اسلام آباد:  وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی سوچ تبدیل ہوئی ہے ، اب وہ سیاسی بات کر رہے ہیں ، پاکستان تحریک انصاف سے بات ہونی چاہئے ۔  خواجہ آصف نے کہا کہ  پاکستان تحریک انصاف سے  گفتگو کسی ایک نقطے پر نہیں ہونی چاہئے یہ مفاد پرستی ہو گی ، اس کو گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی شکل دینی چاہئے  تاکہ تمام شراکت دار بیٹھ کر مسائل دیکھ سکیں جو الیکشن سے بھی بڑے ہیں جس میں معیشت سر فہرست ہے ۔ خواجہ آصف نے کہا کہ  راولپنڈی نیوٹرل ہو گیا ہے  اسی طرح عدلیہ اور ایگزیکٹو کو بھی  اپنے حدود میں رہنا ہوگا ، فوج نے ایک انیشیٹو لیا ہے  تو باقیوں کو بھی حدود میں رہنا ہوگا ، اس ملک میں سب کی شراکت داری ہے ۔ بیٹھ کر سارے مسئلے حل ہو جائیں گے ، بنگلہ دیش میں روڈ میپ طے کیا گیا ہے ، یہاں پر بھی  طے کیا جائے ۔ خواجہ آصف نے کہا کہ کابل میں سفیر پر حملے کا مطلب ہے کہ حالات بہت خراب ہیں ، ہم  چاہتے ہیں افغانستان میں امن ہو ، افغانستان میں خلفشاف کا نقصان ہمیں بھی ہوگا ، ہماری دعا ہے کہ وہاں امن ہو ، ٹی ٹی پی جو بھی حملہ کرے گی اس کے تانے بانے افغانستان سے ملیں گے ، ناظم الامور پر حملے کے معاملے پر نیشنل ایکشن کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جانا چاہئے ، شائد اجلاس اگلے ہفتے طلب کیا جا سکتا ہے ۔