کوہلو: پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی (خوشحال خان کاکڑ) کی جانب سے کوہلو میں کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس کے مہمان خصوصی مرکزی سینئر سیکرٹری سید عبدالقادر آغا ایڈوکیٹ،صوبائی صدر و رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ زیرے تھے جبکہ دیگر مہمانوں میں صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز نعمت اللہ جلال زئی، احمد خان لونی،پروفیسر اسد خان ترین،زمان کا کڑ،غنی فدائی،عبدالسلام ناصر، ضلعی سیکرٹری دکی وزیر خان ناصر،معاون سیکرٹری زکریا خان ناصر، ضلعی معاون سیکرٹری لورالائی سردارزادہ زبیر خان کبزئی،چیئرمین محمد نبی کاکڑ،باچا خان کاکڑاور زبیر خان شامل تھے۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے کارکنان نے پارٹی رہنماؤں کو گرسنی سے درجنوں گاڑیوں پر مشتمل قافلے کی صورت میں سپورٹس اسٹیڈیم کوہلو تک لایا۔جہاں اسپورٹس کمپلیکس ہال میں تقریب کا اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر صوبائی صدر پی کے میپ نصراللہ زیرے نے پارٹی کے ضلعی عہدیداروں سے حلف لیا۔جس میں جمعہ خان زرکون ضلعی سیکرٹری،ملک شیر اعظم سینئر معاون سیکرٹری جبکہ معاون سیکرٹریز میں غلام بخش مری،محمد انور،شیخ احمد شاہ،فاضل خان،شیخ حمیداللہ،منیر احمد،عبدالغنی،سردارزادہ عطاء اللہ زرکون،بازمحمد زرکون،نعیم خان ایڈوکیٹ،ملک نعیم خان اوریانی،ملک سلیم زرکون،صاحبزادہ عبدالہادی شامل ہیں۔صوبائی ڈپٹی سیکرٹری غنی فدائی نے کانفرنس میں قرار داد پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کیا گیا۔قرارداد میں اقوم متحدہ کی جانب سے ملی شہید عثمان کاکڑ کی شہادت کے تحقیقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر تحقیقات جلد از جلد اقوام متحدہ کو فراہم کریں،قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ،1۔ صوبے کے وسائل پر عوام کی حق وملکیت تسلیم کیا جائے اور ہر قسم کی الاٹمنٹ منسوخ کرکے تمام قدرتی وسائل علاقے کے عوام کے حوالے کی جائے،2-دکی تا کوہلو روڈ کوتو سیع دے کر معیاری طور پر پختہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے،3۔گرلز کالج میں فوری طور پر کلاسز شروع کی جائے،4۔کیڈٹ کالج میں ضلع کوہلو کی نشستیں بڑھائی جائے،5۔کوہلو ٹاؤن میں پینے کے پانی کا مسئلہ حل کیا جائے،6۔ڈی ایچ کیو ہسپتال میں آپریشن کی سہولت فراہم کی جائے،7۔کوہلو تا سبی روڈ کی مرمت کی جائے۔تقریب میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کونسل ممبر ملک گامن خان مری،نوریز بلوچ،نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری وڈیرہ علی نواز مری،جمیعت علمائے اسلام کے ضلعی امیر مولانا محمد امین،عوامی اتحاد پارٹی کے نوریز مری،یوتھ فورم کے صدر مصری خان مری،وڈیرہ ربنوازژنگ،میر قیوم مری،میر غازیخان مری ودیگر سیاسی و قبائلی رہنماء موجود تھے۔تقریب سے خطاب میں ملک گامن مری،وڈیرہ علی نواز،مولانا محمد امین اور مصری خان مری نے کہا کہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی شہید عثمان کاکڑ کے فرزند کی قیادت میں پورے بلوچستان کے مظلوم و محکوم اقوام کی توانا آواز ہے پی کے میپ سمیت تمام بلوچ وپشتون قوم پرست جماعتیں ایک ساتھ مل کر صوبے کے وسائل اور حقوق کی تحفظ کے لئے جدوجہد کریں۔تقریب سے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سینئر سیکرٹری سید عبدالقادر آغا ایڈوکیٹ نے کہا کہ پشتون بلوچ ودیگر ملک میں بسنے والے مظلوم ومحکوم اقوام ملک میں مساوی حقوق سے محروم ہیں ملک میں ایک طبقہ بلوچ پشتون ودیگر اقوام کو غلامی کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے ہماری ثقافت،روایات کو نقصان پہنچایا جارہا ہے بلوچ پشتون علاقوں کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ ایک حلقے نے پارٹی میں جمہوریت،کارکنان اور پارٹی نظریہ کے برعکس پارٹی کو مفلوج بنا کر رکھا ہوا تھا اورہر جگہ پر یہی کہہ رہے ہیں کہ ہمیں پارٹی سے نکالا گیا ہے لیکن ہم واضع کرنا چاہتے ہیں کہ ہم ان سے الگ ہوگئے ہیں اور نظریاتی کارکنوں کو ایک جگہ پر جمع کرکے اکابرین کے نظریے پر عمل پیرا ہیں۔