یوریاکھاد کا بحران، حکومت اور کسان

تحریر. مسعود عابد رشید
حکومت کے غیر سنجیدہ رویے، غیر ذمہ دارانہ اقدامات اور ناقص زرعی پالیسی کے باعث اس وقت ہر کسان کے یہی الفاظ زبان زد عام ہیں. میں ایک زمیندار ہوں. گندم کی کاشت اگر 15 ایکڑ ہے تو اس کے لیے 15 بوریاں یوریاکھاد کی ضرورت ہے. المیہ یہ ہے سارا دن لائن میں کھڑا رہنے کے بعد فرد پر 2 بوریاں تھما دی جاتی ہیں. اور کبھی وقت ختم ہو جاتا ہے. جہاں پر 15 بوریوں کی ضرورت ہو تو 2 بوریوں سے کیا کریں. یہی صورت حال رہی تو گندم کی پیداوار میں کمی آ جائے گی . جس سے ملک میں آٹے کا بحران پیدا ہو گا. کسان پہلے بھی ڈی اے پی 3500 والی 9500 روپے میں خرید چکے ہیں. اب کسانوں میں ذلیل ہونے کی مزید سکت نہیں رہی. روز روز لائن میں کھڑے رہیں. تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو اس پر آواز اٹھانی چاہیے. اگر کاشتکاروں کو کھاد بر وقت میسر نہیں ہوتی، تو وزیراعظم پاکستان کا 3 من فی ایکڑ اضافے والا خواب چکنا چور ہو جائے گا بلکہ ملک میں گندم کی پیداوار میں مزید کمی ہو جائے گی. جس سے آٹےکا بحران پیدا ہو سکتا ہے. غریب تو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے. ایسا نہ ہو لوگ آٹا نہ ملنے کی وجہ سے بھوکے رہنے پر مجبور ہو جائیں. اعلیٰ حکام اس مسئلے پر فوری توجہ دیں. اگر چہ ہر پلیٹ فارم پر زیادہ سے زیادہ آواز اٹھائی جا رہی ہے. لیکن حالات وہی ڈھاک کے تین پات والے ہیں. حکومت نے کھاد بنانے والی فیکٹریوں اور مافیا کو سبسڈی دی، حالانکہ یہ سبسڈی کسانوں کو دینی تھی. کھاد کی بوری پر حکومت کے معاشی مشیران نے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے ملک بھر میں دو فیصد کسانوں کو سبسڈی دی. اس میں زیادہ تر حصہ کھاد ڈیلرز، کھاد مافیا اور محکمہ زراعت کے افسران ہڑپ کرگئے، کسان بچارا لائن لگا رہ گیا. ضرورت اس امر کی ہے حکومت فوری طور پر ملک بھر میں زرعی ایمرجنسی نافذ کرے، موثر ترین زرعی پالیسی کا اعلان کرے، تاکہ پاکستان کو زرعی پیداوار میں خود کفیل بنایا جا سکے.