کپاس نقد آور فصل

تحری: رمحمد فرحان زراعت آفیسر پیسٹ وارننگ محکمہ زراعت
پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور ہماری معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے زراعت ہماری ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ صنعتوں کو خام مال بھی فراہم کرتی ہے .کپاس ایک اہم فصل ہے . تمام تر کوششوں کے باوجود ہماری فی ایکڑ پیداوار دوسرے ممالک کی نسبت بہت کم ہے.جسکی بنیادی وجہ بیماریوں اور زرساں کیڑوں کا حملہ اور جڑی بوٹیوں کی وجہ سے ہونے والا نقصان ہے .جو کہ زرعی پیداوار کے معیار کو گھٹاتے ہیں اور پیداواری استعداد کا زیاں کرتے ہیں پچھلے چند سالوں سے کپاس کی پیداوار کم آ رہی ہے جس کی بہت سی وجوہات ہیں مگر کپاس پر گلابی سنڈی کا حملہ سب سے اہم وجہ ہے یہ ایک انتہائی خطرناک کیڑا ہے کپاس پیدا کرنے والے تمام ممالک میں پایا جاتا ہے کپاس کی گلابی سنڈی کی زندگی کی مختلف حالتیں ہیں انڈہ چپٹا ہوتا ہے تازہ انڈہ سفید ہوتا ہے جو بعد میں بھورے رنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے انڈوں سے بچے تقریباً تین سے سات دنوں میں نکل آتے ہیں. سنڈی جب انڈے سے نکلتی ہے تو اس کا رنگ سفید ہوتا ہے بعد میں اس کا رنگ گلابی ہو جاتا یے. پیوپا ہلکے بھورے رنگ کے ریشمی خول میں بند ہوتا ہے قد میں چاول کے دانے کے برابر ہوتا ہے. پروانہ تقریباً 6 سے 17 دن میں پیوپا سے نکل آتا ہے. بالغ مادہ پروانہ سو سے ڈھائی سو انڈے دیتی ہے. انڈوں سے بچے عموماً تین سے سات دنوں میں نکل آتے ہیں . اس کا رنگ انڈے سے نکلتے وقت سفید ہوتا ہے بعد میں اس کا رنگ گلابی ہوجاتا ہے بڑی عمر کی سنڈی لمبائی میں 12 سے 15 ملی میٹر ہوتی ہے . پروانہ بننے کے کے لئے مناسب موسم تقریبا ایک دن کی مدت درکار ہوتی ہے نقصان کی نوعیت کا شدید حملہ پاکستان بھر میں اگست ستمبر میں ہوتا ہے جب کہ کپاس پر پھولوں اور ٹنڈو کی بہتات ہوتی ہے پھول اور ٹنڈے اس کی زد میں آتے ہیں سب سے پہلے یہ گڈی میں داخل ہوتی ہے وہاں سے یہ پھول میں داخل ہو جاتی ہے اوراپنے لعاب سےپھول کی پتیوں کوجوڑ دیتی ہے جس سےپھول مدھانی نمابن جاتا ہے . ٹنڈےکو کھول کر ہی صحیح پتہ چل سکتا ہے کہ آیااس میں کیڑےکا حملہ ہے کہ نہیں .ٹنڈے میں سنڈیوں کی تعداد ایک سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے.سنڈیاں ٹنڈے کے اندر موجود بیج اور روئی کو کتر کر ضائع کر دیتی ہیں کپاس کا معیار بھی متاثر ہوتا ہے پیداوار میں نمایاں کمی ہوتی ہے . اس کے تدارک کے لئے کلچرل کنٹرول کے طریقوں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے کہ جنوری تا مارچ میں پروانے نکلنا شروع ہوجاتے ہیں .جو پروانہ مارچ اپریل میں نکلتے ہیں ان کو انڈے دینے کے لیے کپاس کی فصل کی ضرورت ہوتی ہے اگر کپاس کی فصل یکم اپریل کے بعد کاشت کی جائے تو یہ پروانے مر جاتے ہیں . چھڑیاں ایندھن کے طور پر رکھی جائیں تو ان کو عمودی سمت میں رکھیں تاکہ دھوپ زیادہ سے زیادہ پڑے . جننگ فیکٹریوں کے کچرے میں سنڈیوں کی بھرمار ہوتی ہے لہذا ایسے کچرے کو جلد از جلدجلا کر تلف کیا جائے اورجنسی پھندےلگائے جائیں جو کہ فصل کو گلابی سنڈی کے حملے سے محفوظ رکھتے ہیں فصل کی باقاعدہ پیسٹ سکاوٹنگ کی جائے اور کپاس کی فصل پر گلابی سنڈی کا حملہ ہو تو پسٹ وارننگ افیسران سے مشاورت کے بعد تجویزکردہ سپرے کیا جا سکتا ہے