سینئر صحافی ملک امجد سعید کا 28 سالہ صحافتی سفر،،،، صحافی دوستوں کا پیار پایا ۔۔۔گاڑی ‘دولت اور گھر گنوایا
bbc news urdu نے Tuesday، 4 November 2025 کو شائع کیا.
سینئر صحافی ملک امجد سعید کا 28 سالہ صحافتی سفر
صحافی دوستوں کا پیار پایا ۔۔۔گاڑی ‘دولت اور گھر گنوایا
تحریر: آ غا محمد علی فرید
سینئر صحافی ملک امجد سعید کی کہانی ۔۔۔سینئر صحافی آ غا محمد علی فرید کی زبانی
ملتان کی صحافت میں جو گزشتہ 28 برس سے صحافی دوست اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں وہ رپورٹنگ میں ہوں یا کہ نیوز روم میں’فوٹو گرافر ہوں یا سب ایڈیٹرز ‘نیوز ایڈیٹر ہوں یا کہ ریزیڈنٹ ایڈیٹرز ‘ چینل سے وابستہ ہوں یا کہ یو ٹیوبر ‘وہیب سائٹ ‘ای پیپر جرنلسٹ حتی کہ اخبار فروش دنیا سے بھی منسلک افراد ہوں تقریباً سب ہی اس ملنسار’ہمدرد دوستوں کا دوست سینئر صحافی ملک امجد سعید تھہیم کو ضرور جانتے ہیں اور یہ ہے ہی ایسا ‘دوستوں کو جوڑ کر رکھنے والا اور کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے صحافی دوستوں کے مل بیٹھنے کا بہانہ بنانے کا گر کوئی اس سے سیکھے ۔میرا ملک امجد سعید سے اس وقت کا ہی تعلق ہے جب سے اس نے صحافت میں قدم رکھا تھا یعنی 28برس پرانا ہے ۔
صحافی دوستوں کے صحافتی سفر اور کچھ ذاتی زندگی کے حوالے سے شروع کئے جانے والے اس سلسلے میں چلتے چلتے عنوان کے کالم سے میری اس چھوٹی سی کاوش کو میری سوچ سے بڑھ کر پذیرائی ملی ہے جس پر میں اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکرادا کروں وہ کم ہے اور اس کے بعد میرے 34 برس کے صحافتی کیرئیر کے دوران سینکڑوں صحافی دوست بھائی جن کو میں اپنا خاندان سمجھتا ہوں ان کا بھی مشکور ہوں ۔۔۔ اپنے والد محترم آ غا وسیم احمد مرحوم کی صرف ایک جملے کی نصیحت لیکر صحافت کے شعبے میں قدم رکھا تھا وہ یہ تھی “بیٹا تم اس صحافت کے شعبے میں جارہے ہو تو ۔۔۔۔ہمیشہ بڑوں کی عزت اور چھوٹوں سے شفقت و پیار سے پیش آ نا ۔۔۔یقین مانو خاص طور پر صحافت کے کسی بھی شعبے سے کوئی بھی فرد ہو اورجس کسی کے ساتھ بھی ملتا ہوں صرف والد صاحب مرحوم کے اس جملے کو سختی سے پکڑ کر عمل کرنے کی کوشش میں رہتا ہوں ۔اج میں اپنے والد محترم آ غا وسیم احمد مرحوم جن کو اس دنیا سے رخصت ہوئے 18برس گزر چکے ہیں تو ان کی خدمت میں یہی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ “ابو میں آ پ کی اس نصیحت کو کبھی نہیں بھولا ہوں اور اس پر عمل کرنے کی وجہ سے ہی سینکڑوں صحافی بھائیوں کا بہت پیار ملا ہے۔میرے انتہائی قابل احترام صحافتی اساتذہ بڑے اور کم عمر والے میرے صحافی بھائی دوستوں کی محبتوں کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور بس ان صحافی شخصیات کی صحافتی خدمات کو اپنے کالم میں پیش کرکے ان محبتوں کو لوٹانے کی بہت چھوٹی سی یہ میری کاوش ہے اس کو قبول کرلیں۔۔۔ ورنہ جو 34 سال میں آ پ کی طرف سے دیا گیا پیار و محبت ہے اس کالم کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے ۔۔کوئی غلطی کوتاہی ہوئی ہو یا ہو جائے تو معاف کردینا ۔۔
