وطن کی محبت میں

تحریر : ایم ایس اطہر قریشی
کولالمپور ملائیشیا
اگر آپ وطن سے محبت کرتے ہیں تو اس کو ضرور پڑھیں ہے یہ حقیقت ہے کہ عمران خان نیازی کو عالمی پلاننگ کے تحت اقتدار سے ہٹایا گیاکیوں کہ اب پاکستان کو عملی طور پر غیر مستحکم کرنے کا آغاز شروع ہو چکا ہے کراچی کو سنگاپور کی طرح ایک آزاد ریاست بنا بنائے جانے کی پلاننگ  امریکہ اور یورپی یونین کے تحت گوادر گوادر چین کی پلاننگ کے تحت اس کے قبضے میں چلا جائے گا پنجاب کو انڈیا کے ساتھ ملا کر آزاد سکھ ریاست اور قادیان کا نقشہ تیار کیا جارہا ہے کے پی کے کو افغانستان میں ضم کرنے کی پلاننگ مکمل طور پر تیار ہے اندرون سندھ کا حصہ سندھو دیش کے نام پر انڈیا سے ملا دیا جائے گاجیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ عمران خان کی حکومت کو ایک پلان کے تحت ختم کیا گیا یہ حقیقت ہے اور اس پلانگ میں عمران خان خود بھی شامل ہے کیوں کہ اس کے تحت عمران خان کو عوام کے اندر اور زیادہ مضبوط اور مستحکم بنا کر ابھارا جاناہے تاکہ وہ عوام کے سمندر کے ساتھ مسلح اداروں کے خلاف مضبوط انداز میں چٹا بنکر کھڑا ہو سکے اس سال پروگرام مکمل کرانے میں اسٹیبلشمنٹ کے بھی بہت سارے ہاتھ کارفرما ہیں الیکٹرانک اینڈ پرنٹ میڈیا کا ایک خاص گروپ بھی اس پلان کی تکمیل میں اپنا اہم کردار ادا کر رہا ہے اس کو یہودی لابی کی مکمل سپورٹ حاصل ہے یوں تو بظاہر الیکٹرانک میڈیا وہ ہاتھی ہے کہ جس کے دانت دکھانے کے اور ہیں اور کھانے کے اور ہے جو کام بیرونی قوتیں الطاف حسین کے ذریعہ نہیں کرا سکتی تھی وہ اب عمران نیازی کو مکمل کرنے کے لیے دے دیا گیا ہے اس پروگرام کی پہلی اور انتہائی اہم کڑی اسٹیٹ بینک آف پاکستان ورلڈ بینک کے زیر انتظام دے دیا گیا ہے پروگرام کا دوسرا حصہ عوام میں انتشار پھیلا کر خانہ جنگی کی صورت پیدا کرنا ہے اس طرح سے امر یکہ اور چائنیز فورسز کے ذریعے پاکستان کو ان کے کنٹرول میں دیا جائے گا لیکن اس سے پہلے پاکستان کا ایٹمی پروگرام ختم کرایا جائے گا
جس کے لیے عمران نیازی کے ذریعے عوام اور اداروں کے درمیان جنگ کی کیفیت پیدا کرائی جائے گی اور ملکی معیشت بالکل تباہ ہو جائے گی بظاہر عمران نیازی اس کام میں کامیاب ہوتا نظر آرہا ہے کیوں کہ وہ ہماری اسٹیبلشمنٹ یعنی ہمارے عسکری اداروں کے اندر آپس میں دراڑیں پیدا کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے ۔ اب صرف عوام کو میدان میں لانا تھا اس میں بھی کراچی کے جلسے کے بعد وہ کامیاب ہوتا نظر آ رہا ہے اس وقت صرف ایک ہی قوت ہے جو ملک کے اندر ہونے والے اس اس عدم استحکام اور ٹوٹ پھوٹ کے شکار کو روکنے میں کامیاب ہو سکتی ہے وہ ہمارے ملک کی مذہبی دینی جماعتیں ہیں ماضی کی طرح قائد ملت اسلامیہ حافظ القاری الشاہ احمد نورانی صدیقی رحمتہ اللہ علیہ نے جس طرح سے متحدہ مجلس عمل بنائی تھی اگر کوئی ایسا ہی کام عملی طور پر کیا جائے تو شاید ملک ٹکڑے ہونے سے بچ سکے لہذا مذہبی جماعتوں کو اس پر غور کرنا ہوگا اور فوری طور پر کوئی مضبوط ایکشن پلان بنانا ہوگا موجودہ حکومت جو پنجاب میں قائم ہوئی ہے یا مرکز میں قائم ہوئی ہے دونوں حکومتیں انتہائی کمزور ہیں وہ اس معاملے کو کنٹرول نہیں کر پائے گی
دونوں جگہ مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کو حکومت دلوانا یہ بھی عالمی سازش / پلاننگ کا ایک بہت بڑا حصہ ہے لہذا ملک کے وطن پاکستان اور پاکستانی عوام سے مخلص دانشوروں قلمکاروں میڈیا پرسن اور علماء اکرام کو آگے بڑھ کر اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہو گا اب سوچ و بچار اور دیر کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی جلد سے جلد پہلا قدم اٹھانا ہے اللہ تعالی کی نصرت حق اور سچ پر قدم اٹھانے والوں کے ساتھ رہتی ہے خاص طور سے مذہبی جماعتوں نے فلفور لایعمل دے کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اس میں سب سے اہم اسلامی جماعت امیر اہلسنت دعوت اسلامی کے ماتحت ہے دوسری تبلیغی جماعت
تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ اہم کردار نوجوان قیادت تحریک لبیک حافظ سعد رضوی کر سکتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے ملک کا حامی و ناصر ہو پاکستان زندہ باد