ورلڈ فوڈ سیفٹی ڈے کا پیغام ”محفوظ خوراک، بہتر صحت!“

تحریر
زین العابدین عابد

دنیا میں ہر سال 7جون کو عالمی فوڈ سیفٹی ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی مشترکہ منصوبہ بندی کے ساتھ دنیا بھر میں 7 جون2019 کو پہلا فوڈ سیفٹی ڈے منایا گیا تھا، ورلڈ فوڈ سکیورٹی ڈے کا مقصد خوراک سے پیدا ہونے والے خطرات کو روکنے، ان کا پتہ لگانے اور ان کا انتظام کرنے اور فوڈ سیکورٹی، انسانی صحت، معاشی بہبود، زراعت، مارکیٹ تک رسائی، سیاحت اور پائیدار ترقی میں حصہ ڈالنے پر توجہ مبذول کروانا ہے۔ورلڈ فوڈ سیفٹی ڈے کی سرگرمیاں عملی کاموں پر مبنی ہوتی ہیں،یہ سرگرمیاں عالمی سطح پر فوڈ سیفٹی آگاہی کو فروغ دیتی ہیں اور ملکوں اور فیصلہ سازوں، نجی شعبے، سول سوسائٹی، اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور سوسائٹی سے مثبت کارروائی کا مطالبہ کرتی ہیں۔مذکورہ تمام مقاصد کے حصول کے لیے، حکومت اور سول سوسائٹی کی جانب سے اس امر کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے، کہ ہر ادارے میں فوڈ سیفٹی کی معلومات، تعلیم و تربیت کو ممکن بنانے کے لیے خصوصی سیشنز منعقد کرائے جائیں۔ ہمارے کھانوں میں استعمال ہونے والے رنگوں اور اینٹی آکسائیڈ مٹھاس کے ذائقوں (فلیورس) کے مناسب اور متناسب استعمال کا خاص خیال رکھا جائے اور حکومت کی جانب سے اس بات کی سخت مانیٹرنگ کا اہتمام کیا جائے، کہ کھانے کی چیزوں میں ملاوٹ نہ ہو اور کھانے کی پیکنگ وغیرہ کے مراحل کو تسلی بخش بنایا جائے۔اس ضمن میں گزشتہ روز ایس ایم فوڈ میکرز اینڈ وولکا فوڈ ز انٹرنیشنل کے پلیٹ فارم سے سیفٹی سیمینار اور ریلی کا انعقاد کیا گیا۔گروپ چیرمین ذوالفقار علی انجم نے عالمی ادارہئ صحت‘ (ڈبلیو۔ ایچ۔ او۔) کی جانب سے خوراک کو محفوظ بنانے کے 5 بنیادی اصول (خوراک کی صفائی کی پانچ کنجیاں) بتائے، جن پر عمل کرنے سے خوراک کی مناسب انداز میں حفاظت کے ساتھ ساتھ کھانے سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے زیادہ سے زیادہ بچا جا سکتا ہے۔ جن میں (1) ہاتھوں خواہ برتنوں کو صاف رکھنے (2) کچے اور تیار کھانے کو الگ الگ رکھنے (3) کھانے کو اچھی طرح پکانے (4) اس کو محفوظ درجہئ حرارت پر رکھنے (5) پکانے کے لیے صاف پانی کے ساتھ ساتھ دیگر اجزاء کے استعمال کے اصول شامل ہیں، جن پر عمل کرنے سے غذا کی حفاظت کو زیادہ سے زیادہ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال اس دن کا تھیم ہے ”محفوظ خوراک، بہتر صحت اس دن کی مناسبت سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اچھی صحت کے لئے صاف ستھری، معیاری اور صحت بخش خوراک کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوڈ سیفٹی کا بہتر انتظام سب کی ضرورت ہے، اس حوالے سے مقاصد کے حصول کے لئے باہمی تعاون پر مبنی مشترکہ کوششیں کی جانی چاہیئں۔ورلڈ فوڈ سیفٹی ڈے-2022 کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ 7 جون کو دنیا بھر میں فوڈ سیفٹی کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ صحت بخش خوراک کی اہمیت اور غیر صحت بخش خوراک کے انسداد کی ضرورت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ محفوظ خوراک اور بہتر صحت کے لیے خوراک سے پیدا ہونے والے خطرات کی روک تھام، ان کا پتہ لگانے اور ان کے بہتر انتظام کے مختلف طریقوں پر توجہ مبذول کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن خوراک سے پیدا ہونے والے خطرات کی روک تھام، تشخیص اور ان پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنے کے لیے بھی وقف ہے تاکہ انسانی صحت کو بہتر بنایا جا سکے اور سب کے لیے محفوظ خوراک کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ صدر مملکت نے کہا کہ اس دن لوگوں کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ ہمیشہ صاف ستھری جگہوں سے کھانا کھائیں اور صفائی کے اچھے معیار کو برقرار رکھیں، کھانا ضائع نہ کریں اور اس کے بجائے بھوکوں کو کھانا کھلانے کے راستے اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کی حفاظت بھی پائیدار ترقی کے اہداف کا ایک حصہ ہے جس میں بھوک کو ختم کرنے، غذائیت کو بہتر بنانے، پائیدار زراعت کو فروغ دینے اور غذائی تحفظ کے حصول کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ حکومت کو خوراک کی حفاظت کے معیارات کو اپنانے کے لیے کثیر شعبہ جاتی تعاون کو فروغ دینا چاہیے، صحت مند اور محفوظ خوراک پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے عوامی معاونت کے پروگرام شروع کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں مضبوط پالیسیاں متعارف کرانا چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوڈ مینوفیکچرنگ کمپنیوں کو فوڈ سیفٹی کے وعدوں پر عمل کرنا چاہیے، فوڈ سیفٹی کلچر کو فروغ دینا چاہیے اور خوراک سے متعلق بین الاقوامی اور قومی معیارات کی تعمیل کرنی چاہیے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں اور کام کی جگہوں پر فوڈ سیفٹی ایجوکیشن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ محفوظ خوراک کے انتظام کو فروغ دینے اور فیملیز کو ان کوششوں میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح صارفین کو بھی باخبر رکھتے ہوئے کھانے کی حفاظت کے طریقوں کو فروغ دینے اور گھر میں محفوظ خوراک کا انتظام کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہم سب کو کردار ادا کرنا ہے، ہر مرحلے پر خوراک کی حفاظت ہمارے ہاتھ میں ہے اور اگر ہم مل کر کام کریں تو بہتر صحت کے لیے محفوظ خوراک کا مقصد حاصل کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ یہ دن منانے کا مقصد خوراک کی حفاظت، انسانی صحت، معاشی خوشحالی، زراعت، مارکیٹ تک رسائی، سیاحت اور پائیدار ترقی میں کردار ادا کرتے ہوئے خوراک سے پیدا ہونے والے خطرات کو روکنا، ان کا پتا لگانا اور اس کے انتظام میں مدد کے لیے توجہ مبذول کروانا خواہ کارروائی کی ترغیب دینا ہے۔ یہ عالمی دن اس امر کو یقینی بنانے کی کوششوں کو تقویت دینے کا ایک موقع ہے، کہ ہم جو غذا کھاتے ہیں، وہ محفوظ ہو۔ایک دلچسپ حقیقت جان کر آپ کو حیرت ہو گی کہ سن 2020 میں ایک طرف دنیا کے تقریباً 720 سے لے کر 811 ملین افراد غذائی قلت کا شکار تھے تو دوسری طرف تقریباً 900 ملین ٹن سے زیادہ خوراک یعنی کھانے پینے کی اشیاء کو ہر سال ضائع کر دیا جاتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً چار لاکھ بیس ہزار افراد غیرصحت بخش اور آلودہ کھانا کھانے سے ہلاک ہو جاتے ہیں جبکہ پانچ سال تک کی عمر کے ایک لاکھ پچیس ہزار بچے غیرمعیاری خوراک کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہو کر مر جاتے ہیں۔ صحت بخش خوراک کی حفاظت و ترغیب اور غیرمعیاری خوراک کے خاتمہ اور اس سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کرنے لئے اقوام متحدہ کے زیراہتمام ہر سال 7 جون کو ورلڈ فوڈ سیفٹی ڈے منایا جاتا ہے۔ اس سال اس دن کا تھیم ہے ”محفوظ خوراک، بہتر صحت!”اقوام متحدہ نے اس سال دنیا کے ہر فرد پر زور دیا ہے کہ وہ تازہ خوراک کے ضیاع کو روکنے اور آلودہ خوراک کے خاتمہ میں اپنا کردار ادا کرے۔