ملک کا سیاسی، معاشی، حکمرانی کا ڈھانچہ ناکام،،عید کے بعد آئی پی پیز مافیا، عوام کے استحصال کے خلاف تحریک چلائیں گے: امیر جماعت اسلامی پاکستان کا ملتان میں خطاب
ملتان(صفدربخاری سے) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں محض چہروں کی تبدیلی سے نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی سے حالات بدلیں گے، موجودہ سیاسی، معاشی اور حکمرانی کا ڈھانچہ عوامی مسائل کا حل دینے میں ناکام ہوچکا ہے، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور افسر شاہی کے گٹھ جوڑ نے عوام کو دبایا ہوا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان کے گول باغ چوک ممبر سازی مہم کے سلسلے میں قائم کیمپ کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی پورے ملک میں ممبر سازی مہم چلا رہی ہے اور ہدف رکھا گیا ہے کہ 50 لاکھ ممبران بنائے جائیں گے، جس کے لیے 50 ہزار کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ 80 سالہ قومی تاریخ نے یہ واضح کردیا ہے کہ صرف حکمران چہروں کی تبدیلی سے کچھ نہیں بدلتا۔ ان کے بقول ملک میں 33 سال مارشل لا کا راج رہا اور تمام بڑی سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی مرحلے پر مارشل لا قوتوں کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی پنجاب جنوبی سید ذیشان اختر، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پنجاب جنوبی ثنا اللہ سحرانی، امیر ضلع ملتان صہیب عمار صدیقی، امیر ضلع ملتان صدر حافظ محمد اسلم، نائب امیر ضلع چودھری اطہر عزیز و دیگر قائدین بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک کا نظام جاگیرداروں، وڈیروں اور اشرافیہ کے قبضے میں ہے جنہیں انگریزوں نے طاقت اور زمینیں دے کر مضبوط کیا اور وہی نوآبادیاتی ذہنیت آج بھی برقرار ہے۔ انہوں نے جنوبی پنجاب کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان جاگیرداروں کی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے بیوروکریسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افسران کو طاقت کے استعمال کی تربیت دی جاتی ہے، جس کی مثال ملتان اور دیگر شہروں میں ریڑھی بانوں کے ساتھ ناروا سلوک سے ہی دیکھی جاسکتی ہے۔ افسر شاہی کے ہاتھ میں اختیار آتے ہی رویہ بدل جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملتان میں ایک ہی خاندان کے تین ارکان قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ بھی اسی خاندان سے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کو بھی انہوں نے وڈیروں کی جماعت قرار دیا۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف اشتہارات کی بھرمار ہے اور دوسری جانب 11 ارب روپے کا جہاز خریدا جارہا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کسی پاکستانی جماعت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف آواز نہیں اٹھائی، فلسطین میں 80 ہزار افراد کی شہادت کے باوجود کوئی بڑی جماعت احتجاج کے لیے نہیں نکلی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک کا قرضہ گزشتہ چار سال میں 55 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 85 ہزار ارب روپے ہوگیا ہے اور سالانہ 8 ہزار ارب روپے صرف سود کی ادائیگی پر خرچ ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق شرح سود میں ایک فیصد اضافہ بھی 540 ارب روپے کا بوجھ بڑھا دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت موٹر سائیکل سواروں سے 153 روپے فی لیٹر ٹیکس لے رہی ہے، جس کے نتیجے میں وہ سالانہ 450 ارب روپے ادا کرتے ہیں، جبکہ تنخواہ دار طبقہ 650 ارب روپے ٹیکس دیتا ہے۔ اس کے برعکس آئی پی پیز کو 2 ہزار ارب روپے کی ادائیگیاں کی جاتی ہیں، جبکہ ایل این جی معاہدوں کو انہوں نے فراڈ قرار دیا۔ تعلیم کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف ملتان میں ڈھائی لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں، جبکہ آئین کے مطابق 5 سے 16 سال کے بچوں کو تعلیم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے سرکاری سکولوں کی آؤٹ سورسنگ پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اقتدار میں آکر سکول سے یونیورسٹی تک مفت تعلیم فراہم کرے گی اور”بنو قابل“ پروگرام کے تحت ہزاروں بچوں کو مفت آئی ٹی تعلیم دی جاچکی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ عید کے بعد آئی پی پیز مافیا اور کسانوں کے استحصال میں ملوث مڈل مین مافیا کے خلاف ملک گیر تحریک چلائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی ترقی کی شرح دو سال پہلے 6.4 فیصد تھی جو اب کم ہو کر 0.5 فیصد رہ گئی ہے، جو حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف سولر پر ٹیکس عائد کیے جارہے ہیں اور دوسری طرف اربوں روپے کے اخراجات کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو جماعتیں اپنی صفوں میں میرٹ قائم نہیں کرسکتیں وہ ملک میں میرٹ کیسے نافذ کریں گی۔




































Visit Today : 213
Visit Yesterday : 563
This Month : 2940
This Year : 66659
Total Visit : 171647
Hits Today : 990
Total Hits : 902565
Who's Online : 5






















