جعلی ادویات کا جال,,,, شفا کے نام پر موت کی منڈی
جعلی ادویات کا جال — شفا کے نام پر موت کی منڈی
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
انسان جب بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کی سب سے بڑی امید دوا ہوتی ہے۔ وہ اپنی تکلیف، اپنی کمزوری اور اپنی بے بسی کو ایک چھوٹی سی گولی، ایک انجکشن یا ایک شربت کے سپرد کر دیتا ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ یہ دوا اسے صحت کی طرف واپس لے جائے گی، اس کے درد کو کم کرے گی اور زندگی کو دوبارہ معمول پر لائے گی۔ لیکن اگر یہی دوا جعلی ہو، اگر یہی انجکشن زہر بن چکا ہو، تو پھر یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا المیہ بن جاتا ہے۔
حالیہ کارروائی میں نیوز الرٹ ٹیم نے محکمہ ہیلتھ کے ہمراہ ایک ایسے مکروہ دھندے کو بے نقاب کیا جس نے انسانیت کو شرمسار کر دیا۔ گھروں میں منوں کے حساب سے جعلی ادویات اور ٹیکے تیار کیے جا رہے تھے۔ یہ کوئی معمولی جرم نہیں بلکہ کھلی دہشت گردی ہے، جہاں بندوق کی جگہ دوائی کو ہتھیار بنایا گیا ہے اور نشانہ بے گناہ مریض ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ سب کچھ کسی دور دراز علاقے میں نہیں بلکہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔
یہ سوال اب شدت سے اٹھ رہا ہے کہ یہ جعلی ادویات کہاں جا رہی تھیں؟ یقیناً یہ کسی گودام میں پڑی نہیں رہتی تھیں بلکہ بازاروں، میڈیکل اسٹورز اور شاید ہسپتالوں تک بھی پہنچ رہی تھیں۔ ایک عام شہری جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور بیماری کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، جب اپنی جمع پونجی خرچ کر کے دوا خریدتا ہے تو اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ شفا خرید رہا ہے یا اپنی موت۔
بدقسمتی سے پاکستان میں ادویات کا شعبہ ایک طویل عرصے سے بے ضابطگیوں کا شکار رہا ہے۔ قوانین تو موجود ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ ڈرگ انسپکٹرز کی کمی، کرپشن، سیاسی مداخلت اور ناقص نگرانی نے اس شعبے کو مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جعلی ادویات بنانے والے عناصر کھلے عام اپنے کاروبار کو فروغ دے رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔
یہ صورتحال صرف محکمہ ہیلتھ کی ناکامی نہیں بلکہ پورے نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ جب ریاست اپنے شہریوں کو معیاری اور محفوظ ادویات فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے تو پھر عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہو جاتا ہے۔ مریض ڈاکٹر پر شک کرنے لگتا ہے، دوا ساز کمپنیوں پر سوال اٹھنے لگتے ہیں اور ہر میڈیکل اسٹور مشکوک نظر آنے لگتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو وقتی کارروائیوں سے نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ ادویات کی تیاری، ترسیل اور فروخت کے پورے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرے۔ ہر دوا کی مکمل ٹریکنگ ہو، بارکوڈ سسٹم کو مؤثر بنایا جائے اور کسی بھی غیر قانونی فیکٹری یا گودام کو فوری طور پر بند کر کے ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ عوامی شعور بیدار کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ لوگوں کو یہ آگاہی دی جائے کہ وہ صرف مستند اور رجسٹرڈ میڈیکل اسٹورز سے ہی ادویات خریدیں، دوا کی پیکنگ، ایکسپائری ڈیٹ اور کمپنی کا نام ضرور چیک کریں اور کسی بھی مشکوک دوا کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر اجاگر کرے تاکہ عوام میں خوف نہیں بلکہ آگاہی پیدا ہو۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوگا، اس طرح کے جرائم پر مکمل قابو پانا مشکل ہے۔ اگر متعلقہ اداروں کے اندر ہی بدعنوانی موجود ہو تو پھر ایسے مافیا کو روکنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس لیے احتساب کا عمل بھی سخت اور شفاف ہونا چاہیے تاکہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہ ہو۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جعلی ادویات کا کاروبار صرف ایک غیر قانونی عمل نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ یہ وہ ظلم ہے جو خاموشی سے لوگوں کی جانیں لے رہا ہے اور معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ اگر آج اس کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے گئے تو کل ہر مریض اس خوف کے ساتھ دوا کھائے گا کہ شاید یہ اس کی آخری خوراک ہو۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ایک محفوظ معاشرہ چاہتے ہیں یا ایسا نظام جہاں زندگی بھی غیر یقینی ہو جائے۔ کیونکہ جب دوا ہی دو نمبر ہو جائے تو پھر شفا کی امید بھی دم توڑ دیتی ہے۔









































Visit Today : 392
Visit Yesterday : 581
This Month : 12624
This Year : 60460
Total Visit : 165448
Hits Today : 6904
Total Hits : 835701
Who's Online : 8



















