دماغی خلیے ڈی کوڈ کرنے کی مشین

مسیح اللہ جام پوری

آدھی رات بیت رہی تھی ، چوپال جم چکی تھی ، گاءوں کے لوگ اور راہ گزر مسافر آ رہے تھے ، اندھیرا گھپ تھا، ہاتھ کو ہاتھ سجائی نہیں دیتا تھا، چاند کی 29 تاریخ تھی ، ایک دیا ٹمٹا رہا تھا، کبھی کبھی کتے کے بھونکنے کی آواز ماحول کو مزید آسیب زدہ بنا رہی تھی ، ایک طویل قامت شخص نے دروازہ کھولاسب لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے ۔ پوچھنے پر بتایا میں پچھلے گاءوں سے آ رہا ہوں ، وہاں دو گروپوں میں لڑائی ہوئی تو ایک شخص کی جان گئی ، جب اس نے یہ کہا سب اس کی طرف متوجہ ہوئے اور بہ یک زبان بولے کس گاءوں کی بات کر رہے ہو، وہاں کون سے دو گروپوں میں فساد ہوا، وہ لوگ تو پر امن ہیں ، کبھی ان کے درمیان لڑائی جھگڑے کی کوئی بات نہیں سنی، اس طویل قامت شخص نے اپنا جبہ سنبھالا اور نیچے چٹائی پر بیٹھ گیا اور بولا میں وہاں اجنبی تھا ، ایک شخص سے ملنے گیا تو پتہ چلا کہ وہ پچھلے ہفتہ چل بسا ہے، اسی اثنا میں دو تین افراد جمع ہوئے اور تکرار کرنے لگے کہ وہ مرا نہیں بستی چھوڑ کر بھاگ نکلا ہے ، وہ کافی لوگوں کا مقروض تھا، وہ مقروض ہونے پر تھک چکا تھا، اس کے بچوں نے شور کر دیا کہ وہ مر گیا ہے، چوپال میں موجود لوگ ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے ۔ اسی اثنا میں ایک اور شخص حقہ اُٹھائے آ پہنچا اور کہا کہ ایک شخص ابھی آپ کے پاس پہنچا ہے ، دیا کی کم روشنی میں وہ اسے تلاش کرنے لگا ۔ ایک بزرگ بولا وہ شخص تو یہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا ہے، آنے والے نے اسے پہچان لیا اور بولا کہ تو جس کو تلاش کر رہا تھا وہ آ گیا ہے تمہیں بلا رہا ہے اور کہتا ہے اسے بولو آ کے اپنا قرض لے جائے ۔ آدھی رات بیت رہی تھی کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ معاملہ کیا ہے ، وہ شخص اس آنے والے شخص کے ساتھ ہو لیا اور چوپال کا دروازہ کھول کر باہر نکل کھڑا ہوا ۔ تھوڑٰ دیر بعد کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں اور چیخ و پکار الگ سنائی دی ، چوپال کے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور اندھیرے میں چل دئیے جس طرف سے آواز آ رہی تھیں اس سمت چلتے گئے، وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص کی لاش خون میں نہائی ہوئی ہے اور وہ تڑپ رہا ہے ، رات بیت چکی تھی ، مساجد کے لاءوڈ سپیکر آن ہوئے ،اذانوں کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں ، بھونکنے والے کتےتھک ہار کر اپنی اپنی جگہوں پرچلے گئے اور سو گئے ۔ پولیس تک اطلاع پہنچی ، ایک جتھہ موقع پر پہنچا پتہ نہیں چل رہا تھا کہ یہ خون کس کا ہے کس نے کیا ہے ۔ کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی کوئی بات بتانے والا، پولیس آفیسر نے بیگ سے ایک مشین نکالی اور کتوں کے بارے میں دریافت کیا، چوپال میں موجود ایک بوڑھا شخص بولا اس خون ریزی سے پہلے کتے بھونکے تھے، پولیس آفیسر نے پوچھا کہ کہاں چلے گئے انہیں تلاش کیا جائے، کچھ لوگ کتوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے، ان میں سے ایک شخص ایک سوتے ہوئے کتے کو پکڑ کرلایا، دوسرا دوسرے کتے کو لایا، تیسرا تیسرا کتا لایا ۔ پولیس افسر نے بیگ سے خود نکالا ،خود سے ایک کیپ نما ڈبہ نکالا اور ایک کتے کے منہ پر چڑھا دیا اور کتے کی آنکھیں بند ہو گئیں ، کچھ تاریں اور سوئیاں کتے کے سر میں پیوست کر دیں اور اس کے ساتھ سکرین بھی لگا دی ، یہ لوگ حیران ہوئے کیا ہو رہا ہے ، کتے نے اپنی یہ حالت دیکھ کر گوں گوں کرنا شروع کر دیا، سکرین پر جو فلم چلی وہ حیران کن تھی ۔ اس نے کتے پر خود چڑھایا اس کی تاریں اس کی کنپٹی پر پیوست کر دیں ، کتا خوب تڑپا لیکن پھر چپ ہو گیا، اس پولیس افسر نے بٹن آن کیا تو ایک فلم چل پڑی اس میں سکرین پر اچھی طرح دکھایا گیا کہ ایک شخص نے ایک ہاتھ سے اس کا گلا دبا دیا اور دوسرے نے اس کی ٹانگیں پکڑ لیں ، آدھے گھنٹے کی کارروائی میں وہ شخص مر گیا اور یہ لوگ خاموشی سے رات کی تاریکی میں نکل کھڑے ہوئے اور اب جب پولیس موقع پر پہنچی تو یہ لوگ آگے آگے تھے ، انہیں نہیں معلوم تھا اب جدید ترین ٹیکنالوجی سے دماغ میں آنکھوں کے ذریعے فلم والے مناظر دماغ فلم بند کر دیتا ہے وہ فلم چلی اور وہ قاتل موقع پر گرفتار ہو گئے، قاتل کون تھے وہی تھے جو طویل قامت شخص کے پیچھے آئے تھے اور جھاڑیوں میں چھپ گئے تھے ، کتوں نے یہ جو مناظر دیکھے انہوں نے بے تابی سے بھونکنا شروع کر دیا اور ان کے یہ مناظر دماغ میں فلمبند ہوتے رہے ، جس جدید مشین کتوں کے دماغ پر لگائی گئی تو مجرم قاتل پکڑے گئے اور طویل قامت بوڑھا آناً فاناً غائب ہو گیا ۔ امریکہ میں بھی ایک کیمرہ ایسا ہے جو گزرے لمحات کو فلمبند کرتا ہے، ایک کمرے میں چار آدمی بیٹھے ، ان میں لڑائی جھگڑا ہوتا ہے، ایک مارا جاتا ہے ، باقی بھاگ جاتے ہیں ، پولیس وہ کیمرہ لاتی ہے توکمرے میں موجود جو لوگ جہاں جہاں بیٹھے تھے ان کے خاکے کیمرہ فلمبند کر لیتا ہے، اس طرح مجرم تک پہنچا جا سکتا ہے، وہ وقت دور نہیں جب دماغوں کو پڑھنے کی ٹیکنالوجی عام ہو گی اور پرندے اور جانور جو آوازیں نکالتے ہیں وہ آوازیں بھی ڈی کوڈ ہوں گی ، پڑھی جا سکیں گی اور کوئی چیز راز نہیں رہے گی ، صرف مشین راج کرے گی اور کئی محکمے اور ادارے بے مصرف ہو جائیں گے ، ریاستوں کی آمدنی میں بے پناہ اضافہ ہو گا، بلا کی بے روزگاری ہو گی ، لوگوں کے کام کرنے کی جگہ مشینیں آ جائیں گی ، نہ وہ کسی کی سفارش سنیں گی اور نہ کسی کی حمایت کریں گی ، جو کچھ ہوا ہے وہ اس دنیا میں وہی کچھ ہوگا جو روز محشر میں ہوتا، نہ دلیل چلے گی ،نہ وکیل چلے گا ۔