اس کالم کے شروع میں جس پیاری محبت بھری شخصیت ملک امجد سعید کے صحافتی خدمات کے سفر کو آ پ کے سامنے پیش کررہا ہوں تو میں نے امجد کی محبتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے جذبات کے اظہار کو نہ روک سکا۔۔۔امجد بھائی بھی کیا سوچتے ہونگے آ غا۔۔۔ کیا اپنی ہی باتیں لے کر بیٹھ گیا ہے !!!۔۔۔۔چلیں اب ملک امجد سعید کے صحافتی سفر اور اس کے ساتھ جڑے زندگی کے سفر پر روشنی ڈالتے ہیں ۔اس کے لیے اس کے بچپن نوجوانی اور صحافت میں آ نے سے پہلے کے دور میں چلتے ہیں امجد سعید نے میونسپل کارپوریشن کے ایک ملنسار افسر کے گھر گلبرگ کالونی ملتان میں آ نکھ کھولی ان کے آنے سے پہلے ان کی بڑی ہمشیرہ ان کے استقبال کے لیے دنیا میں آ چکی تھیں۔ لاڈ پیار میں پلنے والا امجد بڑا ہوا تو تعلیم کے لیے اس کو اسلامیہ ہائی سکول عام خاص میں داخل کروا دیا گیا اور سکول کا مرحلہ مکمل کر کے بوسن روڈ کالج پہنچا تو والد صاحب کے لاڈلے ہونے کی وجہ سے کالج میں گاڑی لیکر ساتھ جانے کی شرط پر گیا۔ جوانی تو جوانی ہوتی اور ساتھ خوبصورتی اور دولت کا تڑکا لگ جائے تو پھر کیا کہنے ۔۔۔خیر گریجویشن کے بعد وکیل بننے کے شوق میں لاء کی ڈگری بھی حاصل کرلی۔ اب ابا جان نے کہا کہ امجد محکمہ لیبر کے ایجوکیشن شعبہ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر بننے سے پہلے اس محکمہ میں کیشئر کی اسامی خالی ہے تو یہ نوکری کر لو’ میں نے کہا ٹھیک ہے ۔امجد کا کہنا تھا کہ اس دور میں ہرسال دو چار اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی 17ویں سکیل کی پبلک کمیشن کے بغیر بھرتیاں ہوا کرتی تھیں۔ کیشئر جاب کے دوران ایک اچھا سچا ایماندار ڈپٹی ڈائریکٹر راولپنڈی سے ملتان پہنچا ان کے ساتھ گزارا وقت بھی یادگار تھا۔ پہلے سال اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی آسامی کیلئے نام نہ ہونے پر مایوسی ہوئی پر والد محترم نے کہا پریشان نہ ہوں اگلے سال ہو جائے گی اگلے سال بھی جب چار آسامیوں پر بھی میرا نام نہ آیا اور اس دوران شفیق باپ کے دنیا سے چلے جانے کے غم نے ہلا کر رکھ دیا دفتر میں بھی وہ مہربان افسر کے تبادلے کے بعد کیشئر نوکری سے دل اچاٹ ہوگیا اوپر سے آنے والے نئے افسر کے حسد طنزیہ رویے نے بھی اس نوکری کو چھوڑ نے کا موقع فراہم کردیا۔
اب اپنے سینئر ایڈوکیٹ استاد محمد اسلم خان بابر کے دفتر پہنچ گیا اور ان کو جوائن کرکے کام شروع کردیا چھ ماہ تک کالا کوٹ ہی نہ پہنا استاد محترم نے وجہ پوچھی تو بتایا استاد ظلم کے ستائے افراد کو جلد انصاف نہ ملنے پر دل روتا ہے اور پھر اس شعبے میں ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی بعض اوقات ظالم کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے مجبوراً کھڑا بھی ہونا پڑ جاتا ہے ۔