ملتان : آزادی پاکستان میں خواتین کا کردار مثالی تھا۔ قلم، تلوار کے علاوہ تیسری طاقت خواتین ہیں، اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ تحریک پاکستان میں خواتین کی فعال شرکت کی بدولت ہمیں آزادی کا انمول تحفہ ملا۔ ان خیالات کا اظہار سیاسی،سماجی و سرائیکی رہنما حانیہ خان نے یوم آزادی کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ فاطمہ علی جناحؒ، بی اماں، بیگم امجدی بانو، بیگم رعنا لیاقت علی خان، فاطمہ صغریٰ، بیگم شفیع، لیڈی ہارون، بیگم نواب آف بھوپال اور بیگم سلمیٰ تصدق حسین کے شانہ بشانہ بے شمار خواتین تھیں جنہوں نے اپنی زندگیاں جدوجہد پاکستان کیلئے وقف کیں۔ ان خواتین کا مسلمانوں کیلئے علیحدہ ریاست حاصل کرنے کا جذبہ اپنی مثال آپ تھا۔ جبرو تشدد کا سامنا کرتے ہوئے خواتین کی فعال شرکت نے تحریک پاکستان میں ایک نئی روح پھونکی۔ یہ وہ خواتین تھیں جو بیسویں صدی میں علمی، معاشرتی، تعلیمی، سیاسی میدان کی جانباز سرگرم اور نڈر کارکن ثابت ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین نے رکاوٹوں کے باوجود سیاسی منظر نامے میں اپنا طاقتور کردار نبھایا۔ پاکستان کی جدوجہد آزادی میں خواتین کا سیاسی شعور اور علمی کردار کسی طور کم نہ تھا۔ خواتین نے قربانیوں کی وہ تاریخ رقم کی جو ہمیشہ کیلئے امر ہو گئی اور آنیوالے ہر دور کی خواتین کیلئے مشعل راہ بن گئی۔ تحریک پاکستان میں ہماری خواتین نے بحیثیت مائوں، بیٹیوں، بہنوں کے جو کردار ادا کیا دنیا کی سہڑی میں اس سے قبل اور آج تک اس کی مثال نہیں ملتی ۔ حانیہ خان نے کہا کہ قوم کی بیٹیوں نے دھرتی اور اس کے نظریہ کے دفاع کیلئے قربانیاں دی ہیں۔ آج قوم کی عظیم بیٹیوں کو سلام کرنے کا دن ہے جنہوں نے وطن کیلئے اپنی جانیں قربان کیں۔ سرائیکی وسیب کی خواتین صوبہ سرائیکستان کے حصول کیلئے آزادی تحریک پاکستان میں شامل خواتین کے جذبہ سے خود کو سرشار کریں کہ مائوں کی پیشانیوں پر قوم کی تقدیر لکھی ہوتی ہے۔