اوکاڑہ (نامہ نگار) یونیورسٹی میں مثالی نظام تعلیم کی تشکیل بذریعہ سائنسی و تکنیکی علوم تعلیمات نبوی روشنی میں ” کے عنوان میں دو روزہ سیرت النبی سلام کا نفرنس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس کا نفرنس کا اہتمام شعبہ علوم اسلامیہ اور علم اسلامیہ سیرت چیئر کی جانب
سے کیا گیا ہے۔ کانفرنس کی افتتاحی تقریب کی صدارت اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے کی ۔ کلیدی مقررین میں سرگودھا یونیورسٹی کے سابقہ
وی کی پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری ، معروف کالم نگار اور تجزیہ کار پروفیسر نعیم مسعود، پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ڈائر یکٹر کو آرڈینیشن ڈاکٹر تنویر قاسم اور
جامعہ پنجاب کے سیرت چیر پروفیسر ڈاکٹر عاصم نعیم شامل تھے۔ کانفرنس میں دنیا بھر سے محققین اور اسکالرز شرکت کر رہے ہیں۔ تقریب کے آغاز میں کا نفرنس چیر ڈاکٹر عبد الغفار نے کا نفرنس کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا نفرنس کے انعقاد کا مقصد بدلیتی ہوئی دنیا اور گلوبل وینچ کے تقاضوں کے مطابق نظام تعلیم کو ڈھالنے کے حوالے سے مباحث کرنا اور سفارشات مرتب کرنا ہے۔ پروفیسر سجاد مبین نے اپنے خطاب میں کا نفرنس
میں شرکت کر۔ کرنے والے تمام مقررین اور اسکالر کا شکریہ ادا کیا کردار سازی اور پیشہ وارانہ تربیت میں سیرت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہماری جامعات کو اچھے محققین اور سائنس دان تیار کرنے کے ساتھ ساتھ اچھے انسان اور شہری تیار کرنے پر بھی توجہ دینا ہو گی اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب سیرت نبوی ﷺ کی تعلیمات کو نظام تعلیم میں شامل کیا جائے ۔ پروفیسر اکرم نے اپنے کلیدی خطاب میں نصیحت کی کہ
دینی تعلیم فراہم کرنے والے تمام مدارس اپنے نصاب میں سائنسی علوم کو بھی شامل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآن پاک کی تقریبا 850 آیات میں قدرتی عوامل و عناصر کا ذکر ہے و ہے جو کہ سائنس کی بنیاد ہیں۔ پروفیسر نعیم مسعود کا کہنا تھا کہ اعلی تعلیم کے اداروں میں ہونی والی تحقیق کو ملٹی ڈسپلنری اور انٹر ڈسپلنری اپروچ کے تحت کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے بتایا کہ جامعات کو تنقیدی فکر اور تحقیق کے مراکز ہونا چاہیے جہاں سے معاشرے کی بہتری اور ترقی کے لیے مدل سکے۔ ڈاکٹر تنویر قاسم نے کہا کہ علوم اسلامیہ کے محققین کو امت مسلمہ کو در پیش چیلنجز تحقیق کرنی چاہیے اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حل پیش کرنے چاہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی دنیا کی موجودہ مشکلات فکری جمود کا نتیجہ ہیں۔ پروفیسر عاصم کا کہنا تھا کہ ترقی کے لیے ہمیں جدید علوم سیکھنا ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ سیرت نبوی کے کے تعلیمی پہلوں کو اپنانا ہوگا۔ کانفرنس میں دنیا بھر
سے 80 کے قریب محققین اپنے مقالہ جات پیش کر رہے ہیں۔ اپنے جات ۔ وائس چانسلر نے کا نفرنس چیر کو ہدایت کی ہے کہ کانفرنس کے اختتام پر تمام سفارشات مرتب کر کے ان کے دفتر میں جمع کرائی جائیں تا کہ ان کی روشنی میں ضروری اقدامات کیے جاسکیں۔