اسلام آباد :  وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ پر ہنسنے پر چار نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔  اسلام آباد پولیس نے حیران کن اقدام کرتے ہوئے چار نوجوانوں کو عطا تارڑ  پر ہنسنے کے الزام میں کوئی مقدمہ درج کیے بغیر 24 گھنٹے سے زائد وقت  تک لاک اپ میں رکھا۔ نوجوانوں کی شناخت زین ، تیمور، سلمان اور قدیر کے ناموں سے ہوئی ہے جنہیں تھانہ کوہسار  پولیس نے گرفتار کیا۔ تھانہ کوہسار کے سٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کے مطابق عطاء تارڑ نے ان سے کہا کہ چاروں نوجوان ایک ریسٹورنٹ میں انہیں گھورتے رہے، ان پر ہنسے اور انہیں چور کہا۔ ایس ایچ او نے میڈیا پر معاملہ آنے کے بعد یقین دلایا ہے کہ اس کیس میں کچھ خاص نہیں ہے اور جلد ہی چاروں نوجوانوں کو رہا کردیا جائے گا۔ اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا “توہین عدالت، توہین الیکشن کمیشن، توہین آئی ایم ایف اور توہین تارڑ۔۔۔۔۔ اگر کوئی  جرم نہیں اس دور میں تو وہ توہین عوام ہے۔”