سیلاب کی تباہ کاریاں

تحریر:  کائنات کرن

پانی پانی کے اک شور میں کتنی چیخیں ڈوب گئیں
پہلے کچھ آوازیں ابھریں آخر سانسیں ڈوب گئیں

انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ تحریر کر رہی ہوں۔ دل بہت ہی رنجیدہ اور غمزدہ ہے پورے ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے جو حالات ہیں ان پر لکھنے کے لیے بہت ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہے ۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی ایک تصویر نے آج مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کردیا ہے ۔ ابھی کل ہی بات ہے جب میں نے اپنے فارغ اوقات میں انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لیے فیس بک آن کیا تو سوشل میڈیا استعمال کرنے والے ہر شخص کی وال پر لگی وہ تصویر دیکھ کر میرا دل مسوس ہوکر رہ گیا۔ جیسے کسی نے میرا دل اپنی مٹھی میں لے لیا ہو۔ سیلاب کی زد میں آنے والے ایک علاقے میں گیلی مٹی میں دفن ایک مجبور و بے کس انسان کی لاش __ جس کے صرف ہاتھ دکھائی دے رہے تھے یوں جیسے وہ آخری سانس تک زندگی سے لڑتا رہا ہو اور آہ و پکار کرتا ہوا وہ شخص زندگی کی بازی ہار گیا ہو۔ ہائے رے قسمت !
نجانے اس شخص کے دل میں کتنی ادھوری خواہشیں اور کتنے ارمان ہونگے۔ یقیناً وہ تصویر اور اس طرح کی کئی سیلاب سے متاثرہ تصاویر اور ویڈیوز ہر شخص کی نظر سے گزری ہونگی اور ہم سوائے افسوس کے اور کچھ نہیں کر سکتے۔ حقیقت میں تو عذاب ان پر نازل ہوا ہے جو ان حالات کا شکار ہوئے ہیں اور بھوکے پیاسے اپنی بے بسی کا ماتم کر رہے ہیں۔ کون سمجھ سکتا ہے یہ کرب ذرا سوچیں ! ہم اپنے گھروں کی چھت تلے بحفاظت اپنے بچوں کے ساتھ موجود ہیں جبکہ وہ غریب ‘ بد قسمت اور کمزور لوگ کس طرح پانی میں ڈوب رہے ہیں۔ ان کا سب کچھ اجڑ گیا اور برباد ہو گیا۔ ڈوبنے والوں میں بچے ‘ بوڑھے ‘ جوان اور حتیٰ کہ خواتین بھی شامل ہیں۔ بچوں کی معصوم شکلیں اور حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ گرمی اور حبس کے اس موسم میں ننگے سر اور بدن ‘ مٹی اور پانی میں پھنسے ہوئے انسان ‘ معصوم جانور ‘ گرتے ہوئے مکانات اور متاثرہ افراد کی آنکھوں میں پھیلی اداسی و نا امیدی کے نقش دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہمارے دل پر کسی نے چھری چلا دی ہو۔ انکے ایسے حالات کو دیکھ کر ایک درد بھرا ناول لکھا جاسکتا ہے ۔
تباہ کن سیلاب کی زد میں جکڑے ہوئے غریب لوگ ‘ جنکی خون پسینے سے کمائی ہوئی جمع پونجی میں چند اعداد میں موجود چارپائیاں اور بسترے ‘ ایک عدد کپڑوں کا صندوق ‘ کچھ گھریلو استعمال کے معمولی برتن ‘ کچھ مویشی اور چار دیواری پر مشتمل وہ کچے مکانات جو کہ انکی زندگی کا کل اثاثہ تھے کس طرح بے دردی سے سیلاب کی نظر ہوگئے۔ اور ان سب سے بڑھ کر انکے پیاروں کی قیمتی جانیں ہیں کسی کا باپ ان سے بچھڑ گیا تو کوئی اپنے بچوں کو پانی کی تیز دھاروں میں تلاش کرتارہا۔ کسی کو امید تھی کہ شاید کوئی معجزہ ہو جائے اور انکے پیارے ان سے آن ملیں۔ لیکن ایسا ہر گز ممکن نہیں ہے ۔
سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے سیلاب کی موجودہ صورتحال کی کوریج بہت ہی برے حالات سے آگاہ کر رہی ہے۔ جوں جوں حالات بگڑتے جا رہے ہیں اور محکمہ موسمیات نے مزید طوفانی بارشوں کی پیشین گوئی کردی ہے۔ اس ناگہانی آفت نے پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے بلوچستان ‘ سندھ ‘ خیبرپختونخوا حتیٰ کہ جنوبی پنجاب کے متعدد علاقے صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔ سیلاب اور طوفانی بارشوں سے ملک کے پیشتر علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہیاں اور نقصانات ہوئے ہیں جس کی وجہ سے کئی دیہات اور فصلیں زیرآب آ گئی ہیں اور دوسری طرف معیشت کو بھی بہت گہرا نقصان پہنچا ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق جنوبی پنجاب میں بھی بہت سے علاقے جس میں حاجی پور’ محمد پور’ راجن پور’ فاضل پور’ داجل’ تونسہ شریف’ ڈیرہ غازی خان’ مٹھوان’ ٹھٹھہ لغاری’ کوہ سلیمان وغیرہ شامل ہیں کسی حد تک اس آفت کی نظر ہوگئے ہیں۔ مزید برآں کئی پکے مکانات بھی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یقین ہی نہیں آرہا کہ حالات کتنی تیزی سےبدلتے جا رہے ہیں۔ پانی میں ڈوبے انسان ‘ جگہ جگہ لاشیں ‘ آہ و پکار اور بے بسی دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ہر گزرتا لمحہ انہیں موت کی طرف لے کر جا رہا ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اب تک تقریباً دو لاکھ ایکڑ سے زائد فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں اور چار ہزار سے زائد مکانات بالکل ختم ہوچکے ہیں۔ کئی علاقوں سے زمینی رابطے منقطع ہوگئے ہیں۔حکومتی سطح پر اس جانب سے مثبت اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ریسکیو 1122 اور فوج کی مدد سے سیلاب متاثرین کو حفاظتی مقامات پر پہنچایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کو محفوظ سرکاری سکولوں میں رکھا جا رہا ہے جہاں انہیں مفت خوراک اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ لیکن اتنا ہی نہیں سیلاب متاثرین کی تعداد میں جوں بہ جوں اصافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے متاثرہ افراد صاحب استطاعت اور مخیر حضرات کی امداد کے منتظر ہیں۔
ہمارے مذہبی و سیاسی قائدین کو چاہیے کہ سیلاب زدگان کی ہر ممکنہ مدد کریں اور انکے علاوہ مخیر حضرات کو چاہیے کہ وہ بھی متحرک ہوں اور متاثرین کی زیادہ سے زیادہ مالی امداد کریں۔
مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ ہمارے کئی پاکستانی آگے بڑھ کر ان دور دراز کے علاقوں میں پیدل چل کر پہنچ رہے ہیں جہاں پر کوئی مشینری یا گاڑی نہیں جا سکتی۔ وہ تمام افراد جو اس سلسلے میں انفرادی و اجتماعی کردار ادا کرکے سیلاب زدگان کی امداد کر رہے ہیں انکے لیے خیروبرکت کی ڈھیر ساری دعائیں ہیں۔
پوری پاکستانی قوم کو چاہیے کہ اپنی حیثیت کے مطابق متاثرین کی مدد کریں اور ان کے لیے دعا کریں کیونکہ اس وقت ہمارے پاکستانی بہن بھائی بڑی مصیبت میں مبتلا ہیں انکو ہماری مدد اور دعائیں درکار ہیں۔ اس موقع پر وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے اس آفت سے محفوظ رکھا ان پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ متاثرین کے غم میں برابر کے شریک ہوں اور انکی ہر ممکن مدد و تعاون کریں نیز ان کے حق میں بارگاہِ الٰہی میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں انکا نعم البدل عنایت فرمائیں۔

اللہ پاک اس ناگہانی آفت سے ہمارے پیارے ملک پاکستان کو بچائے اور متاثرین کی غیب سے مدد کرے۔ اللہ پاک ہمارے گناہوں کو معاف کرے اور ہم پر رحم فرمائے۔ اللہ پاک ہم سب کو اس مشکل گھڑی میں خدمتِ خلق کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین !