مسیحا آج بھی زندہ
bbc news urdu نے Wednesday، 27 April 2022 کو شائع کیا.
مسیحا آج بھی زندہ
رپورٹ (اظہار عباسی)

کہنے کو دو قدم کا فاصلہ ہےلیکن عمر کٹ جاتی ہے فاصلہ نہیں کٹتا ہم چل رہے ہیں مسلسل صبح کو چلتے ہیں شام کو چلتے ہیں خوابوں میں سفر کرتے ہیں ہم ہی کیا ہمارے ساتھ راستے بھی سفر میں ہیں منزل ملےتو منزل سفر میں ہوتی ہے یہ کائنات بھی مسافر ہے ہر شے راہی ہےہر شے سفر ہے نامعلوم سفر بے خبر مسافرنا آشنا منزل کوئی وجود ہمیشہ ایک جگہ نہیں رہ سکتا سفر کا آغاز سفر سے ہوا اور سفر کاانجام ایک نئے سفر سے ہوگا مسافر بے بس ہےمسافت کے سامنے ہم ہمہ تن گوش تھے تب وہ بولے پرندے اڑتے چلے جاتے ہیں فضائیں ختم نہیں ہوتیں مچھلیاں تیرتی چلی جاتی ہیں سمندر ختم نہیں ہوتا یہ سفر کب سے ہے نہ ابتدا کی خبر ہےنہ انتہا معلوم ہےلوگ آ رہے ہیں لوگ جا رہے ہیں آنسوؤں سے الوداع ہیں خوشی کے ساتھ خوش آمدید ہے جانے والے بھی مسافر اوربھینے والے بھی مسافر سب مسافر ہیں ہمیشہ سفر ہی سفر لیکن بعض شخصیت ایسی ہوتی ہیں جن کے جانے پر فضا اداس ہوجاتی یادیں بھولنے نہیں دیتیں ایک ایک پل یاد آتا ہے کہ اس کا دنیا میں رہنا کیسا تھا وہ صرف انسانیت کی خدمت کے لیے آیا اور انسانیت کی خدمت کرتا دنیا سے چلا گیا ملتان کی اس عظیم ہستی کا نام ڈاکٹر حنیف ہے ہر والدین کے لیے ڈاکٹر حنیف صاحب مسیحا تھا امیر ہو یا غریب بچوں کی آنکھوں کا تارا تھا زندگی کا ایک مقصد پاکستان کے بچوں کو صحت مند بناناہے فیس برائے نام کہ کسی کی دل آ زاری نہ ہو جہاں بڑے ڈاکٹر بچوں کے چیک اپ پر ہزاروں فیس لیتے تھے ڈاکٹر صاحب 70روپے لیا کرتے تھے ہزاروں غریب والدین بچوں کا مفت علاج کرایا کرتے تھے امیر ہو یا غریب فخرسے کہتے ہیں کہ ڈاکٹر حنیف صاحب سے بچے کا علاج کرا رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس انسان کے ہاتھ میں شفا رکھی تھی زندگی میں کھبی نماز نہ چھوڑی اپنی زندگی انسانیت کی خدمت میں وقف کر دی گلگشت کالونی ملتان میں قائم کلینک میں ڈاکٹر صاحب نے اپنی زندگی گزار دی ان کی وفات پر اپنے تو اپنے غیر بھی اداس ہیں اور ہر پل یاد کرتے ہیں سلسلہ یہاں روکا نہیں ان کے بچے بھی انسانیت کی خدمت پر مامور ہیں اور اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں ان کے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر عامر حنیف اپنے والد کے مشن کو آگے لے کر جا رہے ہیں یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے ڈاکٹرحنیف صاحب کی برسی کے موقع پر ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت طلب کرتے ہیں…آپ تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے لیے فاتحہ خوانی کریں
ٹیگز:-








































Visit Today : 164
Visit Yesterday : 558
This Month : 6157
This Year : 69876
Total Visit : 174864
Hits Today : 4159
Total Hits : 977148
Who's Online : 10























