ملتان (صفدربخاری سے) مرکزی جمیعت علماء اسلام پاکستان کے سرپرست اعلیٰ مولانا محمد اجمل قادری نے ایک بڑی تعیناتی پر ہر طرح کی بیان بازی کو جمہوری تقاضوں کے خلاف قرار دیا ہے کہ یہ ایک روٹین کا مسئلہ ہے اس پر کسی کو رائے زنی کا اختیار حاصل نہیں ہے مرکزی جمیعت علمائے اسلام کی رائے میں سینئر ترین جرنیل کو افواج پاکستان کا سربراہ ہونا چاہیے اور یہ مسئلہ اسی طرح حل کردینا چاہیے جیسے سپریم کورٹ آ ف پاکستان کے سربراہ کا مسئلہ حل ہو چکا ہے آ ئند ہ عام انتخابات کے لئے نئی حلقہ بندیاں ہورہی ہیں اور آ ئندہ انتخابات جب بھی ہوں پرامن اور شفاف ہونے چاہئیں اور انتخابات سے پہلے جمہوری حکومت کے قیام سے بھی پہلے ایسا الیکشن کمیشن ہونا چاہیے جس پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہوں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کیا مولانا محمد اجمل قادری نے مزید کہا کہ ہمیں پاکستان کو پرامن طور پر آ گے لیکر جانا ہے اور احتجاج کرنا،دھرنا دینا اظہار رائے کی آزادی کا ایک طریقہ ہے تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے آوروں کی سیاست پر ا ختلاف ہونا تو ممکن ہے لیکن لانگ مارچ کرنا اور دھرنا دینا تحریک انصاف کا جمہوری حق ہے اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آ ف پاکستان نے تحریک انصاف کو یہ دونوں حق دئیے ہیں انہوں نے کہا کہ شہید ارشد شریف کے قتل کا معمہ حل ہو کر رہے گا اور سپریم کورٹ آ ف پاکستان کو مرحوم کی والدہ کی تسلی کے مطابق ایک نیا تحقیقاتی کمیشن مقرر کرنا چاہیے جو ارشد شریف کی لاش کے پوسٹ مارٹم اور اس کی رپورٹ اور کینیا کی حکومت سے تمام تر وضاحت کے مطابق ہو۔