پی ایچ ڈی ای سی کا مینگو بیگنگ پائلٹ پراجیکٹ اور تربیتی ورکشاپ شروع،،پاکستانی آم کی عالمی مارکیٹ میں طلب بڑھنے لگی
ملتان: پاکستان ہارٹیکلچر ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی نے اپنے فلیگ شپ منصوبے “پائلٹ پراجیکٹ آن (PHDEC)مینگو بیگنگ” اور تربیتی ورکشاپ کا کامیاب آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد پاکستان کے آم کے شعبے میں جدید قبل از برداشت (Pre-Harvest) طریقوں کو فروغ دے کر معیار میں بہتری لانا ہے۔ افتتاحی تقریب ڈیرہ حاجی مشتاق احمد
کلرو، نزد قاسم بیلہ، ضلع ملتان میں منعقد ہوئی، جہاں ترقی پسند آم کاشتکاروں، برآمد کنندگان، کاروباری شخصیات، تحقیقاتی اداروں اور جامعات کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اس سرگرمی کا مشاہدہ کیا۔ تقریب میں بتایا گیا کہ مینگو بیگنگ ایک تکنیکی طور پر ثابت شدہ قبل از برداشت طریقہ ہے، جو پھل کے معیار، حفاظت اور برآمدی قدر میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔ اس عمل میں بڑھتے ہوئے آموں کو خصوصی بیگز سے ڈھانپا جاتا ہے تاکہ ایک کنٹرول شدہ ماحول پیدا ہو سکے، جس سے فروٹ فلائی کے حملے میں کمی، زرعی ادویات کی باقیات میں کمی، اور گردوغبار، دھوپ سے جھلسنے اور دیگر موسمی نقصانات سے تحفظ ممکن ہوتا ہے۔ تکنیکی طور پر یہ عمل آم کے رنگ، جلد کی چمک، سائز اور وزن میں بہتری لاتا ہے اور بین الاقوامی سینیٹری و فائیٹو سینیٹری (SPS) معیارات پر پورا اترنے میں مدد دیتا ہے، جس سے پاکستانی آم پریمیم عالمی منڈیوں کے لیے زیادہ موزوں بن جاتے ہیں۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر PHDEC، اطہر حسین کھوکھر نے اپنے استقبالیہ خطاب میں اس اقدام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ PHDEC نے تین سال قبل مینگو بیگنگ پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا تھا، اور اس کے کامیاب نتائج کے بعد اب یہ ٹیکنالوجی نجی شعبے میں بڑے پیمانے پر اپنانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے حوصلہ افزا نتائج نے کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کا اعتماد بڑھایا ہے، اور صنعت کو چاہیے کہ وہ ان اقدامات کو پوری سنجیدگی سے اپنائے تاکہ معیار میں بہتری اور قیمتی زرمبادلہ کے حصول کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ PHDEC سندھ اور جنوبی پنجاب میں مینگو بیگنگ کے فروغ کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے، اور وقت کے ساتھ یہ طریقہ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ متعدد کاشتکار اور برآمد کنندگان اس ٹیکنالوجی کو رضاکارانہ طور پر اپنا رہے ہیں، جبکہ کئی نجی شعبے کے گروپس نے خود بھی مینگو بیگز میں سرمایہ کاری کی ہے، جو اس طریقہ کار کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔ برآمد کنندگان کے مطابق مینگو بیگنگ کے باعث پھل کے معیار اور منافع میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ بعض کاشتکاروں نے روایتی طریقہ کار کے مقابلے میں دوگنا منافع حاصل ہونے کی اطلاع دی ہے۔ بہتر ظاہری شکل، اعلیٰ گریڈنگ اور جاپان، جنوبی کوریا، یورپی یونین، امریکہ اور چین جیسی بین الاقوامی منڈیوں میں زیادہ پذیرائی نے پاکستانی آم کی مسابقتی حیثیت اور برآمدی آمدن میں اضافہ کیا ہے۔ مینگو ایکسپرٹ عبدالغفار گریوال، جبکہ مینگو ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان سے ڈاکٹر آصف الرحمن اور ڈاکٹر جاوید اقبال نے تفصیلی تکنیکی سیشنز دیے، جن میں بیگنگ کے طریقہ کار، مناسب وقت، فوائد اور درست ہینڈلنگ سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ اس کے ساتھ فیلڈ میں عملی مظاہرے بھی کیے گئے تاکہ کاشتکار اس ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں اپنا سکیں۔ اختتامی خطاب میں محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان کے وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز) نے PHDEC کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے جدید اقدامات آم کے معیار میں بہتری اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی آم کی مضبوط پوزیشن کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مینگو بیگنگ کے وسیع پیمانے پر فروغ سے کاشتکاروں کو مقامی اور عالمی سطح پر بہتر اور پریمیم قیمتیں حاصل ہوں گی۔PHDEC کی جانب سے خاور ندیم، ذوالقرنین ذکاء اور صمصام رضا نے مینگو بیگنگ سرگرمی کی نگرانی کی اور ورکشاپ کے دوران کاشتکاروں، برآمد کنندگان اور تکنیکی ماہرین کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بنایا۔ PHDEC نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارہ جدید ٹیکنالوجیز، استعداد کار میں اضافے اور مارکیٹ پر مبنی اقدامات کے ذریعے باغبانی کے شعبے کی ترقی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا، تاکہ مصنوعات کے معیار میں بہتری، بعد از برداشت نقصانات میں کمی اور عالمی منڈی میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے





































Visit Today : 471
Visit Yesterday : 546
This Month : 3744
This Year : 67463
Total Visit : 172451
Hits Today : 3179
Total Hits : 911440
Who's Online : 5






















