آسمان کے ستارے افق کے اس پار جانے والو شہداء پولیس کے جوانوں سلام تم پر سلام تم پر

تحریر  : محمد زبیر لودھی

یکم جون تا 30 جون تک شہداء پولیس ضلع ڈیرہ غازی خان میں 33 بہادر شیر دل سپوت مجرمان کے خلاف سینہ سپر ہو کر شہادت کے اعلی وارفع منصب پر فائز ہو چکے ہیں اپنے فرض کی قربانی گاہ پر ماؤں کے بیٹے بہنوں کے بھائی اور معصومین کے سہارے یوں قربان ہو رہے ہے جیسے محبت کی شمع پر پروانےنچھاور ہوتے ہیں فرض سے محبت کرنے والوں کی ایک یہی ادا تو ہوتی ہے کے ہر جانے والا پیچھے رہ جانے والوں کو تازہ ولولہ اور عزم دے جاتا ہے گویا ایک ہی مقصد خون بن کر سب کی رگوں میں گروش کر رہا ہے ضلع ڈیرہ غازی خان کے تین نوجوان جام شہادت نوش کرنے والے شہداء پولیس نوجوانوں کی شہادت تاریخ12 جون انیس سو اکانوے یوم شہادت علاقہ کوٹ مبارک تھانہ شہید غلام رضا کانسٹیبل اور دوسرا شہید 25 جون دوسرا شہید 25 جون سن 2000 مقام شہادت علاقہ تھانہ بی ڈویژن شہید عشق حسین اے ایس آئی جبکہ تیسرا شہید 30 جون سن 1988 مقام شہادت تھانہ تونسہ شریف شہید ارشاد حسین کانسٹیبل جو کہ ڈیرہ غازی خان درخشندہ ستارےکی مانند تھے زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں سیاسی و سماجی لوگوں کے علاوہ اساتذہ۔ صحافی وہ دانشور۔ ڈاکٹر ۔ایڈوکیٹ شہید عاشق حسین اے ایس آئی ۔شہید غلام رضا کانسٹیبل ۔اور شہید ارشاد حسین کانسٹیبل کوایک ہمہ پہلو شخصیت سمجھتے وہ فطرت کا ایسا تراشیدہ ہیرو تھے جس کے ہر زاویہ سے پریسم کی روشنی منفطف ہوتی ہے۔  جس چراغ سے روشن ہوئے بہت سے چراغ ۔وہ بجھ گیا تو ستاروں کی آنکھ بھر آئی اگر میں کہوں کہ ان تینوں شہیدوں نے ڈیرہ غازی خان کا نام بلند ترین بلند کیا ۔اللہ تعالی نے با عمل انسانوں کو خود جس تمغات سے نوازدہ ان تمام تمغات سے اعلی اور ارفع ہے اور وہ ہے تمغات شہادت جسے سجائے وہ آج بھی شہداء کے اس قافلے میں نمایاں نظر آتے ہیں جس کی قیادت سید الشہداء امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ اور امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی تعالی عنہ جنت کے سردار کر رہے ہیں ۔صلہ شہید کیا ہے تب و تاب جادوانہ میں محسوس کرتا ہوں شہید محمد عاشق حسین اے ایس آئی ۔شہید ۔ غلام رضا کانسٹیبل اور شہید ارشاد حسین کانسٹیبل تب و تاب جادوانہ کے ساتھ ہمارے درمیان موجود ہیں ۔