عمران خان کاحقیقی آزادی مارچ اور مخدوموں گدی نشینوں اور سر مایہ دار عہدیداروں کاکردار۔
عمران خان کاحقیقی آزادی مارچ اور مخدوموں گدی نشینوں اور سر مایہ دار عہدیداروں کاکردار۔
تحریر: محمد رمضان بلوچ
ملک کے سیا سی معاشی حالات پر ہر شخص کی نظر ہے کہ یہ کس نہج کی طرف جا رہے ہیں ملک کی سیاسی صورت حال خصو صأ پنجاب میں پہلی مرتبہ186ووٹوں کی شرط حمزہ شہباز نے پوری کی مگرپی ٹی آئ کے 20منحرف ارا کین کے جانے سے اب حمزہ شہباز کے پاس 172ووٹ اور موجودہ اپوزیشنکے پاس173ووٹ ہیں اور فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سارے کھیل کے دوران زرداری نے خوب انجوائے کیا ہے اور یار لوگوں کو چاروں شانے چت کیا ہے اور دونوں کو دی جانے والی گا لیوں پر سندھ کا وڈیرہ خوب انجوائے کر رھا ہے۔ زرداری کا مستقبل محفوظ نظر آرھا ہے۔جھگڑا صرف پی ٹی آئ اور ن لیگ کا نظر آرھا ہے۔ بد قسمتی سے پی ٹی آئ میں مخدوموں گدی نشینوں اور سر مایہ داروں کے چھا جانے سے اور انتظامی عہدوں کے مالک بنجانے سے اور حقیقی کارکنوں کو بہتر حیثیت نہ دینے سے آزادی مارچ بہتر resultنہیں دے سکا اور تواورساڑھے تین سال اقتدار کے مزے لینے والے اور وسیم اکرم پلس عثمان بزدار کہیں منظر عام پر نہیں آئے اور اسلام آباد بھی شکل نظر نہیں آئی
دلچسپ بات یہ ہے کہ مخدوموں سر مایہ داروں گدی نشںینوں نے حکومت مخالف تحریک چلائ ہی نہیں کا میابی یا ناکامی تو بعد کی بات ہے۔مخدوموں کو کیا پڑی کہ وہ حکومت مخالف مارچ کی قیادت کریں۔یہ بڑے سمجھ دار ہیں چار دن پہلے پی ٹی آئ حکومت کے زیر سایہ پشاور جاکر امن سے بیٹھ گے اور بیا نیہ یہ کہ ریلیاں اور جلوس زور و شور سے اسلام آباد آرہے ہیں۔ زیرعتاب آئے تو شوکت بسراء۔ اور ڈاکٹر یا سمین راشد۔ عند لیب عباسی۔ گوہر ایوب جنہوں نے آزمائشوں سےگزرکر خان کے سپاہی ہونے کا حق ادا کر دیا اور ڈسٹرکٹ بہاول نگر کے پی ٹی آئ ورکر بھی اپنے قائدین کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ بحر حال خان صاحب کو چا ہئے کہ اب بھی پارٹی عہدے ور کرز اور کارکنوں کے سپرد کئےجا ئیں۔ یہ مخدوم سر مایہ دار جاگیر دار گدی نشین ٹھنڈےکمروں میں بسیرا کرنے والے اور چوری کھانے والے مجنوں ہیں اور خون دینے کی ان سے توقع رکھنا عبث ہے ۔لیکنواضح ہو کہ اس سارے پراسس کا ماسٹر مائنڈ عوام اور ووٹر ز ہیں ۔عام ورکر کا مقام اورعزت ان کے ھاتھ میں ہے فیصلہ بیلٹ پیپر کے ذرئعیے انہوں نے کرنا ہے ۔
بحر حال ضروت اس امر کی ہے کہ ملک پاکستان میں حقیقی جمہوریت کا نفاظ ہو دھونس دھن دولت کا عنصر شامل نہ ہو۔ جوکہ دیارنت داری سے قائم ہو اور میرٹ پر ہو اور میرے ملک کا ہر طبقہ ملکی حالات کو مد نظر رکھتے ہوے بہتر سے بہتر کرنے کا عزم کرے۔ وگرنہ جب انسا نیت حد سےگزر جا ئے تو میرے اللہ کی گرفت بھی بہت مضبوط ہے۔







































Visit Today : 310
Visit Yesterday : 531
This Month : 5287
This Year : 69006
Total Visit : 173994
Hits Today : 3153
Total Hits : 956822
Who's Online : 13























