آئندہ بجٹ میں چھوٹے تاجروں کو ریلیف دیا جائے:مرکزی تنظیم تاجران کا مطالبہ
ملتان (صفدربخاری سے) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان ضلع ملتان کا ایک اہم اجلاس ضلعی صدر سید جعفر علی شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کے حوالے سے چھوٹے تاجروں کو درپیش مسائل اور ممکنہ ریلیف اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں تاجر رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ معاشی حالات میں چھوٹے کاروباری طبقے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ بجٹ میں ایسے اقدامات شامل کرے جن سے کاروباری لاگت میں کمی اور مارکیٹ میں استحکام ممکن ہو سکے۔ اجلاس سے خطاب کرتے کہا کہ مہنگی بجلی، بڑھتے ہوئے ٹیکسز اور کاروباری اخراجات نے چھوٹے تاجروں کا کاروبار کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپر ٹیکس کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور کارپوریٹ ٹیکس میں بتدریج کمی کی جائے تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ مل سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس نظام کو آسان بنایا جائے اور چھوٹے دکانداروں کے لیے کم شرح کا فکس ٹیکس نافذ کیا جائے، جسے بجلی کے بلوں کے ذریعے وصول کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے تاجروں کا اعتماد بحال کرنا ناگزیر ہے، جس کے لیے ہراسانی کے کلچر کا خاتمہ ضروری ہے۔ مرکزی صدر شجاع آباد حاجی اختر قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت کو فنانس بل کی پیچیدہ شقوں جیسے 37AA، 37B، 14AC اور 14AD کو ختم کرنا چاہیے تاکہ تاجروں کو سہولت مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ نان فائلرز کے لیے غیر ضروری سختیوں میں کمی لائی جائے جبکہ بڑے اثاثہ جات رکھنے والوں کے لیے واضح اور سخت پالیسی اپنائی جائے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انڈر انوائسنگ کی روک تھام اور کاروباری معاملات میں شفافیت کو یقینی بنا کر معیشت کو دستاویزی بنایا جا سکتا ہے۔ ملتان کے صدر خالد محمود قریشی نے کہا کہ ٹیکسٹائل اور زرعی شعبہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اس لیے مقامی کاٹن سیڈ اور آئل کیک پر سیلز ٹیکس ختم کیا جائے تاکہ کپاس کی پیداوار میں اضافہ ہو اور برآمدات کو فروغ ملے۔انہوں نے گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت کارپوریٹ فارمنگ کو ٹیکس چھوٹ دینے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے زرعی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے تعمیراتی شعبے کے لیے سیکشن 7E کے خاتمے کی بھی حمایت کی۔
اجلاس میں دیگر رہنماؤں میں صدر اندرون شہر بابر علی قریشی، خواجہ محمود الحسن (مرکزی جنرل سیکرٹری شجاع آباد)، احمد حسن (سینئر نائب صدر مرکزی تنظیم شجاع آباد)، جنرل سیکرٹری مرزا نعیم بیگ اور اسد علی عدنان شامل تھے۔اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت آئندہ بجٹ میں تاجروں، خصوصاً چھوٹے کاروباری طبقے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرتے ہوئے ایسے عملی اقدامات کرے گی جن سے معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔




































Visit Today : 330
Visit Yesterday : 622
This Month : 2494
This Year : 66213
Total Visit : 171201
Hits Today : 2132
Total Hits : 900222
Who's Online : 5






















