ملتان ( صفدربخاری سے) امپورٹڈ حکومت نے عام آدمی سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔ سرائیکی خطے کے عوام مفلسی کے خوف سے خود کو زندگی کی قید سے رہا کرنے پر مجبور ہیں۔ غربت، مہنگائی، بیروزگاری، بد ترین لوڈشیڈنگ تجربہ کار حکومت کی کارکردگی ہے۔ آئندہ انتخابات میں سرائیکی جماعتوں کے امیدواروں کو کامیاب بنائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار چیف کوآرڈی نیٹر سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی شعبہ خواتین حانیہ خان نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عوام امپورٹڈ حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پر نہیں آئیں گے مہنگائی کا طوفان نہیں رکے گا۔ حالت یہ ہے کہ عام آدمی آج پورے گھرانے کو تین وقت کی روٹی دینے کے لئے سبزی یا دالیں خریدنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، بچوں کی فیس، بجلی، پانی اور گیس کے بل ہی اس کے بجٹ کا ستیاناس کرکے رکھ دیتے ہیں۔ خدانخواستہ گھر کا کوئی فرد بیمار ہو جائے یا اچانک مہمان آجائیں تو متوسط طبقے کے گھرانے کو اپنا مہینہ چلانے اور راشن پانی پورا کرنے کی فکر ہی مار دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غربت میں پسنے والا طبقہ کیا کرے، سفید پوش کہاں جائے؟ وہ بجلی کے بل ادا کرے، دو وقت کی روٹی پوری کرے، گھر کا کرایہ دے یا بچوں کو تعلیم دلوائے؟ میرا دل کانپ اٹھتا ہے جب میں کسی مجبور باپ کو چند روپوں کی خاطر اپنے سے کہیں چھوٹی عمر کے شخص کی غلامی کرتا دیکھتی ہوں، جب ایک ماں دعا کرتی ہے کہ آج اس کی اولاد پیٹ بھر کر کھا سکے اور خود کھانے کے بیچ میں سے اُٹھ جاتی ہے۔ بے بسی کی انتہاء یہ ہے کہ پیٹ کی بھوک مٹانے کی خاطر لوگ اپنے جسم کے اعضاء اور خون تک بیچ دیتے ہیں۔ حانیہ خان نے کہا کہ حکمرانو خدارا اب تو کچھ رحم کر لو۔ اب ان زبانی کلامی باتوں، وعدوں اور نعروں سے باہر نکل کر کوئی عملی مظاہرہ تو کرو تاکہ میرے ملک کا ہر باشندہ سکون کی نیند تو سو سکے۔ کوئی مفلسی کے خوف سے خود کو زندگی کی قید سے رہا نہ کرے۔ میرے ملک کی ہر جان قیمتی ہے۔ ہزاروں لوگ بھوک افلاس کی وجہ سے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ ان کی زندگیوں کاحساب کون دے گا؟