پشاور: پشاور ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کی تقسیم سے متعلق الیکشن کمیشن آف پاکستان کے 2024 کے اعلامیے کو معطل کر دیا ہے۔یہ فیصلہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر دیا گیا، جس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے مخصوص نشستوں کی تقسیم پر اعتراض اٹھایا گیا تھا۔ دو صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کے دونوں اعلامیے کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ سیٹوں کی الاٹمنٹ کی ہدایت کی ہے۔عدالت نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ وہ دس دن کے اندر تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو سن کر مخصوص نشستوں کی نئی تقسیم کرے۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ جب تک نیا فیصلہ سامنے نہیں آ جاتا، مخصوص نشستوں پر کسی بھی رکن سے حلف نہ لیا جائے۔درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ مسلم لیگ ن نے پانچ جنرل نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، بعد ازاں دو آزاد امیدوار پارٹی میں شامل ہوئے جس کے بعد ان کی کل نشستیں سات ہو گئیں۔ تاہم، الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم 22 فروری کو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے صرف چھ ارکان شمار کیے، حالانکہ ایک آزاد رکن ملک طارق اعوان نے 23 فروری کو مسلم لیگ ن جوائن کی تھی۔عدالت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے مخصوص نشستوں کی تقسیم کے عمل پر سوالات اٹھائے، بالخصوص اس بات پر کہ 22 فروری کو پارٹی پوزیشن کے مطابق چند مخصوص نشستیں دی گئیں جبکہ دیگر کا فیصلہ بعد میں کیا گیا، جس پر ججز نے ریمارکس دیے کہ یہ طرز عمل منطقی نہیں۔الیکشن کمیشن کے سپیشل سیکرٹری لا اور وکلا سمیت مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے وکلا نے دلائل دیے۔ عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جوسنا دیا گیا۔