ملتان پریس کلب کے صحافی اور جرنلسٹ کالونی کے مسائل

تحریر: مقبول تبسم

ملک میں صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جو لوگ عوام کے مسائل اجاگر کرتے ہیں وہ خود بھی شدید مسائل اور محرومیوں کا شکار ہیں۔ بالخصوص ملتان پریس کلب سے وابستہ صحافی اور جنرلسٹ کالونی کے الاٹی اس وقت مختلف مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ ہر طرف ایک ہنگامہ برپا ہے۔ جرنلسٹ کالونی میں صحافیوں کو الاٹ کیے گئے پلاٹوں سے مٹی اٹھانے کے مسائل، پلاٹوں کے ٹرانسفر میں رکاوٹیں، تعمیرات میں تاخیر پر جرمانے اور دیگر انتظامی پیچیدگیاں ایسے معاملات ہیں جنہوں نے ملتان کے صحافیوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔
ان مسائل کے حل کے لیے ملتان پریس کلب کے عام صحافی اپنی قیادت کو پکار رہے ہیں، مگر افسوس کہ وہی قیادت جو کبھی صحافیوں کے حقوق کی محافظ کہلاتی تھی، آج سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ وہ قیادت جس نے صحافیوں کے پلاٹوں کے نام پر سیاست اور کاروبار کیے اور جس نے عام صحافی کے بچوں کے مستقبل کا سودا کیا، وہ آج کہاں کھڑی ہے؟ عام صحافیوں کے حقوق بیچ کر کچھ نام نہاد لیڈروں نے اپنے کاروبار نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک تک پھیلا لیے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ 30 سے 40 سال کا تجربہ رکھنے والے سینئر صحافی آج بھی روزی روٹی کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں اور بعض اوقات انہیں “کولو کے بیل” کی طرح مسلسل جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ دوسری جانب وہ لوگ جو خود کو صحافیوں کا رہنما کہتے ہیں، ان کے پاس کوٹھیاں، گاڑیاں، بنگلے اور کاروبار کیسے قائم ہو گئے؟ ان کے بیرون ملک دورے کس مقصد کے لیے ہوتے ہیں اور ان کے اخراجات کہاں سے پورے ہوتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب آج تک سامنے نہیں آ سکے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافیوں کے نام پر حاصل کیے گئے وسائل، فنڈز اور مراعات کا باقاعدہ آڈٹ کیا جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ یہ وسائل کہاں اور کس مقصد کے لیے استعمال ہوئے۔ صحافیوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والے عناصر کا احتساب ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شخص صحافی برادری کے نام پر ذاتی مفادات حاصل نہ کر سکے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بعض بڑے نام، ایڈیٹرز، ریزیڈنٹ ایڈیٹرز اور میڈیا مالکان ایسے گروہوں کے ساتھ کھڑے رہے جنہوں نے صحافیوں کے حقوق کو پس پشت ڈالا۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا انہیں کبھی زندگی کی حقیقتوں کا احساس نہیں ہوتا؟ کیا وہ کبھی قبرستانوں کے قریب سے نہیں گزرتے؟ کیا وہ ہسپتالوں میں مریضوں اور ان کے ورثا کو اللہ کے حضور گڑگڑاتے نہیں دیکھتے؟ اگر یہ سب دیکھتے ہیں تو پھر انہیں خدا کا خوف کیوں نہیں آتا؟
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جو لوگ واقعی صحافت کو ایک مقدس پیشہ سمجھتے ہیں، وہ ملتان پریس کلب کے مظلوم صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ مگر یہ کام وہی کر سکتا ہے جس نے بہتی گنگا میں ہاتھ نہ دھوئے ہوں، جس نے جعلی ممبرشپ کے ذریعے فائدہ نہ اٹھایا ہو اور جس کا دامن صاف ہو۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ آج بہت سے صحافی ایسے حالات سے گزر رہے ہیں جہاں وہ زکوٰۃ لینے کے مستحق ہو چکے ہیں۔ کیا کبھی ان نام نہاد رہنماؤں نے سوچا کہ صحافیوں کے گھروں میں روٹی کیسے پہنچتی ہے؟ کیا انہوں نے کبھی ان کے راشن یا معاشی مسائل کے حل کے لیے کوئی عملی قدم اٹھایا؟
ادھر یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ جو سرمایہ ماضی میں بیرون ملک کاروبار اور جائیدادوں میں لگایا گیا تھا، حالیہ عالمی حالات کے باعث اس کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض بڑے نام ایک بار پھر بیرون ملک دوروں میں مصروف ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ یہ دورے کس مقصد کے لیے ہیں اور ان کے اخراجات کہاں سے پورے ہو رہے ہیں؟
اس تمام صورتحال میں ملتان پریس کلب کی نئی منتخب قیادت، خصوصاً نو منتخب جنرل سیکرٹری اور فنانس سیکرٹری پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر معاملات کو شفاف بنائیں۔ پریس کلب کو ملنے والے فنڈز اور وسائل کا واضح حساب کتاب پیش کیا جائے اور صحافیوں کو اعتماد میں لیا جائے۔
اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حالیہ الیکشن میں صدارت کے امیدوار رہنے والے اشفاق احمد اور شکیل الرحمن حر بھی اپنی ذمہ داری محسوس کریں۔ ان دونوں شخصیات پر بڑی تعداد میں صحافیوں نے اعتماد کا اظہار کیا تھا اور انہیں اپنے ووٹ دیے تھے۔ شکست یا فتح ایک الگ معاملہ ہے، مگر ووٹرز کا اعتماد ایک بڑی ذمہ داری ہوتا ہے۔ انہوں نے بھرپور انتخابی مہم چلائی اور صحافیوں نے ان کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کا ساتھ دیا۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کہاں ہیں؟
یہ تاثر جو پہلے بھی پایا جاتا تھا کہ کچھ لوگ صرف الیکشن کے موقع پر سامنے آتے ہیں اور بعد ازاں غائب ہو جاتے ہیں، اسے ختم ہونا چاہیے۔ اشفاق احمد اور شکیل الرحمن حر سمیت تمام ذمہ دار شخصیات کو چاہیے کہ وہ آگے آئیں، پریس کلب کے معاملات کو دیکھیں اور ان صحافیوں کے تحفظات دور کریں جو اس وقت شدید بے چینی کا شکار ہیں۔
یہ پورے سال کی محنت ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ صرف الیکشن سے ایک ہفتہ قبل گروپ کا اعلان کیا جائے، انتخابی مہم چلائی جائے اور پھر شکست یا کامیابی کے بعد سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو جائیں۔ اس طرزِ عمل سے تنظیمی سیاست کمزور ہوتی ہے اور عام صحافی خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سنجیدہ اور مخلص صحافی آگے آئیں، ایک دوسرے کے بازو مضبوط کریں اور ملتان پریس کلب اور جنرلسٹ کالونی کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کریں۔ جو عناصر صحافیوں کے نام پر لوٹ مار میں ملوث رہے ہیں، ان کا احتساب کیا جائے اور صحافی برادری کے حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے۔ کیونکہ صحافت صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک امانت ہے، اور اس امانت کے ساتھ خیانت کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