مویشی منڈی میں بدانتظامی، اوورچارجنگ اور صحافت پر دباؤ ,,, انتظامیہ کی خاموشی لمحہ فکریہ
مویشی منڈی میں بدانتظامی، اوورچارجنگ اور صحافت پر دباؤ — انتظامیہ کی خاموشی لمحہ فکریہ
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
ملتان کی مویشی منڈی اس وقت صرف ایک تجارتی مرکز نہیں رہی بلکہ یہ سوالات، شکایات اور بدانتظامی کا ایک ایسا گڑھ بنتی جا رہی ہے جہاں عام شہری بھی پریشان ہے اور ذمہ دار صحافی بھی غیر محفوظ دکھائی دیتے ہیں۔ حالیہ واقعہ جس میں صحافی عامر چاند خان کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی، دھمکیاں اور اوورچارجنگ کے خلاف کوریج روکنے کی کوشش کی گئی، نہ صرف قابلِ افسوس ہے بلکہ پورے نظامِ نگرانی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
صحافت کسی بھی مہذب معاشرے میں عوام کی آواز سمجھی جاتی ہے۔ صحافی وہ آنکھ ہوتے ہیں جو معاشرے کے اندر چھپی ہوئی بے ضابطگیوں کو سامنے لاتے ہیں۔ لیکن جب یہی آنکھیں بند کرنے کی کوشش کی جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ نظام میں کہیں نہ کہیں خرابی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ ملتان مویشی منڈی میں پیش آنے والا واقعہ اسی زوال پذیر نظام کی ایک جھلک ہے۔
ذرائع کے مطابق مویشی منڈی میں سرکاری نرخ نامے کے برعکس کئی گنا زیادہ وصولیاں کی جا رہی ہیں۔ بڑے جانوروں کی خرید و فروخت میں عوام کو کھلے عام لوٹا جا رہا ہے، جبکہ انتظامیہ کی موجودگی کے باوجود کوئی عملی کارروائی نظر نہیں آتی۔ سوال یہ ہے کہ اگر سرکاری ریٹ لسٹ موجود ہے تو اس پر عمل درآمد کون کروائے گا؟ اور اگر عمل درآمد نہیں ہو رہا تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟
بدقسمتی سے یہاں صرف مالی بے ضابطگی نہیں بلکہ طاقت کے زور پر خاموش کرانے کی روش بھی سامنے آ رہی ہے۔ جب کوئی صحافی اس صورتحال کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف آزادی صحافت کے منافی ہے بلکہ ایک جمہوری معاشرے کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی خاموشی اس پورے معاملے کو مزید مشکوک بنا رہی ہے۔ اگر انتظامیہ واقعی موجود ہے تو پھر اوورچارجنگ کیوں جاری ہے؟ اگر نگرانی کا نظام فعال ہے تو پھر غیر قانونی وصولیاں کیسے ہو رہی ہیں؟ اور اگر سب کچھ علم میں ہونے کے باوجود کارروائی نہیں ہو رہی تو پھر یہ غفلت ہے یا کسی اور چیز کی طرف اشارہ؟
یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ مویشی منڈی جیسے بڑے عوامی مقامات پر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں کی تنصیب نہ صرف شفافیت کو یقینی بنا سکتی ہے بلکہ ہر قسم کی غیر قانونی وصولیوں کو بھی روکا جا سکتا ہے۔ اگر ہر ٹرانزیکشن، ہر وصولی اور ہر گیٹ انٹری کی نگرانی کی جائے تو نہ صرف سرکاری آمدن محفوظ ہوگی بلکہ عوامی اعتماد بھی بحال ہوگا۔
یہ تجویز بھی وقت کی ضرورت ہے کہ منڈی کے اندر ہر وصولی پوائنٹ پر کیمرے نصب کیے جائیں تاکہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہ ہو سکے۔ جب ہر چیز ریکارڈ پر ہو گی تو نہ صرف بدعنوانی کم ہوگی بلکہ مافیا کلچر بھی ختم ہونے کی طرف جائے گا۔
اصل مسئلہ صرف اوورچارجنگ نہیں بلکہ نظام کی کمزور نگرانی ہے۔ جب نگرانی کا نظام کمزور ہو جائے تو پھر طاقتور عناصر فائدہ اٹھاتے ہیں اور عام شہری نقصان اٹھاتا ہے۔ یہی صورتحال اس وقت مویشی منڈی میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔
مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عوامی نمائندے اور متعلقہ ادارے اس معاملے پر یا تو خاموش ہیں یا غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ عوامی شکایات مسلسل بڑھ رہی ہیں لیکن عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہریوں میں بے چینی اور عدم اعتماد بڑھتا جا رہا ہے۔
صحافت پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہو سکتیں۔ اگر صحافیوں کو ہی نشانہ بنایا جائے گا تو پھر عوام تک سچ کیسے پہنچے گا؟ اور اگر سچ دب جائے تو معاشرہ کس سمت جائے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب صرف بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے دینا ہوگا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ فوری طور پر اس واقعے کا نوٹس لے، ذمہ داران کے خلاف شفاف انکوائری کرے اور مویشی منڈی میں موجود تمام غیر قانونی وصولیوں کا مکمل خاتمہ یقینی بنائے۔ ساتھ ہی صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔
یہ وقت صرف مذمت کا نہیں بلکہ عملی فیصلوں کا ہے۔ اگر اب بھی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بدانتظامی مزید مضبوط ہو جائے گی اور عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ صحافت کو دبانے سے سچ نہیں دب سکتا، اور عوام کی آواز کو روکنے سے مسائل ختم نہیں ہوتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نظام کو درست کیا جائے، نگرانی کو مضبوط بنایا جائے اور قانون کی بالادستی کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔








































Visit Today : 232
Visit Yesterday : 443
This Month : 11069
This Year : 58905
Total Visit : 163893
Hits Today : 2999
Total Hits : 807506
Who's Online : 5





















