پولیو کے خلاف جنگ،،ملتان میں علماء ورکشاپ، پولیو کے خاتمے کے لیے مشترکہ کردار پر زور
ملتان: پاکستان نیشنل پولیو پلس کمیٹی روٹری انٹرنیشنل کے زیر اہتمام پولیو کے خاتمے میں علماء کے کردار، پولیو ورکرز کی معاونت، پولیو ویکسین سے متعلق غلط فہمیوں کے ازالے اور اسلام میں ذمہ دار والدین کے تصور کے حوالے سے علماء ورکشاپ منعقد ہوئی، جس میں علماء، طبی ماہرین، سماجی رہنماؤں اور محکمہ صحت کے افسران نے شرکت کی۔نیشنل چیئر پاکستان نیشنل پولیو پلس کمیٹی عزیز میمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے علماء کرام، والدین، طبی ماہرین اور سماجی حلقوں کو متحد ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ورکرز قومی ہیرو ہیں جو بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کے ساتھ تعاون ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔پولیو کوآرڈینیٹر ساؤتھ روٹری کلب ملتان چناب محمد حنیف نے کہا کہ دنیا میں پولیو صرف پاکستان اور افغانستان میں باقی رہ گیا ہے جبکہ پاکستان میں صرف ایک کیس رپورٹ ہوا ہے اور ساؤتھ پنجاب میں کوئی کیس سامنے نہیں آیا، جو خوش آئند امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ڈبلیو ایچ او کے ٹیم لیڈر ڈاکٹر عابدی ناصر نے کہا پولیو ویکسین محفوظ اور مؤثر دواہے، اس حوالے سے پھیلائی جانے والی غلط فہمیاں بے بنیاد ہیں، ڈاکٹر احمد سہیل، ڈاکٹر عبدالنصیر، فاطمہ فراز (یونیسیف)، مفتی کاشف فرید، مولانا فاروق نقشبندی، پروفیسر عبدالقدس صہیب، اشعر علی، رانا عدیل تصور، ڈی ایچ او ڈاکٹر جہانزیب خان، ڈاکٹر بابر حسین، ڈاکٹر ہادی حسن، ڈاکٹر ارشد عباس، خواجہ محمد حسین، سابق ڈسٹرکٹ گورنر چوہدری ذوالفقار علی، ڈاکٹر یاسین صابر، ڈاکٹر سحبان ضیاء ملک، ڈاکٹر علی مہدی، اسسٹنٹ گورنر رب نواز، ڈاکٹر یاسر، مفتی عبداللہ اور مفتی وقاص نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام بچوں کی صحت، حفاظت اور بہتر پرورش کا درس دیتا ہے، اس لیے والدین پر لازم ہے کہ وہ ذمہ دار والدین ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔ علماء کرام نے کہا کہ مساجد، مدارس اور دینی اجتماعات کے ذریعے انسداد پولیو کے پیغام کو عام کیا جائے گا تاکہ ہر گھر تک یہ شعور پہنچ سکے۔ ورکشاپ میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت، عالمی اداروں، مذہبی رہنماؤں اور عوام کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے، کیونکہ مشترکہ کوششوں سے ہی پاکستان کو مستقل پولیو فری بنایا جا سکتا ہے۔ورکشاپ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پولیو ورکرز کی معاونت، کمیونٹیز کے ساتھ اعتماد سازی اور حکومتی کوششوں کو مؤثر بنانے کے لیے مذہبی رہنماؤں کا کردار نہایت اہم ہے۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان سے پولیو کے خاتمے کے لیے روٹری، محکمہ صحت، عالمی ادارہ صحت، یونیسیف اور سول سوسائٹی مشترکہ طور پر تیز تر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، اور علماء کی شمولیت کی بدولت اس قومی مشن کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔




































Visit Today : 388
Visit Yesterday : 513
This Month : 14611
This Year : 62447
Total Visit : 167435
Hits Today : 2438
Total Hits : 858803
Who's Online : 11





