استاد محترم نے کہا تو پھر آ گے کیا کرنے کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا کہ ایسے شعبے میں جانا چاہتا ہوں جہاں مظلوم کا ساتھ دوں اور زندگی بھر ریٹائر نہ ہوں ۔استاد محترم نے کہا پھر تو وکیل کے علاوہ حکیم اور صحافت ایسے شعبے ہیں جہاں ریٹائرمنٹ نہیں ہوتی ہے میں نے کہا حکیم تو بن نہیں سکتا تو پھر صحافی بن جاتا ہوں ۔صحافت کے سفر کی کہانی سنانے سے قبل امجدسعید تھوڑی دیر خاموش رہا اور افسردہ دکھائی دیا ۔۔پھر بولا آ غا صاحب اس صحافت میں آ کر مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ شعبہ اتنا کٹھن اور اس کے راستے کانٹوں سے بھرے ہونگے !! وہ امجد سعید جو تھری پیس سوٹ اور رےبین عینک لگا کر گھومتا پھرتا تھا آ ج صحافت میں 28 برس گزارنے کے بعد ایسے معاشی مسائل کی چکی میں پسے گا کہ اس کے پاس موٹر سائیکل تو ہے لیکن وہ قسطوں پر خریدی گئی ہے۔۔۔ گھر تو ہے لیکن اپنے گھر سے کرائے کے گھر میں بدل چکا ہے ۔۔۔گرمیوں میں ملتان جیسے گرم ترین شہر میں ائیر کنڈیشنڈ تو بہت دور کی بات گرم موسم میں تھوڑی سرد ہوا لینے کے لیے کولر تو ہے مگر بجلی کے بلوں کے خوف زیادہ نہیں چلا پاتا ہوں ۔۔لیکن پھر بھی ہمت نہیں ہارا سوچتا ہوں اچھے خوشحالی کے شب و روز نہیں رہے تو یہ مشکل وقت بھی گزر جائے گا ۔ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار رہنا چاہتا ہوں ۔صحافی دوستوں کا بیحد پیار ہی
آکسیجن فراہم کیے ہوئے ہے ۔
پھر صحافتی زندگی کے سفر کو بتانے کے لیے 28 برس ماضی میں چلا گیا وہ سناتا گیا اور میں سنتا گیا ۔۔۔اپنے سینئر ایڈوکیٹ استاد اسلم خان بابر کی راہ نمائی پر ایم ڈی ا ے چوک سے پہلے دائیں طرف ایک گلی ہے جہاں پر ان دنوں روہی نیوز کا دفتر بھی ہے اسی گلی میں ایک اخبار کےدفتر پہنچا جو کہ لاہور سے شائع ہو کر آ نے والے اخبار کا آ فس تھا۔دفتر پہنچا تو جو صاحب اس اخبار کے بیورو چیف تھے ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ اپنا معاشی سرکل بیلوں کی بلکہ داجلی بیلوں کی آڑھت سے چلاتے ہیں یعنی جانوروں کی خرید و فروخت کرتے ہیں ۔ تعلیم ان کی مڈل سے بھی 50 فیصد کم تھی اور وہ اپنے صحافتی بڑے عہدے بیورو چیف کو بھی پراعتماد لہجے میں “بے رو جیف” کہتے سنا تو سمجھ گیا یہاں صحافت نہیں سیکھ پاؤں گا پھر خیال آیا کہ مجھے بھی تو کونسی صحافت
آتی ہے ۔چند دن گزار کے دیکھتے ہیں ۔پھر وہی ہوا ایک ماہ بعد وہ اخبار کے ساتھ ساتھ ہمارا دفتر بھی بند ہو گیا ۔استاد محترم کے پاس پہنچا تو استاد نے کہا بس ایک اخبار کے تجربے سے ہمت ہار گیا زندگی میں صحافی پتہ نہیں کتنے ادارے بدلتے رہتے ہیں پھر ان کی معرفت سے اخبار فروش یونین کے لیڈر شیخ عمر دین کے پاس پہنچا تو وہ مجھے لیکر لاہور پہنچ گئے ایک نیا اخبار “روزانہ اخبار” کے نام سے شروع ہوا تھا ۔مالک اخبار نے 30 ہزار سکیورٹی کے نام پر مانگی تو شیخ صاحب نے کہا سکیورٹی کا کسی نہ کسی طریقے سے بندوبست کرلو اخبار کو ملتان میں فروخت کی ذمےداری میں سنبھال لیتا ہوں ۔