یومِ مئی پر ٹریڈ یونین رہنماؤں کی پریس کانفرنس،،مہنگائی، بیروزگاری اور نجکاری کے خلاف آواز بلند کرنے کا اعلان
ملتان: پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین ملتان کے ریجنل آرگنائزر ندیم پاشا ایڈوکیٹ,نواب طاہر خان خاکوانی چیئرمین ایف بی آر ایمپلائز ویلفیئر یونین آل پاکستان, ملک عرفان شاہد وائس چیئرمین ایف بی آر ایمپلائز ویلفیئر یونین آل پاکستان, ملک محمد حسین ایگزیکٹیو میں ممبر ریجنل ٹیکس آفس ملتان,شیخ عبدالواحدحسنین نواز ٹی ٹی سی کالج ملتان,کنز الرحمان, سید حسین مہدی, ندیم الدین قریشی ہاشمی ایڈوکیٹ ممبر مجلس عاملہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ملتان,چوہدری محمد اسلم جٹ ایڈووکیٹ,اور پاور لومز کے اسلم انصاری نے مزدوروں کے عالمی دن یومِ مئی کے موقع پر ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکہ و اسرائیل کی جارحیت نے چند دنوں میں پوری دنیا کو ہلا ڈالا ہے۔ ایک طرف عسکری حوالے سے امریکہ کی سبکی اور اسے چند ہفتوں میں انتہائی مہنگے اسلحے کے بے دریغ استعمال سے پہنچنے والے بھاری مالی اور تذویراتی نقصان کا معاملہ ہے۔ جس نے واحد عالمی طاقت یا سپر پاور کے طور پر امریکہ کے امیج پر (ایک اور) بھاری ضرب لگائی ہے۔ یہ درست ہے کہ جنگیں‘ اسلحہ سازی کی صنعت اور عسکریت سے جڑے دوسرے شعبوں اور ٹھیکیداروں وغیرہ کے لئے بہت منافع بخش ہوتی ہیں۔ لیکن جنگ کوئی تعمیری یا پیداواری عمل نہیں ہے۔ یہ کھلی تخریب اور تباہی کا نام ہے۔ جس میں وسائل کا رخ تعمیر سے تخریب کی طرف موڑا جاتا ہے۔ لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بلکہ تخریب کے اس عمل میں پیداواری قوتوں کو مزید تباہ و برباد کیا جاتا ہے۔ یوں یہ ایک دو دھاری تلوار ہوتی ہے۔ جو جب تک چلتی ہے‘ انسانوں کا قتل عام بھی کرتی ہے اور نوع انسان کو غریب بھی بناتی جاتی ہے۔ قلت، مانگ اور مہنگائی بڑھتی ہے۔ جنگی اخراجات کو پورا کرنے کے لئے ریاستوں کو خساروں اور قرضوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ لیکن یہ خسارے کون بھرتا ہے اور قرضے کون ادا کرتا ہے؟ اسلحے کی پیداوار سے لے کر اس کے استعمال کے نتیجے میں ہونے والی تباہی و بربادی تک کی قیمت آخر کار محنت کشوں کو ہی ادا کرنی پڑتی ہے۔چالیس روزہ جنگ کے نتیجے میں دسیوں لاکھ لوگ روزگار سے محروم ہو چکے ہیں اور تین کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے گر جائیں گے۔ دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں پہلے سے بے قابو مہنگائی میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔سرمایہ دارانہ نظام کی جنگوں سے معیشتوں کی جو تباہی ہوتی ہے اس کا ازالہ ہمیشہ محنت کش عوام پر لگائی جانے والی کٹوتیوں اور برطرفیوں سے کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے حملے مزدوروں کی تنخواہوں اور مراعات پر ہوتے ہیں۔ لیکن یہ افتاد یہیں ختم نہیں ہوتی۔ قلت اور مہنگائی سے محنت کشوں کو پہلے سے حاصل اجرتوں کی قوت خرید بھی گر جاتی ہے۔ جیسا کہ موجودہ جنگ میں بھی ہو رہا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ہر شے کو مہنگا کر دیا ہے اور اجرتوں میں اضافہ نہ ہونے کے باعث محنت کش خاندانوں کی غربت مزید گہری ہو گئی ہے۔