ملتان : انجمن تاجران سیوڑہ چوک کا ہنگامی اجلاس ہوا ، جس میں تاجر رہنماو ¿ںمرکزی نائب صدر محمد اختر بٹ، جنوبی پنجاب و ملتان شہر کے صدر عارف فصیح اللہ، انجمن تاجران سیوڑا مارکیٹ کے صدر ملک زبیر کمبوہ، حاجی ریحان مغل جنرل سیکرٹری،محمد شفیع سیوڑا سینئر نائب صدر،صدر چوہدری الیاس،چوہدری سلیم کمبوہ،اشرف پہلوان،چوہدری پرویز گجر، سلیم اللہ خان سابق چیئر مین ، ملک جعفر کالر و، ملک زاہد کمبوہ ، ملک شاہد کمبوہ ایڈووکیٹ، حاجی صدیق برار ، سہیل عثمان ہاشمی انفارمیشن سیکرٹری ، ملک اسامہ کمبوہ، بشارت خان شیروانی فنانس سیکرٹری ، ملک عابد جوائنٹ سیکرٹری ملک یونس کمبوہ، ملک شریف سیوڑہ، عبدالطیف، ملک فضل کریم سیوڑہ، قاری باشم سعیدی، حافظ عرفان مغل، ملک یا سر سیوڑہ ،طارق ہانس، جہانزیب، عامر انصاری، جاوید قریشی، خرم ، شیخ عثمان ، رانا اویس، شیخ شفیق سمیت دیگر تاجر رہنماو ¿ں، معززین نے شرکت کی،محمد اختر بٹ،عارف فصیح اللہ، صدر ملک زبیر کمبوہ، حاجی ریحان مغل جنرل سیکرٹری نے خطاب کرتے ہوئے اجلاس میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مارکیٹوں کو جلد بند کرنے کی پالیسی کے منفی معاشی اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا، تاجر رہنماو ¿ں کا کہنا تھا کہ اس فیصلے نے ریٹیل سیکٹر کو شدید نقصان سے دوچار کر دیا ہے، جس کے باعث نہ صرف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ قومی خزانے کو بھی بھاری نقصان کا سامنا ہے،انہوں نے دعویٰ کیا کہ صرف دو ہفتوں کے دوران معاشی سرگرمیوں میں 200 ارب روپے سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ ممکنہ طور پر 50 ارب روپے تک کا ٹیکس ریونیو بھی متاثر ہو سکتا ہے،اجلاس کے شرکاءکا کہنا تھا کہ روزانہ کی بنیاد پر تاجروں کی آمدنی میں 25 سے 30 فیصد تک کمی واقع ہو رہی ہے، رات 8 بجے سے 10 بجے تک کاروبار اپنے عروج پر ہوتا ہے، مگر مارکیٹوں کی قبل از وقت بندش سے اس قیمتی وقت میں کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہو جاتا ہے، جس سے نہ صرف تاجروں بلکہ مزدور طبقے کے گھروں کے چولہے بھی متاثر ہو رہے ہیں، تاجر رہنماو ¿ں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی پر فوری نظر ثانی کرے، کیونکہ موجودہ فیصلے معاشی پہیہ کو سست کرنے کے مترادف ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو چھوٹے کاروبار مکمل طور پر ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو جائیں گے، جس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوں گے،اجلاس کے اختتام پر تاجروں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ کاروباری اوقات میں نرمی کی جائے تاکہ معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے اور عوام کا روزگار محفوظ رہ سکے۔