وفا کی دیوی۔
وفا کی دیوی۔
تحریر : رمضان بلوچ
عورت اپنی پہلی اور مرد اپنی آخری محبت زندگی میں کبھی بھی نہیں بھو لتا۔
جمائما اسلام قبول کر کے پاکستان آئ ہم نے اسے غیر مسلم بناکر واپس بھیج دیا۔
لندن کے کر کٹ گراؤنڈمیں ایک 22سالہ یہودی لڑکی نے میچ کے دوران اپنے والد سے کہا کہ ڈیڈی میری خواہش ہے کہ میری شادی اس سا منے والے کر کٹر سےہوجائے۔والد نےبیٹی کی طرف دیکھ کر کہا کہ تم کرکٹ کا میچ دیکھنے آئ ہو یا اپناجیون ساتھی۔?
اس خوبرو لڑکی نے کہا کہ میں میچ دیکھنے نہیں آئ بلکہ میں اپنے آئیڈیل کو دیکھنے آئ ہوں ۔اور آپ کو اپنے ساتھ لانے کا مقصد اپنے من پسند کو دکھلانا مقصودتھا۔
میچ ختم ہوا تو لوگوں نے گھروں کا رخ کیا۔لڑکی نے اپنی خواہش کوپھردہرایا۔باپ نے کہا اچھا ٹھیک ہے۔دیکھتے ہیں۔صبح نا شتے کے بعد خو برو لڑکی نے اپنے والد کو یاد کرایا کہ میری خواہش پر آپ نے کیا سوچا۔باپ نے بیٹی سے کہا دیکھو میری بیٹی وہ ایک مسلمان ہے دوسراپاکستانی یہ دونوں چیزیں ہمارے لئے مشکل ہیں۔تم ایک مرتبہ پھر اپنی پسند پر غور کرو۔بیٹی نے کہا ڈیڈی میری پہلی اور آخری چوائس عمران خان ہے۔جی ہاں پاکستان کر کٹ ٹیم کاکپتان ہے۔ عمران خان نہ صرف لند ن بلکہ پاکستاکے بڑے بڑے گھرانوں کی خواب گاہوں میں تصویر کی شکل میں موجود رہتا تھا۔ بڑے عروج کا زمانہ تھا۔یورپ ہندو ستان پاکستان اورامریکہ تک کے بے شمار لوگ خواہش مند تھے۔ وہ لڑکی بضد تھی کہ میری شادی صرف اورصرف عمران خان سے ہوگی جی ہاں وہ لڑکی جمائماگولڈ سمتھ تھی جس کے والد سر گولڈ سمتھ نے بیٹی کو دو شرائط پیش کر دیں۔کہ اگر تم عمران خان سے شادی کروگی۔ تو اول اپنا مزہب نہیں چھوڑو گی دوسرا برطانوی شہریت۔ بیٹی نے تو تسلیم کرلیا مگر عمران خان نے صاف صاف انکار کردیا جمائما نےمزہب اور قو میت ددونوں کو خیر باد کہ دیا شادی کرکے لاہور آگئ ہنسی خوشی اپنے آئیڈیل کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی مزہب اسلام قبول کر لیا قرآن اور دیگراسلامی کتب پڑھنی شروع کردیں تاہم لندن کی نیشنلٹی برقرار رکھی لندن اور لاہور آتی جاتی رہی۔25اپریل 1996کو عمران خان نےپاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔ تو ان کی بیوی جمائما نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔مال و دولت کے ساتھ سا تھ جمائما نے سیاسی تقریبات میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ اور یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں شریف برادران کا طوطی بولتا تھا۔بے نظیر سے ان کی بڑی ٹکر تھی میاں نوز شریف نے بے نظیر اور ان کے شوہر آصف زردا ری کا جینا حرام کیا ہواتھا۔جب عمران خان نے سیاست شروع کی تو شریف خاندان کو یہ گوارا نہ ہوا۔اور انہوں نے اوچھے ہتھکنڈے اختیار کرنے شروع کر دئے ۔اور انہوں نے نصرت بھٹو اور بے نظیر کی جوانی کی تصو یروں کے پوسٹرچھاپ دئیے اور پھر لاہور شہر مییں بزرئعیہ جہاز انہیں گرایا گیا ۔اسی طرح کا کام انہوں نے جما ئما کے ساتھ بھی کیا کہ اس کی لندن کی پرائیویٹ تصویریں نکال کر لوگوں میں پھیلانی شروع کر دیں اور بات یہاں تک نہ رکی۔ شریف برادران نے جما ئما کے خلاف قیمتی ٹا ئلوں کی چوری کا مقدمہ درج کرا دیا۔ جس کی چھ ماہ تک ضمانت بھی نہیں ہو سکتی تھی۔جما ئما خوف کے مارے لندن سے واپس نہیں آئ۔ بالا خر یہ ہنستا بستا گھرانہ شریف برادرانکی محربانیوں سے22جون 2004میں اجڑ گیا۔جس کابرملا اظہار آج تک عمران خان کرتا ہے۔ عمران خان نے یکے بعد دیگرے دو شادیاں کیں مگر جمائماخان نے بچوں کی خاطرآج تک شادی نہیں کی بلکہ اس عورت نےطلاق کے بعد آج تک نہ شادی کی اورنہ ہی عمران خان کے خلاف زبان کھولی اور نہ ہی مشکلات پیدا کیں ۔ بلکہ ہر مشکل میں طلاق کےباوجود عمران خان کاساتھ دیا۔ جس پر عمران خان کی عدالت سے نہ صرف جان چھوٹی بلکہ وہ صادق اور امین بھی کہلائے۔یہ ایک غیر مزہب عورت کا کردار ہے۔ اس کے بر عکس ایک مسلمان خاتون ریحام خان کو طلاق ہوتی ہے ۔تو اس نے تبصروں میں عمرانخان کا جنازہ نکال دیا۔ بات کرنے کامقصد صرف یہ ہے کہ جو عورت اپنے باپ دادا کا مزہب ترک کرکے اسلام قبول کر کے آئ۔بیٹوں کےمسلمان نام رکھے انہیں اسلامی تعلیم دلوائ کتنے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ ہم نے اسے اپنے رویے اور شر مناک حرکتوں سے اسے واپس اپنے مزہبکی طرف دھکیل دیا۔ ہم روز قیامت اللہ کے حضور کیا جواب دیں گئے دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمارے مزہبی راہنماؤں نے بھی شریف برادران کے حکم پر جمائما پر تنقید کے نشتر چلانا شروع کر دئے۔ءحالانکہ اس نے دکھی انسا نیت کے لئے سماجی خدمات شروع کررکھی تھیں۔ مگر ان کو بھی سیا ست کیبھینٹ چڑھا دیا گیا۔ اور اسے یہودی یہودی کہ کر دوبارہ یہودی بنا دیا گیا۔ اس کے خلاف پرا پیگنڈہ کیا گیاغلیظ زبان استعمال کی گئ۔ہر طرح کی کردار کشی کی گئ مگر حرام ہو کہ جمائما خان نے پلٹکر ایک لفظ بھی کہا ہو ۔ اس نے سب کچھ برداشت کیا۔ اپنی جوانی کو روگ لگا کر ایک مشرقی مسلم خاتون کی طرح اپنے دو بچوں کی پرورش شروع کی اور آج تک کر رہی ہے۔ابھیسیلاب زدگان کے لئے جمائما خان نے ایک بڑے پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ یہ سب باتیں میں اس لئے کر رہا ہوں کہ میں اپنی مسلم عورتوں کا موازنہ ایک غیر مسلم عورت کے ساتھ کر رہاہوں۔ تاکہ ہم اپنی ا صلاح کر سکیں۔ تین دنوں سے تحریر کردہ الفاظ کا مقصد ہی یہی ہے کہ معیشت اور سیاست کے روز دکھڑے سنانے کی بجائے کچھ دل بہلانے والی باتیں بھی ہو جا ئیں۔مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے ۔کہ عمران خان اپنے گھر کی بربادی اور بچوں کے بچھڑنے کا غم آج تک نہیں بھول سکا اوراولاد کےبارے میں کہا جاتا ہے کہ والدین کے بڑھاپے کا سہاراہو تی ہے۔ اورپھر جسکا سہارا چھن جائے وہ تلخ باتیں نہ کرے تو کیا اپنے مخا لفین کو پھولو ں کے گلدستے بھجوائے۔










































Visit Today : 184
Visit Yesterday : 536
This Month : 720
This Year : 64439
Total Visit : 169427
Hits Today : 1052
Total Hits : 876764
Who's Online : 5




















