جنرل قمر جاوید باجوہ کے ریٹائرڈ ہوتے ہی !

آج کی بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاہ باباحبیب عارف کیساتھ

گزشتہ روزپاکستان فوج کے 16ویں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ریٹائرڈ ہوگئے، وہ 29 نومبر 2016 کو پاک فوج کے 16 ویں سربراہ بنے، اس عہدے پر 6 سال تک فائز رہے۔ ان کے ان چھ سالوں میں ملک میں بہت تلخ تجربات ماضی میںکے ناکام تجربات کے نتائج کے باوجود کئے گئے ۔ جن سے سبق لینے کی بجائے ان کو دوبارہ کیا گیا۔ تاہم انہوں نے جیسے ہی سپریم کمانڈر کی چھڑی نئے چیف آف آرمی سٹاف کے حوالے کی ۔ سوشل میڈیا پرالزامات کا طوفان برپا ہوا۔ جو توقع کے مطابق تھی ۔ اس طوفان کو برپا کرنے میں ایکس سروس مین سرفہرست تھے ۔ جنہوں نے سب سے زیادہ منفی پوسٹ شیئر کئے ۔دیکھا جائے تو باجوہ نے اپنے دور میں بڑے اقدامات کیے۔ جن میں اگر فوائد سامنے آئے تو شدید نوعیت کے نقصانات ہوئے ۔جس کا اعتراف انہوں نے ملکی سیاست میں فوج کے کردار کی صورت میں کیا ِ،تاہم انہوں نے اس موقع پر جاتے جاتے فوج کی سیاست سے دوری کی پالیسی کا اعلان بھی اعلان کیا ۔ جس پر عمل درآمد ان کی ریٹائر منٹ کے بعد ان کے بس کا کام نہیں ۔جنرل باجوہ دور میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن رد الفساد کا آغاز ہوا، پاک افغان سرحد پر باڑ لگی، پاک بھارت سیز فائر معاہدے کی توثیق ہوئی۔ افغانوں کا آسان ملاپ مشکل جبکہ آٹھ ماہ کی قلیل مدت میں کرتار پور راہداری منصوبے کو مکمل کرکے مختلف مذاہب اور سوچ کے لوگوں کا ملاپ انتہائی آسان بنادیا گیا ۔اس دوران ملک میں سیاسی کھینچا تانی گالم گلوچ تک پہنچی ، خارجہ پالیسی اور معاشی محاذ پر چیلنجز میں بے تحاد اضافہ ہوا۔اس دوران انہوں نے پانچ وزرائے اعظم میاں محمد نواز شریف، شاہد خاقان عباسی، نگراں وزیراعظم ناصر الملک، عمران خان اور میاں شہباز شریف کے ساتھ کام کیا، مگر کسی سے نہیں بنی۔ انہی کے دور میں اسٹیبلشمنٹ نے ہائبرڈ رجیم کا ناکام تجربہ کیا۔باجوہ ڈاکٹرائن، ایک صفحے کی حکومت کا چرچا رہا، ففتھ جنریشن وار فیئر کے نام پر میڈیا اور سوشل میڈیا پر تنقیدی آوازوں کے خلاف کئی محاذ کھولے گئے۔ بقول ان ایک پلانٹ کئے ہوئے وزیر اعظم کے پارلیمان کو ٹیلیفون کالز کے ذریعے کنٹرول کیا گیا، انہی کے بقول میں بے اختیار تھا ۔ ملک میں مبینہ مثبت رپورٹنگ کی پالیسی سے میڈیا کو دباو میں رکھاگیا۔ مرضی کی حکومت بنانے کے لئے چھ سالوں میں ڈان لیکس اور پھر پاناما لیکس کے محاذ پر ملک کے سیاسی نظام کی اکھاڑ پچھاڑ ہوئی، حساس اداروں کے ذریعے پاناما جے آئی ٹی کو کنٹرول کرکے مرضی کے نتائج لئے گئے۔ ہائبرڈ نظام کے تجربے کی راہ ہموار کرنے کے الزامات بھی ان پر عائد ہوئے۔گزشتہ عام انتخابات میں فوج کو پولنگ اسٹیشنز کے اندر تعینات کیا،انتخابی نتائج آنے کا الیکشن کمیشن کا نظام آر ٹی ایس سسٹم بیٹھانے کا بھی ان پر الزام عائد ہوا ، عمران خان وزیراعظم بنا نے کے لئے پارلیمانی جوڑ توڑملکی تاریخ میں عروج پر پہنچی۔جس کے بعد ان کے چھسالہ دور میں پارلیمان کو ربڑ اسٹیمپ کے طور پر استعمال کرنے اور قانون منظور کروانے کے لیے ارکان پارلیمنٹ کو فون کالز کیے جانے کے الزمات لگے یہاں تک کہ جنرل باجوہ کی تین سالہ مدت ختم ہونے پر ان کو بذریعہ پارلیمنٹ قانون سازی کر کے اس دور میںمزید تین سال کی توسیع کی گئی ۔اس دور ان میڈیا ہاوسز کو حکومت کی مرضی و منشا کے مطابق چلانے پر مجبور کرنے کا الزام عائد ہوا ، بات نہ مانے والے صحافیوں کو غداری کے سرٹیفکیٹس بانٹے گئے ، جبکہ تنقیدی آوازوں کو ڈرانے دھمکانے، ہراسانی اور اغوا کے الزامات بھی ان پر عائدث ہوئے۔ سیاسی جماعتوں اور پارلیمان میں امور کو چند سابق اور حاضر سروس فوجی افسران کے ذریعے چلائے جانے کے الزامات عام طورپر عائد ہوئے۔چین سے انتہائی اچھے تعلقات کے باوجود عالمی گیم چینجر منصوبہ پاک چین اقتصادی راہداری کو رکاوٹ کا شکارکرنیکا الزام ان پر عائد ہوا ، پاکستان کی ہر شعبے میں خراب صوررحال سے فائذہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو ایک حکم نامے کے ذریعے اپنا حصہ بنایا، پاک امریکا تعلقات عدم اعتماد کا شکار ہوئے ،پاکستان چار سال تک ایف اے ٹی ایف کے گرے لسٹ میں رہا۔اس دور کے بارے میں تاریخ دانوں کا انتظار کئے بغیر فیصلہ کرنا آسان ہے ،کہ اس دور میں پاکستان کو کتنا فائدہ یا نقصان پہنچا ۔ ان کے جانے سے چند روز قبل ان کے خاندان کے افراد کا اربوں روپے کے اثاثے سوشل میڈیا کے زنیت بنے پھر نہ تھمنے والا چرچہ شروع ہوا،جس پر آئی ایس پی آر نے وضاحتی بیان جاری کی۔ مگر اس بیان کا اثر د اپنوں نے بھی قبول نہیں کیا ۔یہ ایک طوفان ہے، جس میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے ۔ اس طوفان کی وجہ سے ریاست کے انتہائی اہم ادارے کے بارے میں عوام میں زہین سازی کا جو کام ماضی میں شروع ہواہے ۔ کی وجہ سے بہت ہی منفی اثرات سامنے آرہے ہیں ۔ ان اثرات کو زائل کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ ان اثرات کو زائل کرنے کے لئے جنرل ر یٹائرڈ باجوہ کو اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کرنا ہوگا ۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو اس اقدام سے معتبر ادارے کی ساکھ میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا، بصورت دیگر جو بھی الزامات عائد کئے جارہے ہیں ۔ وہ حقیقی محسوس ہونگے ۔ جو ملک کے بقاء کے ضامن ادارے کے لئے اچھے نہیں ہونگے ۔