ملتان(صفدربخاری سے) برسوں پرانی روایت ختم نہ ہوسکی، اے ڈی پی کا تیسرا کوارٹر شروع ہونے والا ہے، کئی منصوبوں پر سرے سے کام ہی شروع نہیں ہوسکا،ملتان کے ترقیاتی فنڈز ایک بار پھر لاہور منتقل ہونے کا خدشہ ہے،اے ڈی پی سے منظورشدہ سکیمیں حکام کی توجہ کی منتظر ہیں،ملتان کا بجٹ ملتان پر خرچ کیا جائے،فنڈز ضائع ہوئے تو پنجاب حکومت ذمہ دار ہوگی۔یہ باتیں سٹی کونسل کے چیئرمین کرامت علی شیخ صدر ملک ارشد اقبال بھٹہ اور فنانس سیکرٹری شاہد قریشی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیں۔کرامت علی شیخ نے کہا برسوں سے ملتان کے فنڈز ضائع ہوتے آرہے ہیں جس کی وجہ سے شہر کی سڑکوں اور سیوریج کا برا حال ہے،سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، آئے روز حادثات ہورہے ہیں،ملتان میں سڑکوں پر پیج ورک کا کام بھی نہیں کیا جارہا۔بوسیدہ سیوریج کی وجہ سے ہر محلے اور کالونی کی گلیوں میں گندا پانی جمع ہو کر شہریوں کے لیے اذیت کا باعث بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا جب تک میٹروپولیٹن کارپوریشن اور ضلع کونسل میں بیٹھے کرپٹ عناصر کیخلاف کارروائی نہیں کی جاتی ، انہیں ضلع بدر نہیں کیا جاتا معاملات کسی صورت ٹھیک نہیں ہوسکتے۔ملک ارشد اقبال بھٹہ نے کہا صوبے کے دیگر اضلاع کے بلدیاتی اداروں کی طرح ملتان میں بھی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور ضلع کونسل ملتان کے پاس سالانہ ترقیاتی پروگرام کے ایک ارب 17 کروڑ روپے کے فنڈز موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے شہر پر خرچ کرنے کے بجائےاس سال بھی تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔ملتان کے فنڈز دیانتداری سے ملتان شہرپر خرچ ہوجائیں تو یہ شہر مثالی بن جائے گا۔ماضی کی حکومت نے جو ترقیاتی فنڈز ملتان کے لیے مختص کیے تھے وہ روایتی بے حسی کی وجہ سے ضائع ہونے کا خدشہ ہے موجودہ پنجاب حکومت کو برسوں پرانی فنڈز ضائع ہونے کی روایت کو ختم کرنا ہوگا۔ تیسرا کوارٹر شروع ہونے والا ہے،فوری طور پر کام شروع نہ کروائے گئے تو فنڈز ضائع ہوجائیں گے اور اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ پنجاب حکومت پر ہوگی۔وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اس معاملے کافوری نوٹس لیں اور فنڈز ضائع ہونے سے بچائیں۔