ٹرانسپورٹ کی بندش اور لاک ڈاؤن وغیرہ کا اثر اگرچہ سب پر پڑتا ہے۔ لیکن اس کا سب سے زیادہ بوجھ ایک بار پھر محنت کش طبقے کی مختلف پرتیں ہی اٹھا رہی ہیں۔ جنگ بالفرض آج بند ہو جاتی ہے تو بھی اس کے مذکورہ عسکری و معاشی اثرات طویل عرصے تک نظر آتے رہیں گے۔ علاوہ ازیں حالت ”امن“ میں بھی دنیا بھر میں فوجی بجٹ بڑھیں گے۔ اسلحہ سازی کے اس جنون کے لئے درکار سرمایہ بھی محنت کے استحصال کو مزید تیز کر کے حاصل کیا جائے گا۔ 2026ء کا یومِ مئی ایسے ہی کٹھن حالات میں آ رہا ہے۔ 1886ء کے مزدوروں کی قربانی کو یاد کرتے ہوئے اہم سبق یہ ہے کہ مزدور کو اپنا ”وقت“ واپس لینا ہو گا۔ وہ وقت جو غیر متعین اوقاتِ کار نے چھین لیا ہے۔ آج 140 سال بعد اوقاتِ کار کا مسئلہ ایک بار پھر بنیادی مطالبات میں شامل ہو چکا ہے۔ لیکن آج یہ مسئلہ پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ بھی ہو گیا ہے۔ آن لائن اور انفارمل (غیر دستاویزی) معیشت اور کچی نوکریوں کے مزدور عملاً غیر محدود و غیر معینہ وقت کے لئے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ان میں صرف محنت کش طبقے کی غریب اور غیر مراعت یافتہ یا ’بلیو کالر‘ پرتیں ہی نہیں بلکہ بینکوں اور آئی ٹی کمپنیوں وغیرہ میں کامرکرنے والے وائٹ کالر مزدور بھی شامل ہیں۔ جنہیں ای میل اور موبائل فون کے ذریعے چوبیس چوبیس گھنٹے ’آن ڈیوٹی‘ رکھا جاتا ہے۔ یہ ایک نئی قسم کی غلامی ہے۔ن ذلتوں سے نجات کے لئے استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا۔ عہد حاضر کا یہ بنیادی اور اہم ترین فریضہ محنت کش طبقے کو ہی ادا کرنا ہے۔ تاکہ انسان روٹی روزی کی نہ ختم ہونے والی فکر سے آزاد ہو کے امن، آسودگی، اور بہتات کے ضامن حقیقی انسانی سماج کی تعمیر کر سکے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر میں 40B اور 40D پر ڈیوٹی کرنے والے اہلکاروں کو, رہائشی, کھانے پینے و میڈیکل کی سہولت فراہم کی جائیں۔ دوسرے اداروں کی طرح ایف بی آر کے ملازمین کو بھی ڈسپریٹی الاؤنس دیا جائے, سن کوٹہ بحال کیا جائے, دوران ڈیوٹی وفات پا جانے والے ملازمین کے لواحقین کے لیے خصوصی پیکج مہیا کیا جائے۔ پی او ایس (پوائنٹ آف سیلز) سے حاصل ہونے والی رقم ایف بی آر کے ملازمین کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ ختم کیے جائیں۔ مزدور دشمن پالیسیوں کا خاتمہ کیا جائے۔تعلیمی اداروں و ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ کا خاتمہ کیا جائے۔ مہنگائی, بیروزگاری, نجکاری کے خلاف آئی ایم ایف کی غلامی اور مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف۔۔۔سرمایہ داری اور سامراج کے خلاف اداروں, گلی محلے اور ہر سطح پر ”عوامی ایکشن کمیٹیوں ” کو تشکیل دیتے ہوئے منظم جدوجھد کو تیز کیا جائے۔









































Visit Today : 428
Visit Yesterday : 0
This Month : 428
This Year : 64147
Total Visit : 169135
Hits Today : 2469
Total Hits : 874283
Who's Online : 14




















