دفاعی بجٹ میں اضافے کا تنقیدی جائزہ
دفاعی بجٹ میں اضافے کا تنقیدی جائزہ
تجزیہ ۔ ۔ ۔ غضنفر ملک
5
جون کی صبح جیسے ہی میں نے ٹوئٹر دیکھا تو مجھے بہت سے لوگ اضافی دفاعی گرانٹ پر بحث کرتے ہوئے نظر آئے۔ معاشیات کے طالب علم ہونے کی حیثیت سے میں نے یہ ضروری سمجھا کہ میں اس اضافے کی تحقیق کروں کہ آخر دفاعی بجٹ کے علاوہ یہ دفاعی گرانٹ کیوں ۔
اس تحقیق کے نتیجے میں کچھ اہم نکات اور پہلو میرے سامنے آئے جن کو زیر بحث لانا بہت ضروری ہے-
اگر پاکستان کے بجٹ کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو ایک بات واضح ہوتی ہے کہ ہر سال بجٹ میں یہ مختصر اضافہ افراطِ زر کی شرح میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کی بدولت ہوتا آیا ہے جو کہ باقی شعبہ جات میں بھی واضح طور پر نظر آتا ہے- اس موضوع کے مندرجہ ذیل نمایاں پہلو ہیں:
•~مالیاتی سال 2021-2020 میں 1370 ارب روپے کا دفاعی بجٹ متعین کیا گیا-
چونکہ پچھلے دو مالی سالوں میں افواجِ پاکستان کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا تھا اس لیے حکومت نے قومی بجٹ کی منظوری کے بعد افواجِ پاکستان کی تنخواہ کے لیے ایڈہاک ریلیف یعنی 25 فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا۔
•~حکومت نے فیصلہ کیا کہ اضافی فنڈز (تنخواہوں میں اضافہ) مالی سال 2021-22 کی آخری سہ ماہی کے دوران مختص کیا جائے گا۔ حالیہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کی میٹنگ اور ایڈہاک ریلیف کی منظوری کا مقصد یہی تھا۔ لیکن کچھ کم فہم لوگوں نے اس فنڈ کو اضافی دفاعی گرانٹ کے طور پر پیش کر کے غلط بیانی سے کام لیا
•~حکومت کی جانب سے متعین کردہ 25 فیصد تنخواہوں میں اضافے کے علاوہ فوج نے بجٹ میں کوئی اضافی فنڈز نہیں مانگے-
°~ * یہی نہیں بلکہ پیٹرولیم اور یوٹیلیٹی اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے باوجود عسکری قیادت نے مختص فنڈز کے اندر تمام ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کفایت شعاری اپنانے کی ہدایات کیں۔*
•~سرکاری خزانے کو بچانے کے لیے فوج کی جانب سے درج ذیل اقدامات بھی اٹھائے گئے:
~•ایندھن کی بچت کے لیے تربیتی اور انتظامی ضروریات کو کم سے کم کیا گیا-
~•زرمبادلہ بچانے کے لیے چند غیر ملکی معاہدوں کو مقامی کرنسی میں تبدیل کیا گیا۔
~•فوج نے رضاکارانہ طور پر تقریباً 10 ارب روپےحکومت کو واپس کیے۔
~•مزید باریکی میں اگر تحقیق کی جائے تو ہم یہ جان کر حیران ہو جائیں گے کہ بین القوامی معاہدوں کے تحت ڈالر میں کیے گئے معاہدوں میں اگر مقامی کرنسی کی قدر کم ہو جائے تو حکومت ڈالر کی قیمت میں ہونے والا اضافہ ادا کرنے کی پابند ہوتی ہے۔
تاہم موجودہ مالی سال 2021-22 میں دفاعی معاہدوں کے وقت ڈالر کی قیمت 160 روپے تھی جب کہ ادائیگیاں کرتے وقت ڈالر کی قیمت 200-185 روپے تھی۔
اس کے باوجود عسکری قیادت نے قومی مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے حکومت سے کسی بھی قسم کے اضافی فنڈز کا مطالبہ نہیں کیا-
•~اس کفایت شعاری کے باوجود اعلی پیشہ ورانہ قیادت ہونے کی وجہ سے پاک فوج نے آپریشن ردّالفساد کے اہداف اور دیگر سیکورٹی اُمور کی ادائیگی جانفشانی کے ساتھ کی۔
•~ٹِڈی دَل اور کرونا کی وَبا کے خلاف قومی مہم میں پاک فوج نے بھرپور کردار ادا کیا اور سول انتظامیہ کی معاونت میں ان فرائض کی انجام دہی کے دوران کوئی اضافی الاؤنس بھی نہیں لیا۔
*ان تمام پہلووں کا جائزہ لینے کے بعد مجھے احساس ہوا کے موجودہ دفاعی بجٹ اور اس سے منسلک دفاعی گرانٹ پر تنقید درست نہیں ۔ ایک ذمہ دار شہری ہونے کے باعث ہمیں جھوٹی اور بے بنیاد خبروں کو پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے۔







































Visit Today : 310
Visit Yesterday : 531
This Month : 5287
This Year : 69006
Total Visit : 173994
Hits Today : 3153
Total Hits : 956822
Who's Online : 13























