تاجروں کے بغیر معیشت کا پہیہ کیسے چلے گا؟
تاجروں کے بغیر معیشت کا پہیہ کیسے چلے گا؟
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
پاکستان کی معیشت ایک ایسے نازک دور سے گزر رہی ہے جہاں ہر طبقہ کسی نہ کسی دباؤ کا شکار ہے، مگر اگر سب سے زیادہ متاثر اور ساتھ ہی سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرنے والا کوئی طبقہ ہے تو وہ تاجر برادری ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اسی طبقے کو اکثر فیصلوں میں شامل کیے بغیر پالیسیاں بنا لی جاتی ہیں، اور پھر جب وہ پالیسیاں زمینی حقیقت سے ٹکراتی ہیں تو پورا معاشی نظام متاثر ہوتا ہے۔
پاکستان میں تجارت صرف ایک کاروباری سرگرمی نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کا روزگار ہے۔ چھوٹے دکاندار سے لے کر بڑے ہول سیلر تک، اور مارکیٹوں سے لے کر صنعتی سپلائی چین تک، ہر جگہ تاجر معیشت کو زندہ رکھتے ہیں۔ خاص طور پر شہروں جیسے ملتان میں کاروباری سرگرمی نہ صرف مقامی ضروریات پوری کرتی ہے بلکہ دیہی معیشت کو بھی سہارا دیتی ہے۔
موجودہ حالات میں کاروباری طبقہ ایک اور شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ایک طرف لاک ڈاؤن اور مختلف احتیاطی پابندیاں ہیں جن کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں پہلے ہی متاثر ہیں، تو دوسری طرف ڈاکٹروں اور صحت کے اداروں کی جانب سے شہریوں کو دن کے اوقات میں خاص طور پر 11 بجے کے بعد سے 3 بجے تک غیر ضروری باہر نکلنے سے روکا جا رہا ہے تاکہ شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے اثرات سے بچا جا سکے۔ یہ اقدامات اپنی جگہ ضروری اور قابلِ فہم ہیں، مگر ان کا براہ راست اثر مارکیٹوں اور کاروبار پر پڑ رہا ہے۔
تاجر طبقہ پہلے ہی محدود وقت میں اپنا کاروبار چلانے کی کوشش کر رہا ہے، مگر صورتحال یہ ہے کہ بعض علاقوں میں 8 بجے دکانیں بند کروانے کے احکامات بھی موجود ہیں۔ اس کے نتیجے میں کاروباری افراد کو اپنی روزی کمانے کے لیے انتہائی کم وقت ملتا ہے، جس سے چھوٹے تاجروں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک بڑا مسئلہ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہے۔ دن کے اوقات میں بجلی کی بندش سے دکانوں میں بیٹھنا، گاہکوں کو سہولت دینا اور کاروبار کو چلانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ جن دکانوں میں کولنگ سسٹم یا پنکھے بھی مؤثر طریقے سے نہیں چل سکتے وہاں گاہک کا رکنا مزید کم ہو جاتا ہے، جس سے کاروبار براہ راست متاثر ہوتا ہے۔
سیکیورٹی کے مسائل بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ 8 بجے کے بعد جب دکانیں بند کروائی جاتی ہیں تو بازاروں اور تجارتی مراکز میں سیکیورٹی کے خاطر خواہ انتظامات نظر نہیں آتے۔ تاجر حضرات یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر جلدی دکانیں بند کروائی جاتی ہیں تو کیا ان کے کاروبار اور املاک کے تحفظ کے لیے مکمل اور مؤثر سیکیورٹی نظام بھی موجود ہے یا نہیں؟
اسی طرح ٹریفک کا نظام بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کاروباری اوقات کے دوران ٹریفک پولیس کی موجودگی اور مؤثر کنٹرول نہ ہونے کے باعث نہ صرف خریداروں کو مشکلات پیش آتی ہیں بلکہ مارکیٹوں میں رش اور بدانتظامی بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ صورتحال کاروبار کی روانی کو مزید متاثر کرتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ تمام فیصلے بظاہر انتظامی یا احتیاطی بنیادوں پر کیے جاتے ہیں، مگر ان کے معاشی اثرات کو مکمل طور پر مدنظر نہیں رکھا جاتا۔ تاجر برادری کو لگتا ہے کہ ان کے مسائل کو سننے اور سمجھنے کے لیے کوئی مستقل پلیٹ فارم موجود نہیں جہاں وہ اپنی مشکلات حکومتی سطح پر مؤثر طریقے سے پیش کر سکیں۔
اگر تاجر مسلسل دباؤ میں رہیں گے تو اس کے اثرات صرف ان تک محدود نہیں رہیں گے۔ سب سے پہلے چھوٹے کاروبار بند ہوں گے، جس سے بیروزگاری میں اضافہ ہوگا۔ دوسرا، مارکیٹ کی سپلائی چین متاثر ہوگی، جس سے مہنگائی بڑھے گی۔ تیسرا، حکومت کی آمدنی کم ہوگی کیونکہ کاروباری سرگرمیاں سکڑ جائیں گی۔
یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ معیشت کا پہیہ اعتماد اور تسلسل سے چلتا ہے۔ جب کاروباری طبقہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو تو سرمایہ کاری رک جاتی ہے، اور جب سرمایہ کاری رک جائے تو ترقی کا عمل بھی سست پڑ جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، انتظامیہ اور کاروباری طبقہ مل کر ایک متوازن حکمت عملی تیار کریں۔ صحت کے مسائل، سیکیورٹی خدشات اور توانائی بحران اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان کے ساتھ ساتھ کاروبار کو بھی چلنے دینا اتنا ہی ضروری ہے۔
تاجر تنظیموں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر پالیسی بنائی جائے۔ اسی طرح لوڈشیڈنگ میں کمی، سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات اور ٹریفک کے بہتر نظام سے کاروباری ماحول کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
اگر یہ مسائل حل نہ کیے گئے تو آنے والے وقت میں معیشت پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔ اور اس کا نقصان صرف تاجروں کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہوگا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ معیشت صرف بند کمروں میں بنائی گئی پالیسیوں سے نہیں چلتی، بلکہ بازاروں کی رونق، تاجروں کے اعتماد اور عوام کی سہولت سے چلتی ہے۔ اگر تاجر خوشحال ہوں گے تو ملک خوشحال ہوگا، اور اگر تاجر پریشان ہوں گے تو معیشت بھی سکون میں نہیں رہ سکتی۔




































Visit Today : 403
Visit Yesterday : 513
This Month : 14626
This Year : 62462
Total Visit : 167450
Hits Today : 2515
Total Hits : 858880
Who's Online : 9




















