ملتان : انڈسٹریل اسٹیٹ بورڈ آف مینجمنٹ کے نائب صدر اور ایوان صنعت و تجارت کے سابق سینئر نائب صدر میاں راشد اقبال نے کہا ہے کہ کھاد کا بحران شدت اختیار کرتا جارہا ہے جس سے کسانوں کا معاشی قتل کیا جارہا ہے، کھاد نہ ملنے سے گندم کی فصل متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے، کھاد کے حصول کے لئے جس طرح کسانوں کو ذلیل ورسوا کیا جارہا ہے ،اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو کسان آئندہ سال گندم کاشت نہ کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں ،جس کا خمیازہ پوری قوم کو خوراک کی شدید کمی کی صورت میں بھگتنا پڑسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کھاد کے بحران کو ختم کرکے فوری کھاد فراہم کرے کھاد کی عدم فراہمی سے گندم کے کاشتکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ان دنوں گندم کو کھاد کی اشد ضرورت ہے مگر مارکیٹ میں کھاد کی عدم فراہمی سے گندم کی کاشت کو شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ زرعی شعبہ کی ترقی کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کی ضرورت ہے، کھادوں کی قیمتوں میں کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم سے کم کرنے کے اقدامات سے بھی زرعی شعبہ کی کارکردگی میں بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ملک میں کھاد کی شدید قلت اور بلیک مارکیٹنگ کی جارہی ہے جس کی وجہ سے کسانوں کو مشکلات کا سامنا ہے جو ملکی معیشت کے لئے لمحہ فکریہ ہے، گذشتہ 20 سال سے شعبہ کی کارکردگی میں کمی کا رجحان ہے اس لئے شعبہ کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کئے جائیں۔ کھاد کی قیمت میں اضافہ سے کاشتکار متناسب کھاد استعمال نہیں کر رہے جس کی وجہ سے پیداوار میں کمی آرہی ہے انتظامیہ کھاد بحران پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کھاد کی دستیابی یقینی بنانے کے لئے مزید سخت اقدامات اٹھانا ہوں گے