بیگم کے زیورات فروخت کرکے کام شروع کردیا ۔۔ابھی ڈیڑھ ماہ ہی گزرا تھا کہ وہ اخبار بھی بند ہوگیا اب کی بار بھی سفر اسلام آباد کا تھا اور اس کا رخ اسلام آباد سے نکلنے والے اخبار اوصاف کی طرف تھا ۔چیف ایڈیٹر صاحب نے حامد میر جوکہ ان دنوں ایڈیٹر تھے طویل انٹرویو کے بعد کہا ملتان بیورو کیسے چلاؤ گے ہم تو یہ کرسکتے ہیں کہ اشتہارات میں آ پ کا کمیشن 20 فی صد کردیں ۔واپس آ کر حسن پروانہ کالونی میں آفس بنا کر کام شروع کردیا ۔حامد میر کی راہنمائی میں کام کرتا رہا ۔ایک دن سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے ملتان بیگم نادرا خاکوانی کی رہائش گاہ پر جانا تھا میں وہاں جلدی پہنچ گیا اور فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ سیٹ سینئر صحافیوں کے لئے ہوتی ہیں ۔اتفاق سے میں جہاں بیٹھا تو ساتھ والے صوفے پر بے نظیر بھٹو بیٹھ گئیں تعارف ہوا اوصاف اور حامد میر کے نام کی وجہ سے اعتماد بڑھ گیا ۔میرا ملتان کے سینئر صحافیوں سے پہلا باضابطہ تعارف یہاں ہوا تھا ۔حامد میر کے اوصاف چھوڑنے کے بعد نئی انتظامیہ سے نہ بن سکی۔ پھر سے شیخ صاحب کے پاس پہنچا تو شیخ صاحب نے پھر ساتھ دیا اور اس بار سفر اسلام آباد کی طرف تھا اور شیخ صاحب نے کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملکی سطح پر اخبار فروش لیڈر ٹکا خان عباسی کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اپنا بچہ ہے اس کو ملتان کے لئے روزنامہ صحافت کے بیورو آ فس میں ایڈجسٹ کرائیں ٹکا خان صاحب نے جھٹ فون چیف ایڈیٹر جناب خوشنود علی خان کو ملادیا خوشنود علی خان نے کل ملاقات کیلئے مجھے بلوالیا ۔ان دنوں خبریں اور صحافت اخبار الگ ہوگئے تھے ۔اگلے دن فون کیا تو پتہ چلا کہ خوشنود علی خان لاہور جا رہے ہیں اور مجھے بھی لاہور آ فس بلوایا ہے ۔لاہور پہنچے طویل بات کے بعد کہا ٹھیک ہے آ پ سے جلد رابطہ ہو جائے گا ملتان آ کر لوکل اخبار میں رپورٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا ۔ایک ڈیڑھ ماہ بعد ایک شخص آ یا کہ آ پ کو اقبال قریشی صاحب بلوارہے ہیں میں نے کہا کون اقبال قریشی تو انہوں نے کہا روزنامہ صحافت والے میں سمجھ گیا کہ خوشنود علی خان صاحب کی طرف سے کو ئی پیغام ہوگا ۔دفتر پہنچا تو اقبال قریشی نے کہا ۔۔۔کہاں ہے آ پ کو کئی دنوں سے ڈھونڈ رہے ہیں میں نے کہا مجھے ابھی پتہ چلا ہے تو میں آ گیا ہوں میں نے کہا میرا کوئی لیٹر ہے تو انہوں نے مجھے فیکس پر
