اداروں کی بدانتظامی، فائلوں کی گرد میں انصاف کی تلاش اور عدالتوں کا بڑھتا ہوا بوجھ — ایک سنجیدہ قومی سوال

تحریر: کلب عابد خان
0300-9635323
آج کے معاشرے میں اگر سب سے زیادہ نمایاں اور تشویشناک مسئلہ دیکھا جائے تو وہ سرکاری اداروں میں بڑھتی ہوئی بدانتظامی، غیر شفاف طرزِ عمل، فائلوں کی غیر ضروری تاخیر اور شہریوں کے مسائل کے بروقت حل نہ ہونے کی صورتحال ہے جس نے عام آدمی کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ وہ اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے پر مجبور ہو چکا ہے اور یہ رجحان اب کسی ایک فرد یا کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک عمومی سماجی حقیقت بن چکا ہے جہاں ہر دوسرا شہری کسی نہ کسی ادارے کے خلاف انصاف کی تلاش میں عدالتی دروازے کھٹکھٹا رہا ہے۔
یہ ایک تلخ مگر حقیقت پر مبنی امر ہے کہ وہ ادارے جو عوامی خدمت کے لیے قائم کیے گئے تھے، آج ان کی کارکردگی میں سستی، غیر ذمہ داری اور جوابدہی کے فقدان نے عوامی اعتماد کو بری طرح متاثر کیا ہے اور جب کسی شہری کو اپنے مسئلے کے حل کے لیے دفاتر کے بار بار چکر لگانے کے باوجود کوئی واضح جواب نہ ملے تو وہ مجبوری کے عالم میں آئینی راستہ اختیار کرتا ہے جو کہ عدالتوں کا رخ ہے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ عدالتوں پر پہلے ہی مقدمات کا بے پناہ بوجھ موجود ہے اور اس بوجھ میں مسلسل اضافہ انہی انتظامی کمزوریوں کا نتیجہ ہے جو نچلی سطح پر پائی جاتی ہیں۔
شہری جب کسی دفتر میں جاتا ہے تو اسے اکثر یہی کہا جاتا ہے کہ “فائل زیر غور ہے”، “معاملہ دیکھ رہے ہیں” یا “بعد میں آئیں”، لیکن ان جملوں کے پیچھے جو اصل حقیقت چھپی ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ فیصلہ سازی کے عمل میں شفافیت اور بروقت اقدامات کا شدید فقدان ہے اور یہی غیر یقینی صورتحال شہری کو مایوسی کی طرف دھکیلتی ہے جہاں اس کے پاس عدالت کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔
مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات عدالتوں کے واضح احکامات کے باوجود بھی ادارے ان پر مکمل اور حقیقی معنوں میں عمل نہیں کرتے اور رپورٹنگ کے ذریعے رسمی کارروائی پوری کر دی جاتی ہے جبکہ اصل روحِ حکم یعنی فریقین کو سن کر میرٹ پر فیصلہ کرنا اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں انصاف کا تصور کمزور پڑنے لگتا ہے۔
اگر کسی بھی نظام میں شفافیت، جوابدہی اور میرٹ کو نظر انداز کیا جائے تو وہاں ناانصافی کے احساسات جنم لیتے ہیں اور یہی احساسات معاشرتی بے چینی کو بڑھاتے ہیں کیونکہ جب شہری کو یہ محسوس ہو کہ اس کی بات نہ سنی جا رہی ہے اور نہ ہی اس کے مسئلے کا واضح حل دیا جا رہا ہے تو وہ لازمی طور پر عدالتی راستہ اختیار کرتا ہے اور یہ رجحان کسی بھی مہذب ریاست کے لیے باعثِ فکر ہوتا ہے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ عدالتوں کا بنیادی مقصد انصاف کی فراہمی ہے لیکن جب انتظامی ادارے اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے ادا نہ کریں تو عدالتیں ایک طرح سے انتظامی مسائل کے حل کا مرکز بن جاتی ہیں جس سے عدالتی نظام پر غیر ضروری دباؤ بڑھتا ہے اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر پیدا ہوتی ہے جو کہ خود انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ادارے اپنی داخلی کارکردگی کو بہتر بنائیں، فائلوں کو لٹکانے کے بجائے میرٹ پر فیصلے کریں، ہر شہری کو سنے جانے کا موقع دیں اور واضح، تحریری اور دلیل پر مبنی فیصلے جاری کریں تاکہ شہری کو عدالتوں کے دروازے بار بار نہ کھٹکھٹانے پڑیں۔
اگر اداروں میں شفافیت کو فروغ دیا جائے، افسران کو جوابدہ بنایا جائے اور ہر سطح پر میرٹ کو یقینی بنایا جائے تو نہ صرف عوامی اعتماد بحال ہو سکتا ہے بلکہ عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بھی کم کیا جا سکتا ہے اور نظامِ انصاف اپنی اصل روح کے مطابق مؤثر انداز میں کام کر سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایک مہذب معاشرے کی پہچان صرف اس کے قوانین نہیں بلکہ اس کا عملی نظام ہوتا ہے جہاں شہری کو انصاف نہ صرف حاصل ہو بلکہ بروقت اور شفاف انداز میں حاصل ہو اور جب تک ادارے اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے تب تک عدالتوں کا بوجھ اور عوام کی مایوسی دونوں ساتھ ساتھ بڑھتے رہیں گے۔