رنگِ عارفانہ

تحریر : احمد رضا

مجھے عشق بس اس خدا سے ہے سوا جس کے یاں سبھی ڈھونگ ہے
تری ہر ادا پہ نثار ہوں سرِ دار خم یہی ڈھونگ ہے

اے وجود فوت خرد ہوئی اسے ڈھونڈ ہر ذرّے ذرّے میں
ہے مجاز چاک ثرا کرو جو ثریا برتری ڈھونگ ہے

یہ عجب شرابِ الست ہے جسے پی کے مست سرشت ہے
کوئی نوری شکل میں ہست ہے نرے خار سے کوئی ڈھونگ ہے

پسِ پردہ چھپ گئے نوچ کر دل وجان ہوش وخرد جگر
یہ کرشمہ نوکِ نظر خطر دمِ آخری جلی ڈھونگ ہے

کسی روز ہو مرے روبرو کروں ڈھیروں شکووں میں گفتگو
تو کرے فقط یہی آرزو جو سنا گیا رچی ڈھونگ ہے

چلیں پلصراط سے عشق کے دو قدم بڑھائے دبے دبے
جو گزر گیا سو گزر گیا جو گرا فقط وہی ڈھونگ ہے

یہ زمین و عرش و سمان کےدھواں اٹھے ہر اک مکان سے
مرے نام کا تو اذان دے بپا حشر آخری ڈھونگ ہے

مہِ چشم زندانِ کل بلا ہوئی کانا پھوسی میں مبتلا
کئی روگ ہوش میں سالہا نمِ رنج ظاہری ڈھونگ ہے

کسی یاد سے ٹوٹی چوڑیاں کبھی رقص گھنگھرو سے بالیاں
لٹی حمراں لاکھوں جوانیاں ابھی فکرِ بہتری ڈھونگ ہے