آنے والا لیٹر پکڑا دیا اور پھر میں نے کام کرنا شروع کیا پہلے ہی مہینے ایک لاکھ سے زائد کے اشتہارات مل گئے جن میں 70 ہزار کا تو شیخ ظہور احمد کا ہی اشتہار تھا اسی طرح اگلے مہینے بھی شیخ صاحب کا اشتہار ملا اور بیورو کا بزنس دو لاکھ تک پہنچ گیا سب خوش تھے مگر وہ خوشی زیادہ دیر نہ رہی۔ مین آ فس سے ایک افسر آئے اور طویل لیکچر کے بعد ٹارگٹ دیا کہ ہر ماہ 5لاکھ سے زائد کا بزنس کیا جائے گا۔ لاہور آ فس کا خرچہ بھی ملتان آ فس برداشت کرے گا ۔ٹارگٹ اس سے کم نہیں ہوگا اور ریکوری بھی سوفیصد ہوگی۔ شام کو دفتر کی سیڑھیاں اتر کر دفتر کو خدا حافظ کہہ کر گھر آ گیا ۔اقبال قریشی صاحب نے واپسی کی بڑی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکی ۔
کچھ عرصہ بعد ملتان کے اخبارات کی ترسیل کے حوالے سے بڑا نام مرزا گلزار بیگ صاحب میرے لئے آ گے بڑھے مرزا صاحب سےچند برسوں کے دوران یارانہ پکا ہوگیا تھا ۔انہو
ں نے ایک فائل پکڑی جس کا مجھے کوئی علم نہیں تھا مجھے ساتھ لیکر نیادور دفتر پہنچ گئے ایڈیٹر عارف معین بلے صاحب کے آ فس میں بڑے دھیمے لہجے میں کہا بلے صاحب اس منڈے دی سی وی ہے دفتر چوکیداری واسطے رکھ لو اگر ہوسکے تو رپورٹر بھی چیک کرلو ۔بلے صاحب نے فائل دیکھے بغیر دور میز پر پھینک دی ۔میں نے سوچا لو جی۔۔۔پہلی ملاقات میں ہی چھٹی ہوگئی ۔بعد میں پتہ چلا کہ یہ تو بلے صاحب کا گلزار صاحب سے محبت کا انداز تھا کہ آ پ آ گئے ہیں تو فائل کیا دیکھنی بس کام ہوگیا (امجد سعید کے نزدیک یہ دونوں بڑی ہستیاں مرزا گلزار بیگ مرحوم اور سینئر صحافی عارف معین بلے صاحب استاد کا درجہ رکھتی ہیں اور انہوں نے ان ہستیوں سے بہت کچھ سیکھا ہے)مجھے رپورٹنگ میں بابا بشیر اصغر سے ملنے کا کہا ان سے ملا تو اگلے دن ہیلتھ کی بیٹ دیکر فیلڈ میں بھیج دیا ۔گھنٹہ گھر میڈیسن مارکیٹ میں تاجر راہنما اختر بٹ صاحب کے پاس پہنچا اور اپنے اخبار کا بتایا انہوں نے مجھے غیر قانونی طور پر فروخت ہونے والی ادویات کی ایکسکلوزیو سٹوری دے دی دفتر آ کر خبر فائل کی۔ اگلے دن نیا دور کے فرنٹ پیج پر سٹوری نمایاں شائع ہوئی ۔دفتر پہنچا تو پتہ چلا کہ فوراً سے پہلے پہلے بلے صاحب کے پاس پیش ہوں۔ میں نے کہا لو جی اس دفتر سے رخصت کا وقت آ گیا ہے ۔بلے صاحب نے کہا یہ سٹوری تم نے دی ہے ؟!! میں نے ڈرتے ڈرتے کہا جی۔۔۔بلے صاحب نے آفس بوائے کو آ واز دی چائے اور بسکٹ لانے کا کہا میں نے کہا بس چائے کے بعد رخصت ہونگا ۔ابھی تک نہیں سمجھ پایا یہ کیا ہو رہا ہے ۔بلے صاحب مجھے لیکر چیف ایڈیٹر چودھری یونس صاحب کے پاس گئے اور کہا یہ ہے وہ رپورٹر جس نے سٹوری دی ہے اب تو پکا یقین ہوگیا تھا کہ میری پہلی ہی نیوز سٹوری مجھے گھر بھیجنے کا سبب بن رہی ہے ۔چودھری یونس صاحب نے جیب سے 5سوروپے کا نوٹ نکالا مجھے دیتے ہوئے کہا شاباش بہت خوشی ہوئی ہے آج صبح تمہاری خبر کی وجہ سے ڈی سی صاحب اور دوسرا سی ای او ہیلتھ کے فون آ ئے تھے اور اس خبرکے بعد ایکشن لینا چاہتے ہیں ۔بس پھر دم میں دم آ یا کہ نوکری کے دن مزید بڑھ گئے ہیں اور پھر ڈیڑھ سال اس اخبار کے بعد رخصت ہو کر روزنامہ جنگ کے دفتر پہنچا۔ وہاں سے بھی بعض صحافیوں کی آ نکھوں میں کھٹکنے لگا اور ایک ایکسکلوزیو نیوز اور محمود شام صاحب کی داد پر تو میرے رخصت کا پروگرام ایسا بنا کہ ملتان کے بڑے صاحب نے میری بیٹ لینے کے بعد مجھے کمرے میں بلوایا اور کہا اب کیا کرو گے؟ میں نے کہا میرے رب نے جہاں رزق لکھا وہاں جاؤں گا ۔اور رپورٹنگ روم سے ڈائری اٹھائی گھر چلاگیا ۔مرزا گلزار بیگ نے بڑی ڈانٹ پلائی اور کہا جنگ جیسی نوکری کو نہیں چھوڑنا چاہیے تھا ۔
