شاید کے تیرے دل میں اتر جائے میری بات
شاید کے تیرے دل میں اتر جائے میری بات
تحریر : شہنیلا علوی
میں بحیثیت ایک عام شہری جو کہ اتنا زیادہ قانون نہیں جانتی پاکستان کی موجودہ صورتحال کو دیکھ کر کچھ تشویش میں مبتلا ہوں امید ہے اس ملک کے باشعور ، باکمال بااعتماد ،باصلاحیت، با اختیار لوگوں سے اپنی اس تحریر کے ذریعے اپنی کچھ الجھن کو دور کر سکوں گی ۔ اس امید کے ساتھ کوئی نہ کوئی تو ہوگا جو میری بہتر رہنمائی کر سکے گا ۔
ہم بچپن سے جمہوریت کے حسن جمہوریت کے فوائد جمہوریت کی خاصیتوں کا سنتے آ رہے ہیں اب تک جو جمہوریت ہم نے دیکھی تھی اس میں الیکشن ہوتا تھا عوام اپنے نمائندوں کو اپنے ووٹ کے ذریعے چن کر اسمبلیوں میں پانچ سال کے لیے منتخب کر دیتی تھی اسمبلی توڑنا غیر آئینی اقدام سمجھا جاتا تھا ۔ حال ہی میں ہم نے ایک نئی جمہوریت دیکھی ہے۔ وہ لوگ جن پر کرپشن کے الزامات تھے جن پر ثابت تھا کہ انہوں نے ملک کا پیسہ لوٹا ہے الزامات تھے کہ وہ عوام سے لوٹی ہوئی رقم سے اپنی کمپنیاں بنا رہے ہیں اپنے نئے نئے کاروبار چلا رہے ہیں ایسے لوگ جن کو عوام نے اپنے ووٹوں کے ذریعے مسترد کر دیا تھا وہ تمام ارکان ایک جگہ اکٹھے ہو جاتے ہیں جمہوریت کی خاطر ایسے شخص کو جس کو عوام نے پانچ سال کے لیے منتخب کیا تھا جمہوریت کے تقاضے پورے کر تے ہوئے اس پر عدم اعتماد لاتے ہیں کھلے عام نمائندوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے ۔
وہ ملک جو کہ قرضوں تلے دبا ہے وہاں نمائندوں کی خرید و فروخت کرنے کے لیے کروڑوں اربوں روپے استعمال ہوتے ہیں ۔گنتی پوری کرنے کے لیے نہ صرف بے دریغ پیسے پانی کی طرح بہائے جاتے ہیں بلکہ سیٹوں تک کی سیٹنگ کرلی جاتی ہے ۔اور یہ سب کچھ چھپ چھپا کے نہیں ہوتا بلکہ علل اعلان ہو رہا ہے ۔یعنی قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے کھلے عام غیر قانونی کام کرنا ہمارے ملک میں شاید قانونی ہے ادنیٰ سی گزارش ہے کہ اس ملک کا کوئی باشعور آدمی مجھے اس ملک کی جمہوریت اور قانون سمجھا دے۔
وہ ٹولہ جس کو عوام نے مسترد کر دیا تھا آج ایک جگہ اکٹھا ہو کر عدم اعتماد لاکر اپنا طے شدہ وزیراعظم بناتی ہے جسکو عوام پہلے مسترد کر چکی تھی آج وہی شخص جمہوری و قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے پاکستان کی نمائندگی کرنے کیلئے چن لیا جاتا ہے
سوال یہ ہے کہ ایسے زبردستی کے وزیراعظم کی عوام میں کیا حیثیت ہوگی۔ ان کے کئے گئے فیصلے جو براہ راست عوام کو متاثر کرسکتے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔
2۔ کیا گنتی پوری کرنے کے لیے جو طریقے استعمال ہوئے ہمارا قانون اس کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔
کیوں کہ جو کام کھلے عام ہو رہا ہے جو پیسہ بے دریغ استعمال ہوا وہ کہاں سے آیا کیسے آیا کون دے رہا ہے ۔ کیا اس سلسلے میں کوئی پیش قدمی ہورہی ہے۔یا اس کو نظر انداز کرنا ہی بہتر ہے جمہوریت کے حسن کی خاطر امید کرتی ہوں مجھ نہ سمجھ کی رہنمائی کی جائے گی کیوں کہ یہ سوال صرف میرا نہیں یہ سوال مجھ جیسی پوری نہ سمجھ عوام کا ہے۔۔
اے میرے دونوں جہانوں کے مالک پاکستان کی حفاظت کرنا آمین یا رب العالمین۔۔








































Visit Today : 318
Visit Yesterday : 558
This Month : 6311
This Year : 70030
Total Visit : 175018
Hits Today : 10267
Total Hits : 983256
Who's Online : 3























