“ترقی کے نام پر بے احتیاطی: ایک طالب علم کی جان، کئی سوالات”

تحریر: کلب عابد خان
03009635323
ملتان کے مصروف علاقے ماڈل ٹاؤن چوک سے ناردرن بائی پاس کی جانب جانے والی سڑک پر آج پیش آنے والا دلخراش حادثہ ہر آنکھ کو اشکبار اور ہر دل کو غمگین کر گیا۔ ایک معصوم طالب علم، جو اپنی سائیکل پر معمول کے مطابق سفر کر رہا تھا، ایک تیز رفتار ٹرک کی زد میں آ کر زندگی کی بازی ہار گیا۔ یہ واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی، انتظامی اور شہری نظام کی کمزوریوں کا کھلا ثبوت ہے۔
یہ سڑک شہر کی ان اہم شاہراہوں میں شامل ہے جہاں ہیوی ٹریفک کا دباؤ ہر وقت موجود رہتا ہے۔ بڑے ٹرک، ٹرالے اور دیگر بھاری گاڑیاں دن رات اس راستے سے گزرتی ہیں۔ ایسے میں ایک سائیکل سوار طالب علم کا اس روڈ پر آ جانا یقیناً خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس خطرے کو کم کرنے کے لیے کوئی عملی اقدامات کیے گئے ہیں؟ کیا شہریوں کو محفوظ راستے فراہم کیے گئے ہیں؟ یا سب کچھ محض “احتیاط کریں” کے نعروں تک محدود ہے؟
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ اس علاقے کو تیزی سے کمرشل حب میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ نئی مارکیٹیں، پلازے اور کاروباری مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، مگر اس ترقی کے ساتھ بنیادی سہولیات اور حفاظتی انتظامات کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ سڑکوں کی حالت، ٹریفک کنٹرول، پیدل چلنے والوں کے لیے راستے، اور سائیکل سواروں کے لیے علیحدہ لین — یہ سب اب بھی خواب ہی نظر آتے ہیں۔
دوسری جانب تاجر برادری پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ واسا کے جاری ترقیاتی کاموں نے کئی علاقوں میں کاروبار کو مفلوج کر دیا ہے۔ سڑکوں کی کھدائی، سیوریج کے مسائل، اور ٹریفک کی بندش نے نہ صرف گاہکوں کی آمد کم کی بلکہ تاجروں کو مالی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کا براہ راست اثر کاروبار پر پڑ رہا ہے۔
مزید برآں، حکومتی سطح پر نافذ کیے گئے اوقات کار، جن کے تحت دکانیں رات 8 بجے بند کرنے کا حکم ہے، کاروباری سرگرمیوں کو مزید محدود کر رہے ہیں۔ ایک ایسا شہر جو رات گئے تک زندہ رہتا تھا، اب وقت سے پہلے سناٹے کا شکار ہو جاتا ہے۔ تاجر پریشان ہیں، مزدور بے روزگار ہو رہے ہیں، اور معیشت کا پہیہ سست پڑتا جا رہا ہے۔
یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسے بحران کو جنم دے رہے ہیں جہاں نہ صرف کاروبار متاثر ہو رہا ہے بلکہ انسانی جانیں بھی خطرے میں پڑ رہی ہیں۔ آج کا واقعہ اس کی ایک واضح مثال ہے۔ اگر سڑکوں پر مناسب سگنلز، سپیڈ کنٹرول، علیحدہ لینز، اور ٹریفک کی مؤثر نگرانی ہوتی تو شاید ایک معصوم جان بچائی جا سکتی تھی۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہیوی ٹریفک کے لیے متبادل راستے فراہم کیے جائیں تاکہ شہری علاقوں میں ان کا دباؤ کم ہو۔ دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بائی پاسز اور رنگ روڈز اسی مقصد کے لیے بنائے جاتے ہیں تاکہ بھاری گاڑیاں شہر کے اندر داخل نہ ہوں۔ مگر یہاں صورتحال اس کے برعکس ہے، جہاں ہیوی ٹریفک اور شہری زندگی ایک ہی سڑک پر ٹکرا رہے ہیں۔
انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ صرف ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات تک محدود نہ رہے بلکہ ان کے اثرات کا بھی جائزہ لے۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اسکولوں کے قریب سپیڈ بریکرز، ٹریفک وارڈنز کی تعیناتی، اور آگاہی مہمات فوری طور پر شروع کی جانی چاہئیں۔
والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو ایسے مصروف اور خطرناک راستوں سے دور رکھیں اور ٹریفک قوانین کی مکمل تربیت دیں۔ جبکہ ڈرائیور حضرات، خصوصاً ہیوی گاڑیوں کے ڈرائیورز، کو اپنی رفتار اور رویے میں احتیاط برتنی ہوگی۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آج کا حادثہ ہمیں ایک لمحے کے لیے جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے، مگر اگر ہم نے اس سے سبق نہ سیکھا تو کل ایک اور جان اسی بے احتیاطی کی نذر ہو سکتی ہے۔
یہ وقت ہے جاگنے کا، سوچنے کا، اور عملی اقدامات کرنے کا — ورنہ ایسے حادثات ہماری روزمرہ کہانی بن جائیں گے۔