ملتان :  آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونر ایسوسی ایشن جنوبی پنجاب وصدر انجمن تاجران جنرل بس اسٹینڈ ملتان۔ رانا اصغر نے کہا کہ انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس میں شامل شقوں 37Aاور37B کومعیشت دشمن اور تاجروں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے ان شقوں کو واپس لینے کا مطالبہ اور کہا کہ حکومت نے ان کاروبار اور تاجر دشمن شقوں کو ختم نہ کیا تو ملک بھر کے تاجر اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے ۔گزشتہ روز جاری بیان کے مطابق رانا اصغر نے کہا کہ پاکستان کے تاجر ٹیکس دیتے ہیں تو ملکی معیشت کا پہیہ چلتا ہے لیکن اگر تاجروں کے کاروبار کو ایسی شقوں کی وجہ سے بند کرنے، ان کے اکاونٹس منجمد کرنے کی کوئی بھی حرکت کی گئی تو یہ قابل قبول نہیں ہوگی پہلے ہی تاجروں کے کاروبار پر شب خون مارا جا رہا ہے ایسے میں انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس کی شق 37A اور 37B کے تحت ایف بی آر کے افسران کو گرفتاریوں ،اکاونٹس منجمد کرنے اور فراڈ کے کیسز بنانے کا اختیار دینے کو ہم نہیں مانتے ہم اسے نہ صرف مسترد کرتے ہیں بلکہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس پہ تاجر قائدین پر مشتمل کمیٹی بنا کر اس معاملے کو حل کیا جائے اور کاروبار دوست پالیسیاں بنائی جائیں ایسی حرکتوں سے ملک میں نا تو سرمایہ کاری آ سکے گی اور نا ہی کوئی یہاں اپنا کاروبار کرے گا ایک ایسے وقت میں جب معیشت کو چلانے کے لئے عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لیا جاتا ہے اور معیشت زبوں حالی کا شکار ہے ایسے میں ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے تاجروں کو ایسی گھناونی شقوں سے ڈرانے کی کوشش اور تاجروں کو گرفتار کرنے کے اختیار ایف بی ار افسران کو دینے کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونگے اگر حکومت نے ان شقوں کا خاتمہ نا کیا تو ملک بھر کے تمام چیمبر آف کامرس اور تاجر قائدین کے ساتھ مشاورت کے ساتھ آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے