رشتوں کی اہمیت تنہائی کی خاموش موت

تحریر: ایس پیرزادہ

ہر انسان زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر فیصلے کرتا ہے کبھی وہ فیصلے اپنی خوشی کے لیے ہوتے ہیں کبھی اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے آگر کوئی گھر کی بیٹی یآ بیٹا اپنی زندگی کے کسی پہلو میں کسی بھی کام میں پسندیدگی کا اظہار کرتا ہے یا کوئی فیصلہ کرتاہے تو گھر والوں کا فرض ہے اسے سنیں سمجھیں اس کا ساتھ دیں ہم میں سے ہر ایک اللہ پاک کی تخلیق ہے اور اللہ پاک نے ہر ایک میں کوئی قابلیت اور ہنر صلاحیت رکھی ہے بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ اکثر ان صلاحیتوں کو دبانے کی کوشش کرتا ہے خاص طور پر جب وہ کسی عورت کے انفرادی فیصلوں کی صورت میں آئیں والدین بہن بھائی اور رشتے دار اگر ان فیصلوں کو اپنی انا یا عزت کا مسئلہ بنا لیں تو نتیجہ اکیلا پن ذہنی دباؤ اور سماجی تنہائی کی شکل میں نکلتا ہے
چند ہفتے پہلے ایک افسوسناک خبر دل دہلا گئی مشہور اداکارہ عائشہ خان کی لاش کراچی کے ایک فلیٹ سے سات دن بعد ملی اس کے بعد ماڈل اور اداکارہ حمیرہ اصغر کی لاش ڈیفنس کراچی کے ایک فلیٹ سے تقریباً ایک ماہ بعد برآمد ہوئی ان دونوں خواتین کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ اکیلا رہنا پسند کرتی تھیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا تنہائی واقعی ایک ذاتی پسند ہے یا معاشرتی بے رخی اور لاپرواہی کا نتیجہ؟
یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں رشتوں کی اصل اہمیت کو سمجھنے اور محسوس کرنے کی ضرورت ہے
باپ بھائی شوہر یا بیٹے کی صورت میں مرد کا موجود ہونا صرف معاشرتی ڈھانچے کا حصہ نہیں بلکہ ایک تحفظ اور سہارا ہے۔ لیکن اگر یہ سہارے موجود نہ ہوں تو کم از کم زندگی میں کوئی ایک ایسا شخص ضرور ہونا چاہیے جو آپ کی خیریت جانتا ہو۔ کیونکہ زندگی کسی بھی لمحے ختم ہو سکتی ہے کوئی تو ہونا چاہیے جو موت کے وقت آپ کو قبلہ رخ کرے غسل دے کفن پہنائے اور دفن کرے
حمیرہ اصغر کی لاش کی شناخت کے لیے جب ان کے خاندان سے رابطہ کیا گیا تو باپ اور بھائی نے لاش لینے سے انکار کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ لاش لاوارث قرار دے دی گئی یہ صرف ایک انسان کی تنہائی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی بے حسی اور زوال کا نوحہ ہے
ہم نے سوشل میڈیا کی چمک دمک کو زندگی کا معیار سمجھ لیا ہے۔ اصل رشتے اصل احساسات اصل درد سب کچھ اس رنگین پردے کے پیچھے دب چکا ہے عائشہ خان اور حمیرہ اصغر جیسی خواتین جو زندگی میں لاکھوں کی توجہ کا مرکز تھیں اپنی آخری سانسیں تنہائی کی اذیت ناک خاموشی میں لیتی رہیں
اسلام ہمیں اکیلے رہنے کا نہیں، بلکہ جڑ کر رہنے رشتے نبھانے اور ایک دوسرے کا سہارا بننے کا درس دیتا ہے
جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے
(سورۃ النساء، آیت 1)
اور اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتہ داریوں (کی بے حرمتی) سے بچو۔ بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے
خواتین اگر تنہا زندگی گزار رہی ہوں تو انہیں چاہیے کہ کم از کم ایک ایسا فرد اپنے قریب رکھیں جو ان کی خبر گیری کر سکے۔ یہ احتیاط صرف جسمانی تحفظ کے لیے نہیں بلکہ عزتِ نفس اور انسانی وقار کے لیے بھی ضروری ہے
اللہ تعالیٰ عائشہ خان اور حمیرہ اصغر کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں یہ شعور دے کہ ہم زندگی میں اپنے رشتوں کو پہچانیں ان کی قدر کریں اور ایک دوسرے کا سہارا بنیں
حقوق اللہ کی معافی ہے حقوق العباد کی نہیں باپ بھائی دل بڑا کر کے مرحومہ کی تدفین کریں بطور انسان بطور مسلمان ہماری یہ ذمداری ہے