پھر ایک دن کی اوصاف میں نوکری کے بعد میری زندگی میں “ثنا” آ گئ جس کے ساتھ دس بارہ سال کا رشتہ رہا ۔کچھ اور نہ سمجھیں “ثنا”ایک نیوز ایجنسی کا نام ہے ۔دفتر بناکر ساؤتھ پنجاب کی خبریں دیتا تھا ۔ نیوز ایجنسی نے بھی دفتر کلوز کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔صحافت کے اس عرصے میں پریس کلب کی سیاست میں بھرپور حصہ لیا جرنلسٹ گروپ کا صدر بھی رہا اسی عرصے میں امجد بخاری صاحب جوکہ ان دنوں روہی چینل سے وابستہ ہیں بہترین دوست بن چکے تھے۔جب وہ ایکسپریس ملتان سے نئے شروع ہونے والے اخبار دنیا نیوز میں ریذیڈنٹ ایڈیٹر بنکر گئے ۔تو ان دنوں ان سی دوستی یاری کا مثالی رشتہ بھی بن چکا تھا ۔ایک دن میں گلزار صاحب کے دفتر بیٹھا تھا کہ امجد بخاری صاحب آ گئے اور کہا دنیا نیوز میں رپورٹر کی بھرتی کے انٹرویو ہو رہے ہیں تم ضرور آ ؤ ۔میں نے صاف انکار کردیا ۔بخاری صاحب کے جانے کے بعد مرزا گلزار بیگ صاحب نے وہ میری کلاس لی کہ کیا بتاؤں ۔کہا شرم نہیں آ تی تمہارا مخلص دوست ہے کتنے پیار سے بلاررہا تھا اور تم نواب صاحب نے انکار کر دیا ہے۔۔۔اگلے دن بخاری صاحب کو فون کیا اور جوائن کا کہا تو انہوں نے طعنے دینے یا ناراضگی کی بجائے کہا ویلکم خوشی ہوئی ہے تم آ جاؤ ۔بس پھر روزنامہ دنیا میں پوری لگن محنت کے ساتھ چار سال تک شب و روز گزارنے کے بعد ملتان میں ہونے والی ڈاون سائزنگ کی زد میں آ گئے ۔اور اب گزشتہ 6 برس سے سوسائٹی نیوز کے نام سے ادارہ بنا خکر صحافت کی ڈیجیٹل دنیا میں کوشاں ہوں اللہ تعالیٰ کا بیحد شکر گزار ہوں کہ دوستوں کی محبت سے چینل اور فیس بک پیج کامیابیاں سمیٹ رہا ہے ۔اغاصاحب
آپ نے اس صحافت میں دوستوں کی صحافتی خدمات کے سفر کا جو سلسلہ شروع کیا ہے یہ بہت زبردست اور منفرد ہے محبتوں کے اس سفر کی کہانیوں کو آگے تک پہنچانے میں ہر دم آ پ کے ساتھ ہیں ۔میں بھی اپنے صحافی بھائیوں کی خدمات کو سراہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ اس سلسلے کے ساتھ سب سینئر صحافی دوستوں کی صحافتی خدمات کو سامنے لاتے رہیں گے.
روزنامہ سوسائٹی نیوز کی دوسری سالگرہ کے حوالے سے جنوبی پنجاب میں بانی ڈیجیٹل میڈیا جناب امجد سعید کو مبارکباد پیش کی جارہی ہیں تو میں بھی اپنے بھائی دوست کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
بشکریہ جناب آغا محمد علی فرید
ٹیگز:-









































Visit Today : 188
Visit Yesterday : 369
This Month : 11394
This Year : 59230
Total Visit : 164218
Hits Today : 4199
Total Hits : 814297
Who's Online : 7






