پارٹی کے صوبائی صدر اور رکن صوبائی اسمبلی نصر اللہ زیرے نے کہا کہ پارٹی چیئرمین خوشحال کاکڑ اور شریک چیئرمین مختیار یوسفزئی کی طرف سے کوہلو میں کامیاب کانفرنس اور نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ پارٹی نے ملک میں مظلوم محکوم اقوام پشتون بلوچ سندھی سرائیکی کے حقوق،جمہوری سوچ اور وسائل کے حصولِ کے لئے جدوجہد کی۔ قدرت نے ہمارے سرزمین کو گیس، تیل، کوئلہ، کرومائیٹ، یورینیم، ریکوڈک، سیندک اور سوئی گیس جیسے بہت سارے قدرتی وسائل سے مالامال کیا ہوا ہے جس سے پورے ملک کی معیشت کو سہارا دیا ہوا ہے۔ چشمہ بیراج سے پنجاب اور سندھ آباد ہے لیکن ہمارے لوگ دربدر اور سہولیات سے محروم ہیں۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا آدھا حصہ ہے وسائل یہاں سے لئے جارہے ہیں پورا ملک اس سرزمین کے وسائل سے آباد ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں ڈبل روڈ تک دستیاب نہیں کوئٹہ ژوب،کوئٹہ ڈی جی خان براستہ رکنی،کوئٹہ سبی،کوئٹہ چمن اور کوئٹہ خضدار کی شاہراہیں ابھی تک سنگل ہیں انہیں ڈبل نہیں کیا جارہا ہے جس سے صوبے کے 9 ہزار لوگ روڈ ایکسڈینٹ میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ پورے پنجاب میں جہاں دس کروڑ کی آبادی ہے صرف 4 ہزار لوگ روڈ ایکسیڈنٹ میں زندگی کی بازی ہار گئے ہیں انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ہر جگہ موٹرویز تعمیر کئے گئے ہیں۔رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ زیرے نے کہا کہ شمالی و جنوبی وزیرستان کے لوگ اس وقت نقل مکانی کرگئے ہیں وہاں کے سونے اور کاپر کے ذخائر کو بے دردی سے لوٹا جارہا ہے وزیرستان کے لوگ در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ان کی زمین کا سونا اور کاپر چرایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوہلو شہر بنیادی سہولیات سے محروم ہے،دکی تاکوہلو سڑک نہ ہونے کے برابر ہے، ہمارے لوگ ہیپاٹائٹس اور مختلف موذی بیماریوں میں مبتلا ہیں ضلع میں ہسپتال تو ہے لیکن ڈاکٹر نہیں ہیں، کالج ہیں مگر کلاسز شروع نہ ہوسکے۔رکن صوبائی اسمبلی نے کہا کہ اس ملک میں بلوچ پشتون کو تسلیم ہی نہیں کیا جارہا ہے بلوچ رہنماء اور پشتون رہنماؤں نے جلا وطنی،قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں۔ شہید عثمان لالہ نے حیات بلوچ، رابعہ بلوچ سمیت دیگر مظلوم پشتون بلوچ ودیگر اقوام کی بات کی ہے، انہیں ان باتوں سے دستبردار کرنے کے لئے دھمکیاں دی گئی،ایوان بالا کے فلور پر انہوں نے اپنے قتل سے قبل دھمکیوں اور خاموش کرانے کے حوالے سے اظہار خیال کیا ہے انہیں مظلوم عوام کے حق میں بولنے پر17 جون کو شہید کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کوہلو کے عوام کے ہر مسائل کو اسمبلی کے فلور پر اجاگر کیا ہے۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اپنے نوجوان قیادت خوشحال کاکڑ اور شریک چیئرمین مختیار یوسفزئی کی قیادت میں متحد ہے کوہلو کے عوام،سیاسی و قبائلی عمائدین کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں عزت بخشی ہے اور اس امید کا اظہار کرتا ہوں کہ ہم سب مل کر کوہلو کے مسائل کے لئے مشترکہ طور پر جدوجہد کریں گے ۔ دریں اثناء ملک شیر اعظم زرکون کی جانب سے معزز مہمانوں کے اعزاز میں پر تکلف ظہرانہ دیا گیا جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء نوریز بلوچ کی جانب سے مہمانوں کے اعزاز میں چائے پارٹی بھی دی گئی ۔