مظلوم کشمیریوں کےساتھ ۔ عوام کا اظہار یکجہتی
تحریر ۔۔۔ کنور محمد صدیق

جنوبی پنجاب سمیت پاکستان اور دنیا بھرمیں یوم یکجہتی کشمیر انتہائ جوش و جذبے سے منایا گیا گزستہ 32 سال یوم یکجہتی کشمیر منایا جارہا ہے جس کا اغاز 1990 میں اسوقت کے امیرجماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد کی اپیل پوا وفاقی صوبائ حکتوں نے حمایت اور سرکاری سطح پر منانے سرکاری چھٹی کا اعلان کیا اس وقت سے یہ دن قومی دن کے طورپر منایا جاتا ہے اس سال بھی جوش وجذبے کے ساتھ منایا گیا مظاہرے ریلیاں جلسے جلوس سیمنارز اور انسانی ہاتھوں کی زنجیریں بنائ گیں اہم شاہراہوں چوکوں عمارتوں پرکشمیر کے پرچم لہرایے گیے جبکہ مظاہروں کے دوران کشمیر کی ازادی کے حق میں نعرے اور مودی کے پتلے نذر آتش کیے گیےملک دیگر حصوں کی طرح جنوبی پنجاب میں اس دن کا اغاز مساجد میں کشمیریوں کی جدوجہد ازادی کی کامیابی کیلیے دعاوں سےکیاگیا جنوبی پنجاب کے تمام ضلعی صدر مقامات چھوٹے بڑے شہروں قصبات میں مظلوم کشمیریوں اور تحریک ازادی کشمیر کی حمایت اور یکجہتی کیلئے جلسے جلوس مظاہروں ریلیوں کا اہتمام کیا گیا جس کے ذریعے مظلوم کشمیریوں کےساتھ یکجہتی کا بے مشال مظاہرہ کرکے مقبضوضہ کشمیر کے 80 لاکھ مسلمانوں کو پیغام دیا گیا کہ وہ ازادی کی جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں پاکستانی قوم ان کے قدم بقدم اور شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کشمیریوں کا اور کشمیر پاکستان کا ہمیں کوئی جودہ نہیں کرسکتا
ملتان میں مرکزی ریلی علمدار چوک سے نکالی گی جو حسین اگاہی سے ہوتی ہوئ لوہار ی گیٹ پہچ کر اختتام پذیر ہوئ ریلی کی قیادت جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر سابق پارلیمانی لیڈر و مرکزی سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ صدر ملی یکجہتی کونسل جنوبی پنجاب میاں اصف محمود اخوانی قائمقام امیر جماعت اسلامی ضلع ملتان چوھدری اطہرعزیز ایڈوکیٹ محمد ایوب مغل عمران عاطف خواجہ محمد صغیر نے کی تاجروں وکلاء طلبہ مزدور کسان سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی شرکاہ ریلی نے ہاتھوں میں پاکستانی کشمیر اور جماعت اسلامی کے پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے کشمیریوں سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ کشمیر کی ازادی تک جنگ رہے گی کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں کی گونج نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا خواتین اور بچے بھی بڑی تعداد میں شریک تھے
لیاقت بلوچ نے کشمیر ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ان کے جذبے اور ولولے کوسراہااور مقبوضہ کشمیرمیں ماوں بہنوں بیٹیوں بزرگوں اور نوجوانوں کی جدوجہد ازادی کیلئے قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ مسئلہ کشمیر جموں وکشمیر پاکستان کی شہ رگ اوردل وجان ہے۔ پاکستان کے عوام بلاتفریق کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد میں پشت بان ہیں۔ 5اگست 2019ء کے فاشٹ مودی اقدامات اقوامِ متحدہ قراردادوں، انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کے صریحاً خلاف ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی تمام جماعتوں اور قیادت نے بھارتی اقدامات کو مسترد کر دیا ہے۔ کشمیر زمین کا تنازع نہیں ڈیڑھ کروڑ انسانوں کی آزادی، عقیدہ، انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ بھارت اور پاکستان یکطرفہ طور پر کوئی حل کشمیریوں پر مسلط نہیں کر سکتے۔کشمیریوں کی رائے کو نظر انداز کر کے کوئی حل کشمیریوں کو قبول نہیں، کشمیری۔ بھارتی عزائم، اقدامات کے مقابلہ میں کشمیری جدوجہد کی پشت بانی جاری رہے گی مقبوضہ کشمیر سے آئے مہاجرین تنہا نہیں بلکہ پوری قوم ان کے ساتھ ہے۔ مہاجرین کو سنبھالنا ریاست پاکستان کا دینی، قومی اور انسانی فرض ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی فوجی اور حکومتی قیادت نے بنا لی، مسئلہ کشمیرپر ابہام بڑھ گئے ہیں۔ پہلے ہی عمران خان حکومت کی مسئلہ کشمیر پر حکمت عملی مشکوک وشبہات کا شکار ہے۔ یکطرفہ سلامتی پالیسی عوام کی نمائندہ پالیسی نہیں، 5اگست 2019ء کے اقدامات کے چالاکی کے مقابلہ میں قومی سلامتی پالیسی اس کا مضبوط جواب دینے میں ناکام ہے۔ بھارت پاکستان کو ہر محاذ پر مات دینے، دہشت گردی پھیلانے میں مصروف ہے، حکومت کلبھوشن کو ریلیف دے رہی ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام اور پاکستانی ملت 5 اگست 2019ء کے اقدامات کو مسترد کرتی ہے۔یہ بھارتی ظالمانہ جارحیت ہے۔ حکومت پاکستان اپنے اعلانات کے مطابق بزدلی نہ دکھائے۔جرأت کا مظاہرہ کرے، قومی سلامتی پالیسی کے ذریعے بھارتی حکمت کاری کے مقابلہ کے لیے مضبوط حکمتِ عملی بنائی جائے۔ کشمیریوں کو مایوس نہ کیا جائے، کشمیریوں کی مرضی، کشمیری قیادت کو نظرانداز کرنا خود پاکستان کے مستقبل کے لیے بھیانک ثابت ہو گا۔امیرجماعت اسلامی جنوبی پنجاب راو محمد ظفر نے رحیم یار خان میں کشمیر مارچ ظاہر پیر میں موٹرسائیکل ریلی کی قیادت اور خطاب کیا ان کا کہناتھا ہم موجودہ حکومت کو متنبہہ کرتے ہیں کہ وہ کشمیر کے مسلہ پر سابقہ حکمرانوں کے انجام سے سبق سیکھے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ جن لوگوں نے غداری کی وہ بھیانک انجام سے دوچار ہوئے ، جنرل یحی خان، ذولفقارعلی بھٹواور مجیب الرحمان کا انجام دنیا کے سامنے ہے ،اسی طرح کشمیر سے غداری کرنے والے بھی اپنے انجام کو پہنچیں گے اور کشمیر پاکستان بن کر رہے گا.
راو محمد ظفر نے کہا کہ کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی. 5فروری یوم یکجہتی کشمیر کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ 1990 ء میں مرحوم قاضی حسین احمد امیر جماعت اسلامی پاکستان کی اپیل پر شروع ہوا اور آج یہ دن کشمیری مظلوم و محکوم ملت کے ساتھ یکجہتی کی علامت بن چکا ہے اور پوری قوم اس دن والہانہ انداز میں اپنے کشمیر بہن بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے صوبائ قیم صہیب عمار صدیقی نےصوبائ نائب امیر سیدذیشان اختر نے بہاولپور صوبائ نائب امیر چوھدری اصغرعلی گجر امیر ضلع نے لیہ صوبائ نائب امیر سردار ثناء اللہ سرانی امیرضلع رانا عمردراز فاروقی نے مظفرگڑھ جےائ یوتھ جنوبی پنجاب کے صدر عبدالرحمان امیر ضلع عبدالرسید نے ڈیڑھ غازی خان سید جاوید حسین شاہ وہاڑی ہارون رشید ایڈووکیٹ نے خانیوال ڈاکٹر طاہر چوھدری نے لودھراں میں قیادت اور خطاب کیا