خطے میں بڑھتا ہوا آتش فشاں: ایران، امریکہ، اسرائیل کشیدگی اور پاکستان کے لیے نئے خطرات و امکانات

تحریر: کلب عابد خان
03009635323

موجودہ عالمی حالات ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کو ایک ایسے نازک موڑ پر لے آئے ہیں جہاں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی بھی وقت ایک بڑے اور وسیع علاقائی تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے اور یہ صورتحال صرف تین ممالک تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا کی سیاست، معیشت، توانائی کی منڈیوں اور سفارتی توازن پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں، آج کے حالات میں یہ کشیدگی زیادہ پیچیدہ اس لیے بھی ہو چکی ہے کہ روایتی جنگوں کی جگہ اب پراکسی وار، سائبر حملے، محدود فوجی کارروائیاں اور خفیہ آپریشنز نے لے لی ہے جس نے خطے کو ایک غیر واضح مگر مسلسل خطرے کی فضا میں مبتلا کر رکھا ہے، ایران اور امریکہ کے درمیان پہلے ہی جوہری پروگرام، پابندیوں اور خطے میں اثر و رسوخ کے معاملے پر شدید اختلافات موجود ہیں جبکہ اسرائیل اپنی سکیورٹی پالیسی کے تحت ایران کے کسی بھی عسکری یا جوہری پیش رفت کو براہ راست خطرہ تصور کرتا ہے جس کے نتیجے میں یہ تنازع مزید گہرا اور حساس ہوتا جا رہا ہے، حالیہ عرصے میں خطے میں ہونے والے مختلف حملے، جوابی کارروائیاں اور سفارتی تناؤ اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ صورتحال صرف بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ زمینی سطح پر بھی کشیدگی بڑھ چکی ہے، خلیجی خطے میں سکیورٹی صورتحال غیر یقینی ہے جبکہ بحیرہ احمر اور قریبی سمندری راستوں میں بھی کشیدگی نے عالمی تجارت کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے جس سے تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے، اسی طرح اسرائیل اور ایران کے درمیان بالواسطہ محاذ آرائی لبنان، شام اور عراق جیسے ممالک میں مزید شدت اختیار کرتی جا رہی ہے جہاں مختلف گروہ اور ملیشیائیں اس کشمکش کا حصہ بن چکی ہیں، امریکہ اپنی روایتی پالیسی کے تحت اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی اور دفاعی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ ایران خطے میں اپنی دفاعی اور سیاسی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے علاقائی اتحادیوں پر انحصار کر رہا ہے، اس پورے منظرنامے میں پاکستان کی صورتحال انتہائی اہم اور حساس ہے کیونکہ پاکستان نہ صرف جغرافیائی طور پر اس خطے کے قریب ہے بلکہ اس کے ایران، خلیجی ممالک، امریکہ اور چین کے ساتھ بھی اہم تعلقات موجود ہیں اور یہی توازن پاکستان کی خارجہ پالیسی کو مزید نازک بنا دیتا ہے، آج کے حالات میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ کس طرح اپنی غیر جانبدار پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی دباؤ سے بچ سکتا ہے کیونکہ کسی بھی بڑی طاقت کے ساتھ کھڑا ہونا یا اس کے خلاف مؤقف اختیار کرنا پاکستان کے اندرونی اور بیرونی حالات پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے، اگر موجودہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو پاکستان کو سب سے پہلے اپنی سرحدی سلامتی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ ایران کے ساتھ طویل سرحد پہلے ہی حساس علاقوں پر مشتمل ہے اور کسی بھی عدم استحکام کی صورت میں اسمگلنگ، عسکری نقل و حرکت اور سکیورٹی خطرات بڑھ سکتے ہیں، اس کے علاوہ پاکستان کی معیشت جو پہلے ہی مہنگائی، قرضوں اور توانائی کے بحران کا شکار ہے مزید دباؤ میں آ سکتی ہے کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور تجارتی راستوں کی بندش پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے شدید مشکلات پیدا کر سکتی ہے، اسی طرح اگر خطے میں جنگی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو مہاجرین کا ایک نیا بحران بھی جنم لے سکتا ہے جو پاکستان کے لیے انتظامی اور انسانی دونوں سطحوں پر ایک بڑا چیلنج ہوگا، موجودہ حالات میں پاکستان کے لیے سب سے دانشمندانہ پالیسی یہی ہے کہ وہ مکمل غیر جانبداری، سفارتی توازن اور امن کے فروغ کو اپنی اولین ترجیح بنائے اور کسی بھی فوجی بلاک کا حصہ بننے سے گریز کرے، پاکستان ماضی میں بھی کئی بار ایسے علاقائی بحرانوں میں ایک متوازن کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور آج بھی اس کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ سفارتی پل کا کردار ادا کر کے کشیدگی کم کرنے میں مدد دے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی داخلی سیاسی اور معاشی کمزوریوں پر بھی قابو پائے کیونکہ کمزور معیشت اور غیر مستحکم سیاسی صورتحال کسی بھی مضبوط خارجہ پالیسی کو کمزور کر سکتی ہے، عالمی سطح پر طاقت کا توازن اس وقت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور بڑی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے لیے نئی صف بندیاں کر رہی ہیں جس کے نتیجے میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک پر دباؤ مزید بڑھ رہا ہے، اسی پس منظر میں پاکستان کو نہ صرف محتاط بلکہ فعال سفارت کاری اختیار کرنا ہوگی تاکہ وہ کسی بھی بڑے تنازع کے اثرات سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکے، حقیقت یہ ہے کہ جنگیں کبھی بھی مسائل کا مستقل حل نہیں ہوتیں بلکہ یہ صرف تباہی، غربت اور عدم استحکام کو جنم دیتی ہیں جبکہ مکالمہ، سفارت کاری اور باہمی اعتماد ہی وہ راستے ہیں جو دیرپا امن کی ضمانت دے سکتے ہیں، ایران، امریکہ اور اسرائیل اگر واقعی خطے میں استحکام چاہتے ہیں تو انہیں طاقت کے استعمال کی بجائے سیاسی حل اور مذاکرات کی طرف آنا ہوگا کیونکہ موجودہ دور میں جنگ کسی بھی ملک کے لیے فائدہ نہیں بلکہ نقصان کا باعث بنتی ہے، پاکستان کے لیے بھی یہی سبق ہے کہ وہ اپنی داخلی ترقی، توانائی کے استحکام اور معاشی بہتری پر توجہ دے اور خارجہ پالیسی میں توازن، تحمل اور دانشمندی کو برقرار رکھے تاکہ وہ آنے والے ممکنہ عالمی بحرانوں سے محفوظ رہ سکے، آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ آج کا عالمی منظرنامہ ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر فیصلہ مستقبل کے خطے کی سمت کا تعین کرے گا اور اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ممالک تحمل، مکالمے اور امن کو اپنی پالیسیوں کی بنیاد بنائیں کیونکہ یہی واحد راستہ ہے جو دنیا کو ایک بڑے بحران سے بچا سکتا ہے اور انسانی ترقی کا سفر جاری رکھ سکتا ہے۔