کی شرط عائد کر دی گئی ہے،ریاض گیلانی نے مزید کہا کہ جہاں ملک بھر میں سپریم کورٹ کی سماعت ویڈیو لنک کے ذریعے شروع ہو چکی ہے، وہاں پنجاب میں اس سہولت کو تاحال نافذ نہیں کیا گیا، جو سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے بایومیٹرک ویریفکیشن پر عائد 200 روپے فیس کو “انصاف پر ٹیکس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں سے 60 روپے وکلاء اور 20 روپے عدالتی عملے کو دینے کی بات کی جا رہی ہے، جسے وکلاء مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ وکلاء یہ رقم لینے کے لیے تیار نہیں اور مطالبہ کیا کہ ایسے اقدامات ختم کئے جائیں، جو عوام کی انصاف تک رسائی میں رکاوٹ بن رہے ہیں، ان کے مطابق کسی بھی شہری کی شناخت کے لیے شناختی کارڈ اور وکیل کی تصدیق کافی ہوتی ہے، بائیومیٹرک سسٹم غیر ضروری بوجھ ہے،انہوںنے اعلان کیا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یہ شرط ختم نہیں کی جاتی، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو آئندہ بدھ کو ڈسٹرکٹ کورٹ میں سیشن جج کی عدالت کے سامنے دوبارہ احتجاج کیا جائے گا، جس میں عدالتوں کی تالہ بندی اور ممکنہ طور پر اعلیٰ عدالتی شخصیت کا پتلا نذر آتش کرنے جیسے اقدامات بھی زیر غور ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ آج پولیس کی جانب سے احتجاج روکنے کی کوشش کی گئی، تاہم وکلاء نے واضح پیغام دیا کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے،انہوں نے کہا کہ جب کالا کوٹ پہن لیتے ہیں تو ہم ڈرتے نہیں،انہوں نے کہا کہ اگر گرفتاری یا جیل بھیجنے کی نوبت آئی تو وکلاء اس کے لئے بھی تیار ہیں اور ہر قسم کا ریاستی دباؤ برداشت کریں گے، مگر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔وکلاء برادری نے حکومت اور عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ انصاف کے نظام کو آسان اور شفاف بنایا جائے، نہ کہ اس میں مزید رکاوٹیں پیدا کی جائیں۔




































Visit Today : 367
Visit Yesterday : 563
This Month : 3094
This Year : 66813
Total Visit : 171801
Hits Today : 2031
Total Hits : 903606
Who's Online : 5






















