ملتان :  سینئر صحافی میڈیا اونرز سوسائٹی کے صدر اور آل پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن پاکستان کے مرکزی چیرمین عمرفاروق نے جرنلسٹ پروٹیکشن بل منظور ہونے پر اسے خوش آئند اور صحافتی اقدار و منصب کی ادائیگی کیلئے بہتر راہ قرار دیا ھے۔ بنیادی طور پر جرنلسٹ پروٹیکشن بل ھے کیا، اس بارے میں اس کا مفہوم جانتے ہیں کہ کسی بھی صحافی کو زبان درازی، گالم گلوچ یا تشدد کا نشانہ بنانے پر ناقابلِ ضمانت مقدمہ درج کیا جائے گا۔ ذرائع کے بارے میں معلومات لینے کیلئے دباؤ ڈالنے کو بھی جرم تصور کیا جائے گا۔ صحافی کو پیشہ وارانہ کام سے روکنے یا ڈرانے دھمکانے پر ملوث شخص یا ادارے کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔ سینئر جرنلسٹ عمرفاروق نے کہا ہے کہ یہ بل صحافیوں کو مزید بااختیار اور محفوظ بنائے گا، اور آزاد صحافت کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا مزید برآں انھوں نے کہا کہ وفاق و صوبائی حکومتوں کے ادارے نشر و اطلاعات کو اس بابت جرنلسٹ پورٹل کا اجراء کرنا اب لازم بن چکا ھے تاکہ رجسٹرڈ و پروفیشنل صحافیوں کی شناخت کا عمل ایک انگلی کے ٹچ پر بآسانی ہوسکے اور وی وی آئی پیز کانفرنس سمیت دیگر اہم ترین مقامات کی اجازت کیلئے بآسانی تصدیق کیلئے معاون ثابت ہوسکے۔  عمرفاروق نے کہا ھے کہ عصر حاضر کمپیوٹر و جدید ٹیکنالوجی کا ھے اب ڈیٹا سمیت بڑے سے بڑے امور کم وقت بہتر امور کیلئے پورٹل اور اپلیکیشن کے ذریعے استعمال عام ہوچکے ھیں اس لئے جرنلسٹ پورٹل و اپلیکیشن وقت کی ضرورت بن چکی ھے۔ جرنلسٹ پورٹل و اپلیکیشن میں یوجیز و کلبس سے جاری ممبران کے ڈیٹا وفاق و صوبائی حکومتوں کو بہم کئے جائیں تاکہ حکومتی ادارے نشر و اطلاعات اسے جرنلسٹ پورٹل و اپلیکیشن میں شامل کرسکیں۔ اس پورٹل و اپلیکیشن سے جعل ساز و دھوکہ باز اور بلیک میلنگ کرنے والے صحافیوں کے ہاتھ پاؤں کٹ جائیں گے اور صحافت و صحافیوں کو بدنام کرنے والوں کے رستے بند بھی ہو جائیں گے عمرفاروق نے ملک بھر کے پریس کلب اور پی ایف یو جے کے عہدیداران اور پاکستان کی تمام صحافتی تنظیموں سے استدعا و گزارش کی ھے کہ وہ اس بابت اپنا اپنا مثبت و موثر کردار ادا کرکے پروفیشنل صحافت کو تحفظ فراہم کرنے میں ضرور اپنا کردار ادا کریں کیونکہ آپ سب ہمارے سر کا تاج ہیں۔