ملتان(صفدربخاری سے )متحدہ مسلم موومنٹ پاکستان کے زیر اہتمام مدنی ہاؤس ملتان میں 25 ویں سالانہ شہدائے کربلا کانفرنس کا انعقاد گزشتہ روز کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ڈاکٹر محمد اکمل مدنی نے کہا کہ نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی میدان کربلا میں ناقابل تصور قربانی ہے جسے تاقیامت فراموش نہیں کیا جاسکتا،امام عالی مقام نے یزیدی قوتوں کے سامنے ڈٹ کر یہ پیغام دیا ہے کہ دین اسلام کی بقاء اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا چاہیے اس کیلئے آپ کو اپنی جان ہی قربان کیوں نہ کرنی پڑ جائے،عالم اسلام درس کربلا کو مشعل راہ بنا کر آگے بڑھے تو اسلام دشمن قوتوں کے خاتمے کے ساتھ ان کے ظلم و ستم کے سامنے بھی بند باندھا جاسکتا ہے،فرقہ واریت اور قوم پرستی دشمن کے مضبوط ہتھیار ہیں وہ مسلم امہ کو شیعہ سنی کی تفریق اور بلوچی،سندھی،پنجابی اور سرائیکیستان میں الجھا کر اپنے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچا رہا ہے ان کے مقابلے اتحاد و اتفاق کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے،ایران اور پاکستان نے دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر عالم اسلام کا سر فخر سے بلند کردیا ہے،امت مسلمہ کو غزہ کے مسئلے پر متحد ہونے کی ضرورت ہے آخر مسلمان کب تک خاموش رہ کر اپنی اپنی باریوں کا انتظار کرتے رہیں گے۔شہدائے کربلا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ اللہ دتہ کاشف بوسن،ایڈووکیٹ اطہر شاہ بخاری،علامہ عنایت اللہ رحمانی،ایڈووکیٹ وسیم ممتاز،ملک سلطان محمود،رکن صوبائی اسمبلی محمد ندیم قریشی،ایڈووکیٹ بابو نفیس انصاری، صاحبزادہ سلیمان،رانا اسلم ساغر،علی رضا گردیزی،علامہ عباس،ملک عمران یوسف، ایڈووکیٹ محمد حسین بابر،ایڈووکیٹ عظیم الحق پیرزادہ،علامہ محمد ایوب مغل،مفتی محمد عثمان پسروری نے کہا کہ حضرت امام حسین کی تعلیمات پوری انسانیت کیلئے ہیں جس طرح دین اسلام پوری انسانیت کیلئے ہے کیونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اسلام کو بچانے والی شخصیت بھی پوری دنیا کی محسن ہے آپ نے اسلام کی سربلندی کیلئے قربانی دی اور سر کٹا کے باطل کو یہ پیغام دیا کہ باطل کے سامنے سر کٹایا تو جا سکتا ہے لیکن جھکایا نہیں جا سکتا،کلمہ پڑھ کر مسلمان بننا آسان ہے بھرا گھر لٹا کے دین بچانا بہت مشکل ہے اور یہ مشکل کام حضرت امام حسین نے انجام دیا اس لئے حضرت محمد ء نے فرمایا تھا حسین مجھ سے ہے میں حسین سے ہوں۔سید زاہد وقاص کشمیری،انجینئر ممتاز احمد خان،،حافظ عمر قریشی،مخدوم سید محمد غوث گیلانی،خالد محمود فاروق،اسد عباس مگسی،صاحبزادہ سلیمان،اشرف قریشی،شہزاد خان،عبدالماجد وٹو،نعیم اقبال نعیم نے کہا کہ خانوادہ رسالت ماب کے خلاف جنگ کرنے والے دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا ہو گئے اور جنہوں نے سید حضرت امام حسین علیہ السلام کا ساتھ دیا وہ حق پر کھڑے رہے باطل مٹ گیا اور حسینیت قیامت تک دین اسلام کی حفاظت کرتی رہے گی ہم اج بھی اسوہ رسالت ماب پیروی اہل بیت وصحابہ کرام پر عمل کر کے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔اس موقع پرشیخ عبدالحمید قادری،حسیں ب خان،محمد ندیم ملک،مفتی محمد شریف سعیدی،خالد وارثی،محمد اشرف،ملک منظور اعوان،ثاقب جاوید،فراز ملک،رضوان حسین،محمد صادق،رانا احمد،اعظم نقشبندی،ساجد نواز،فہیم ممتاز،ایم عابد معراج،میاں عمر فاروق،حافظ محمد اسلم،حکیم عمر فاروق،میاں محمد ماجد،عبدالقادر،گلریز،حافظ مشتاق،نورالامین خاکوانی،سید علی رضا گردیزی،سلیم عباس صدیقی،شیخ تنویر احمد،محمد عباس،محمد فاروق معراج،حبیب الرحمن اور یاسر شیخ سمیت سیاسی و سماجی رہنما، علماء کرام، ڈاکٹرز،وکلاء اور سول سوسائٹی کے نمائندگان سمیت ہر طبقہ فکر کے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔شہدائے کربلا کانفرنس کے اختتام پر پاکستان کی تعمیر و ترقی اور مسلم امہ کی بقاء و سلامتی اور فلسطین و مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کیلئے خصوصی دعا بھی کی گئی۔